Khursheed Nadeem 81

مذہبی افسانے

یہ دین نہیں، دین کے نام پرشہرت پانے والے افسانے ہیں جو مذہب کو کٹہرے میں لاکھڑا کرتے ہیں۔
حسنِ ظن ہے کہ اس افسانہ تراشی کا سبب نیک ہوتا ہے‘ جیسے لوگوں کو دین کی طرف راغب کرنا۔ اچھائی کی تعلیم دینا۔ حرمتِ دین کے باب میں حساسیت پیدا کرنا۔ غلطی کا معاملہ مگر یہ ہے کہ اس کا محرک نیک ہی کیوں نہ ہو، اس کا مآل اچھا نہیں ہو سکتا۔ یہی سبب ہے کہ ہمارے محدثین نے اس کام میں عمریں کھپادیں کہ جواہر کو سنگ ریزوں سے الگ کریں۔ روایات میں صحیح اور ضعیف کا فرق واضح کریں۔ فقہا نے یہ سمجھانے میں اپنی ساری توانائیاں صرف کر ڈالیںکہ دین کے احکام کی بنیاد محکم روایات پررکھی جاتی ہیں،کمزور اور سنائی سنائی بات پر نہیں۔
یہ اس لیے ضروری تھا کہ مذہب کے معاملات کہیں غیرسنجیدہ ہاتھوں میں نہ چلے جائیں۔ لوگ اپنی بے احتیاطی کے سبب، دین کو ایک ایسی بات کے لیے کٹہرے میں لاکھڑا کریں جس کی دین کی طرف نسبت ہی ثابت نہیں۔ صوفیا اور واعظین نے نیکی کے فروغ کے لیے تساہل کا مظاہرہ کیا اور روایات کوتنقید کے بغیر قبول کیا جس سے فتنوں کو داخلے کا راستہ مل گیا۔ کوئی اس کوسمجھنا چاہے توامام غزالیؒ کی ‘احیاء العلوم الدین‘ کو دیکھ لے۔ جب ایک بے بنیاد بات تسلسل سے نقل ہونے لگے تودین کے مسلمات میں شمار ہونے لگتی ہے۔
ایک مثال سے بات مزید واضح ہو جائے گی۔ ایک جملہ ہے ‘علم حاصل کرو، چاہے چین جانا پڑے‘ اسے ارشادِ پیغمبر کے طور پر بیان کیا جاتاہے حالانکہ یہ حدیث کی کسی کتاب میں موجود نہیں۔ اس کی شہرت کا یہ عالم ہے کہ شیخ علی ہجویریؒ جیسی شخصیت نے ‘کشف المحجوب‘ میں اسے حدیث کے طور پر نقل کیا۔ اس جملے میں کہی گئی بات اپنے طورپر درست ہے مگر کسی بات کا بطور قولِ رسول مشہور ہونا، درآں حالیکہ آپﷺ نے وہ نہیں فرمائی، ایک ایسی بات کو دین بنا سکتی ہے جو دراصل دین نہیں۔ اس کی سنگینی کواس امت کے جید علما نے ہمیشہ محسوس کیا اورکسی بات کو رسول اللہﷺ کی طرف نسبت دینے میں بہت احتیاط کا مظاہرہ کیا۔
یہ رویہ جن خطرناک نتائج کا حامل ہوسکتا ہے، ان دنوں ہم وہ نتائج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ایک بات کوبطور حدیث بیان کیا گیا اورپھر اسے ایک نعرہ بنادیا ‘من سب نبیاً فقتلوہ‘۔ جو نبیوں کی توہین کا مرتکب ہو، اسے قتل کردیا جائے۔ یہ بات حدیث کی کسی معتبر کتاب میں نقل نہیں ہوئی۔ نہ موطا امام مالک میں نہ صحاحِ ستہ میں۔ حدیث کے تمام بڑے علما نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ علما متفق ہیں کہ ایسی کمزور روایت کسی فقہی حکم کی بنیاد نہیں بن سکتی۔
اس روایت کونعرہ بنانے کا ایک اور نقصان یہ ہواکہ اسے عام مسلمان کا فریضہ قراردے دیا گیا۔گویا فرضِ عین کی نوعیت کا کوئی حکم ہے جس کا مخاطب ہرمسلمان ہے۔ علما متفق ہیں کہ سزا دینا عدالت کا کام ہے۔ کس فرد کویہ حق حاصل نہیں کہ وہ خود ہی مدعی بنے، منصف بنے اور سزا بھی نافذ کردے۔ جب یہ نعرہ عام اجتماعات میں گونجتا ہے تو دراصل وہی پیغام دیتا ہے جس پرسیالکوٹ میں اوراس سے پہلے پیش آنے والے واقعات میں عمل کیا گیا۔
علما جب سیالکوٹ کے واقعے کی مذمت کررہے ہیں تو لازم ہے کہ وہ عوام کے ساتھ ساتھ، جو تنظیمیں اس طرح کے نعروں سے عوامی جذبات کومشتعل کرتی ہیں، ان کے ذمہ داران کو بتائیں کہ دین کے نام پر غیرمصدقہ روایات کو فروغ دینے سے خود دین اور مسلمانوں کوکیا نقصان پہنچتا ہے۔ اس سے پہلے خلافت کے نام پراٹھنے والی تنظیموں اورمیڈیا میں ان کا مقدمہ پیش کرنے والے دانشوروں نے یہی رویہ اپنایا اور ‘بابِ الفتن‘ کی ضعیف روایات کا اطلاق عصری تنظیموں پرکیا اورانہیں دینی استدلال فراہم کیا۔ اس کی وجہ سے جس طرح دین کے نام پر قتل و غارت گری کا ایک بازار گرم ہوا، وہ ہماری تاریخ کا ایک افسوسناک باب ہے۔
اس تجربے کے بعد مزید ضروری ہوگیا تھاکہ ہمارے علما متنبہ ہوتے اوراس باب میں عوام کی تعلیم کرتے۔ وہ انہیں بتاتے ہیں کہ دین میں احکام کیسے مرتب ہوتے ہیں۔ فقہا کا اختلاف کیا ہوتا ہے اورفیصلہ کا حق کیوں عدالت ہی کے پاس ہے۔ ان معاملات میں توکوئی عوامی تحریک اٹھانے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، جن پرملک میں قانون موجود ہو۔
پاکستان میں مذہب کے نام پر فتنہ و فساد اس وقت شروع ہوا جب مذہب کے نام پر عوامی تحریکیں برپا ہوئیں۔ اس کا یہ نتیجہ نکلاکہ مذہبی طبقات کی قیادت جید علما کے بجائے شعلہ بیان خطیبوں کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ انہوں نے حسبِ عادت ہراس کمزور روایت کودین کے نام پر بیان کرنا شروع کیا جس سے ان کے موقف کو تقویت مل سکتی تھی۔ یہ دراصل اسی رویے کی توسیع تھی جو اس سے پہلے واعظین اور صوفیا نے لوگوں کو نیکی کے طرف متوجہ کرنے کے لیے اختیار کیا تھا۔
ماضی میں تفقہ فی الدین رکھنے والی شخصیات بروقت متوجہ ہوئیں اور انہوں نے صحیح اور ضعیف روایات کو الگ کرنے کی خدمت سرانجام دی تاکہ دین کے نام پر ایسی باتیں عوام میں نہ پھیلیں جو غیرمصدقہ ہیں۔ ‘الموضوعات الکبریٰ‘ جیسی کتب مرتب کیں جن میں ضعیف روایات کو جمع کیا تاکہ لوگ ان کے بارے میں خبردار رہیں۔ عوامی سطح پر مگراس کا باب بند نہ ہوسکا۔ واعظین نے اسے نیکی پھیلانے کے ایک ذریعے کے طور پراختیار کیے رکھا۔
ایک مقبول ومحترم واعظ کو میں نے اس جانب متوجہ کیا تو انہوں نے یہی دلیل دی کہ اخلاقی معاملات میں کمزور روایات کو بیان کیا جا سکتا ہے۔ میں نے ان کی خدمت میں یہ عرض کیا کہ جب ایک دفعہ یہ دروازہ کھل جاتا ہے تو پھرقانونی اور غیرقانونی کی تقسیم باقی نہیں رہتی۔ افسوس کہ ایسا ہی ہوا۔ آج اسی طرح کی کمزور روایات سے قتل کا جواز پیش کیا جارہا ہے اور انہیں عوامی نعروں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ سیالکوٹ میں جن نوجوانوں نے اپنے جرم کا فخر کے ساتھ اعتراف کیا، ان کی وڈیو سوشل میڈیا پر موجود ہے۔ سنا جا سکتا ہے کہ یہ نوجوان اور ہجوم اسی نعرے کو اپنے فعل کا محرک قراررہے ہیں۔
اللہ کے آخری رسول سیدنا محمدﷺ کو اس بات کا اندازہ تھا۔اس لیے آپ نے بروقت متنبہ کرتے ہوئے فرمایا: ”مجھ پر جھوٹ باندھنا، کسی عام آدمی پر جھوٹ باندھے کی طرح نہیں ہے۔ جو شخص مجھ سے جان بوجھ کر ایک جھوٹی روایت منسوب کرے، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے‘‘ (صحیح بخاری)۔ اسی مضمون کی روایت صحیح مسلم میں بھی موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب نبیﷺ کی طرف ایک روایت کی نسبت ثابت نہیں توکوئی عالم اسے بطورِ حدیثِ رسول کیسے بیان کر سکتا ہے؟ کیا اس کی نظر سے رسول اللہﷺ کا یہ ارشادِ گرامی نہیں گزار جسے محدثین نے صحیح حدیث قرار دیا ہے؟
اس طرح کی روایات کیسے گھڑی جاتی ہیں اور انہوں نے اس امت کو کتنا نقصان پہنچایا، کوئی اس کوسمجھنا چاہے تواسے مولانا حبیب الرحمان کاندھلوی کی کتاب ”مذہبی داستانیں اور ان کی حقیقت‘‘ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ آج شہرت کے حامل کچھ لوگ اپنی آنکھوں سے اس تساہل کے نتائج دیکھ رہے ہیں۔ وہ نہ صرف یہ کہ منع نہیں کرتے بلکہ اس رویے کی حوصلہ افزائی اور ایسے گروہوں کی سرپرستی کرتے ہیں۔ ان کی مذمت پھر نتیجہ خیز کیسے ہوگی؟

یہ بھی پڑھیں: -   انتیسویں پارے کا خلاصہ
Khursheed Nadeem
خورشید ندیم

تکبیر مسلسل

کالم نگار کے مزید کالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں