adnan-khan-kakar 112

کپتان سیاست صرف عزت کے لیے کرتا ہے

آج وزیراعظم عمران خان کے انٹرویو کے اقتباسات نظر سے گزرے۔ انہوں نے امریکی عالم شیخ حمزہ یوسف کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی ناکامیوں سے سیکھتے ہیں، جب آپ ناکام ہوتے ہیں تو پھر آپ حالات کا بہتر تجزیہ کر سکتے ہیں۔

خان صاحب کی اس بات سے ہر ذی شعور شخص اتفاق کرے گا۔ اور ہمیں اس بات کی خوشی بھی ہے کہ اب عمران خان صاحب حالات کا بہتر تجزیہ کرنے کی پوزیشن میں آ چکے ہیں۔ اس بات کا اندازہ خان صاحب کے ان جملوں سے بھی ہوتا ہے کہ انسان کے اندر غیرت بہت ضروری ہے، عزت دار شخص کو کبھی خود کو ذلت میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سچا ایمان آپ کو اپنی انا پر کنٹرول کرنا سکھاتا ہے، انا کسی بھی شخص کو برباد کر دیتی ہے۔ اس بات سے تو پوری قوم اتفاق کرے گی۔

انہوں نے مزید فرمایا کہ مذہب کے معاملے میں کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کی جا سکتی۔ ہمیں امید ہے کہ انہوں نے مذہبی عالم حمزہ یوسف صاحب کو اپنی قائم کردہ رحمت اللعالمین اتھارٹی کے مقاصد سے روشناس کرواتے ہوئے ان سے دعا کی درخواست بھی کی ہو گی اور نکاح نامے اور ووٹر فارم میں تبدیلی کے متعلق بھی یہ غلط فہمی دور کی ہو گی کہ اس کا کوئی تعلق مذہبی جبر سے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ بیس برس ان کی کردار کشی کی گئی، ان کی بے عزتی کے لیے جعلی خبریں لگوائی گئیں لیکن انہیں یقین تھا کہ کوئی شخص ان کی بے عزتی نہیں کر سکتا۔ اس بات سے بھی متفق ہوئے بغیر چارہ نہیں۔ خاص طور پر ان کو بے عزت کرنے کی خاطر جو پینتیس پنکچر والا جھوٹ گھڑا گیا تھا، اس کی وجہ سے انہیں عدالت کے سامنے خفت اٹھائی پڑی لیکن شکر ہے کہ کوئی بے عزتی نہیں ہوئی۔ ویسے بھی یہ تو محسوس کرنے کی چیز ہے، بندہ استقامت اور خود راستی کا پہاڑ ہو تو کوئی شخص اس کی بے عزتی کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: -   ’عورت مارچ‘ کا منشور

خبر میں جو اہم جملہ ان سے منسوب کیا گیا ہے وہ یہ تھا ”عزت دار شخص کو کبھی خود کو ذلت میں نہیں ڈالنا چاہیے“ ۔ فی الحال ہم یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں کہ وہ کس شخص کے متعلق یہ کہہ رہے تھے۔ بہرحال ہم عمران خان صاحب سے متفق ہیں کہ کسی کی اچھی بھلی عزت بنی ہو تو اس کا یوں خود کو ذلت میں ڈالنا نامناسب بات ہے۔

اس عزت اور سیاست کے جوڑ پر ہمیں ایک ولایتی واقعہ یاد آ گیا۔

روایت ہے کہ ایک قصبے کا نیا میئر منتخب ہوا تو شہر کے ایک اخبار کا رپورٹر اس کا انٹرویو لینے کی نیت سے وہاں پہنچا۔ میئر سے ملنے سے پہلے اس نے مناسب سمجھا کہ قصبے کے لوگوں میں اس کا تاثر جانا جائے۔ وہ ایک عوامی ڈھابے پر پہنچا اور انڈا شامی برگر کھاتے ہوئے برگر والے سے پوچھا ”نیا میئر کیسا آدمی ہے؟“

برگر والے نے مشتعل ہوتے ہوئے کہا ”ایک نمبر کا فراڈ ہے۔ اس نے جو بھی وعدے کیے تھے ایک بھی پورا نہیں کیا۔ کہتا ہے کہ مجھے تو پتہ ہی نہیں کہ حالات ایسے ہیں کہ وہ کرنا ممکن ہی نہیں جس کا وعدہ کیا تھا۔ میں تو اسے یہ دس روپے کا برگر تک ادھار نہ کھلاؤں۔ خدا پوچھے گا اسے“ ۔

سہ پہر کو ایک مارکیٹ میں آئس کریم کھاتے ہوئے اس نے ایک مائی سے پوچھا ”اماں یہ شہر کا نیا میئر کیسا آدمی ہے؟“

مائی شعلہ جوالا بن گئی۔ دانت پیستے ہوئے بولی ”ایک نمبر کا بدکردار شخص ہے۔ جب دیکھو کسی نئی لڑکی کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ میری تو سمجھ سے باہر ہے کہ اس کی بیوی یہ سب کیسے برداشت کرتی ہے۔ میں تو سب عورتوں کو کہتی ہوں کہ اس سے بچ کر رہیں۔ بہت برا آدمی ہے۔ خدا اس کا حساب کرے گا“ ۔

یہ بھی پڑھیں: -   بنتے بگڑتے دائروں کے درمیاں

شام کو ایک پب میں اس نے بار ٹینڈر سے پوچھا ”دوست یہ نیا میئر کیسا آدمی ہے؟“

گلاس صاف کرتے ہوئے بار ٹینڈر نے اتنی سختی سے مٹھی بھینچی کہ گلاس ٹوٹتے ٹوٹتے بچا۔ ”اس پر ایک دھیلے کا اعتبار مت کرنا۔ میرے ساڑھے نو سو ڈالر اس نے دو سال سے دبائے ہوئے ہیں۔ جب بھی آتا ہے مفت پی جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اگلی باری سب حساب چکتا کر دے گا۔ مجھے نہیں بخشا تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہاں بلدیہ میں بھی کھانچے نہ لگاتا ہو؟ خدا اسے نہیں چھوڑے گا۔“

اندھیرے میں پب سے باہر نکلتے ہی اس کا پیر گندے پانے میں جا پڑا اور وہ پھسل کر نیچے گرا۔ ایک آدمی نے اسے سہارا دے کر اٹھایا اور کہنے لگا ”خدا جانے ہمارے شہر پر یہ کیا عذاب نازل ہوا ہے۔ اس سے زیادہ نااہل میئر تو ہماری تاریخ میں کوئی دوسرا نہیں گزرا۔ یہاں پہلے سٹریٹ لائٹ ہوا کرتی تھی اور سیوریج کا سسٹم بہترین تھا۔ اس کے آتے ہی سارے بلب بھی غائب ہو گئے اور صفائی کا سسٹم بھی برباد ہو گیا۔ انتہائی ناکارہ بندہ ہے۔ خدا غارت کرے اسے“ ۔

وقت ہو چکا تھا۔ رپورٹر نے میئر کے دفتر کا رخ کیا۔ میئر نے باتیں شروع کیں تو لگا کہ اس کی آمد کے بعد سے شہر کا نظام ہی بدل گیا ہے۔ پہلے بہت برے حالات تھے اور اب سب بہت اچھا چل رہا ہے۔ رپورٹر نے موقع دیکھا تو ایک سوال داغ دیا جو لوگوں کے تاثرات سن کر اس کے ذہن میں بہت دیر سے مچل رہا تھا۔ ”آپ نے بتایا کہ آپ کا بہت اچھا کاروبار چل رہا تھا۔ پھر کیا وجہ ہوئی کہ آپ نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کر لیا؟“

یہ بھی پڑھیں: -   سرکاری نرخ سے آدھی قیمت پر سبزیاں فروخت کرنے والا پکڑا گیا

میئر مسکرایا اور بولا ”خدا کا دیا سب کچھ تھا۔ دولت تھی، شہرت تھی، مقبولیت تھی، خدا کے فضل سے کسی چیز کی ضرورت نہیں تھی۔ میں نے سوچا کہ اپنے قصبے کے لوگوں کی خدمت کرنی چاہیے تاکہ ان کی دعائیں سمیٹوں۔ بس عزت کی خاطر سیاست میں آنا پڑا ہے۔ اب پورا قصبہ جھولیاں اٹھا اٹھا کر خدا سے میرے بارے میں دعائیں کرتا ہے“ ۔

adnan-khan-kakar
عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مزید کالم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں