Khursheed Nadeem 94

کیا ہمارے خاندانی نظام کو مغرب سے خطرہ ہے؟

” مغربی تہذیب‘ ہمارے خاندانی نظام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔‘‘
تین نسلوں سے ہم یہ بات سن رہے ہیں۔ انگریزوں کی آمد کے ساتھ ہمارے ہاں یہ احساس گہرا ہوا۔ آزادیٔ نسواں کو ایک بڑا خطرہ قرار دیا گیا اور ہمیں مغربی تہذیب کی تباہ کاریوں سے خبردار کیا گیا۔ اس کے کھوکھلے پن کو نمایاں کرتے ہوئے‘ بتایا گیا کہ اس چلن کے ساتھ کوئی تہذیب زندہ نہیں رہ سکتی۔ یہ تہذیب تو خودکشی کے درپے ہے۔ آج کی خبر یہ ہے کہ مغربی تہذیب نے نہ صرف یہ کہ خود کشی نہیں کی بلکہ یہ کہا جا رہا ہے کہ اس نے جغرافیائی سرحدوں کو بے معنی بنادیا اور ہمارے گھروں تک آ پہنچی ہے۔ اب وہ ہمارے خاندان کا حصہ ہے‘ اس لیے ہٹو بچو کی ان صداؤں کی کوئی معنویت باقی نہیں رہی۔
خاندانی نظام پر کچھ کہنے سے پہلے میں یہ عرض کروں کہ گزشتہ ڈیڑھ سو سال میں مغربی تہذیب‘ ہماری تہذیب کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا سکی۔ ہم آج بھی اتنے ہی مذہبی ہیں جتنے ڈیڑھ سو سال پہلے تھے بلکہ شاید اس سے زیادہ۔ مساجد‘ خانقاہوں اور مدرسوں کی تعداد میں اتنا اضافہ ہو چکا کہ 1857ء میں شاید اس بارے میں سوچا نہ جا سکتا تھا۔ مدرسے کی سوچ تو آج جدید تعلیمی اداروں کو بھی اپنی گرفت میں لے چکی۔ مغربی تہذیب اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔
سیکولرازم ہی کو لے لیجیے۔ بائیس کروڑکی اس آبادی میں سیکولر کتنے ہوں گے؟ بائیس ہزار؟ معاشرے کی مذہبی و ثقافتی بُنت آج بھی وہی ہے جو سو سال پہلے تھی۔ دادا جس پیرکا مرید تھا‘ اس کا پوتا آج بھی اسی پیر کے پوتے کا مرید ہے۔ یہی نہیں‘ ہمارا تصورِ غیرت بھی پوری طرح زندہ ہے۔ غیرت کے نام پر آج بھی بچیاں اسی طرح قتل ہوتی ہیں جیسے پہلے ہوتی تھیں۔ یہی حال ہمارے لباس کا ہے‘ رسم ورواج کا ہے۔ سب کچھ ویسے کا ویسا ہے۔ اگر مغربی تہذیب نے خودکشی نہیں کی تو ہم نے بھی نہیں کی۔
جس ‘مغربی تہذیب‘ کو ہم نے اپنے گھر میں جگہ دی‘ وہ در اصل اس کی ‘ٹیکنالوجی‘ ہے۔ ہم نے اس ٹیکنالوجی سے بطور ٹیکنالوجی فائدہ اٹھایا۔ لاؤڈ سپیکر آیا تو ہمارے واعظین کی پہنچ کا دائرہ بڑھ گیا۔ انٹرنیٹ آیا تو سب سے زیادہ ہمارے مذہبی لوگوں کے کام آیا۔ انفرادی سطح پر‘ پاکستان میں یوٹیوب کے سب سے زیادہ سبسکرائبرز کسی گانے والے یا فلمی اداکار کے نہیں‘ ایک مذہبی شخصیت مولانا طارق جمیل کے ہیں۔ شاید ہی کوئی گائیک ہو جس نے اپنے نام کا برانڈ کاروباری دنیا میں متعارف کرایا اور پھر کامیاب ہوا ہو۔ یہ اعزاز بھی جنید جمشید کے حصے میں آیا یا پھر مولانا طارق جمیل کے۔
یہ سب مغربی ٹیکنالوجی کے فیوض ہیں جو ہماری تہذیب کے حصے میں آئے ہیں۔ مجھے تو آج تک کہیں ‘مغربی تہذیب‘ کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیا۔ لوگ انگریزی بول رہے ہوتے ہیں لیکن آپ تھوڑی دیر کسی سے گفتگو کرکے دیکھیں۔ آپ محسوس کریں گے کہ وہ مغربی تہذیب اور امریکہ کا سب سے بڑا دشمن اور مسلمانوں کے غم میں گھلنے والا ہے۔ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ انتہاپسند مذہبی تنظیموں کو جو کارکن میسر آئے‘ ان کی غیرمعمولی تعداد‘ جدید تعلیمی اداروں سے تعلق رکھتی ہے جو جینز پہنتی ہے؟
اب آئیے خاندانی نظام کی طرف۔ ہمارے خاندانی نظام کوجو خطرات درپیش ہیں‘ وہ سب مقامی ہیں۔ اس کی تباہی کاسب سے بڑ اسبب شادی کا روایتی طریقہ ہے جس میں نکاح کی سب سے اہم شرط‘ ایجاب و قبول کوکوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ شادی فریقین بالخصوص خواتین کی مرضی جانے بغیر بلکہ‘مرضی کے خلاف کی جاتی ہے۔ یوں رحمت اور مودت کی وہ اساس موجود ہی نہیں ہوتی جو اس معاہدے کو مضبوط بناتی ہے۔ ایک انسان کو کسی غیرپسندیدہ جنسِ مخالف کے ساتھ انتہائی بے تکلف تعلقات پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ انگریزی میں اسے ‘ریپ‘ (rape) کہتے ہیں۔ یوں دونوں میں سے ایک نفسیاتی مریض بن جاتا ہے یا رشتۂ نکاح سے باہر آسودگی ڈھونڈتا ہے۔ کوئی ہمت کرلے تویہ رشتہ طلاق یا خلع پر منتج ہو جاتا ہے۔
ہمارے خاندانی نظام کی بربادی کا دوسرا سب سے بڑا سبب ساس بہو اور سسرالی رشتوں کے جھگڑے ہیں۔ اس سے پیدا ہونے والا فساد لوگوں کو خودکشی تک پہنچا دیتا ہے۔ اس سے مستقل دشمنیاں جنم لیتی ہیں۔ یہ واقعات قریب ترین رشتہ داریوں میں ہوتے ہیں۔ اس کا ایک بڑا سبب سسرالی رشتوں کے بارے میں پائے جانے والے سماجی تصورات ہیں جن میں کوئی مثبت بات تلاش کرنا کم و بیش ناممکن ہے۔ ساس‘ میاں بیوی‘ دونوں کے لیے ہمارے ہاں ایک ولن کا استعارہ ہے۔ اسی ذہن کے ساتھ خاندان کے ادارے کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔
تیسرا سب سے بڑا خطرہ کثرتِ اولاد ہے۔ ایک خاندان میں بچوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ والدین ان کو وہ وقت دے سکتے ہیں نہ وسائل‘ جوان کا حق ہے۔ جب بچے زیادہ ہوں گے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ سب کو حسبِ ضرورت وقت دیا جا سکے۔ یہی معاملہ وسائل کا بھی ہے۔ بالعموم ایک کمانے والا ہوتا ہے۔ اس کی کمائی جتنے زیادہ افراد میں تقسیم ہوگی‘ اتنی ہی محرومی بڑھے گی۔ خاندان کا ادارہ قائم ہی اسی لیے ہوا ہے کہ دنیا میں آنے والے ابنِ آدم کے ‘حیوانی وجود‘ کو ‘انسانی وجود‘ کا شعور دے۔ یہ تربیت سے ہو سکتا ہے‘ کثرتِ اولاد کے باعث جو ممکن نہیں رہتی۔ یوں خاندان برباد ہوجاتا ہے۔
خاندان کو درپیش ایک اور بڑا خطرہ اجتماعی خاندانی نظام ہے۔ والدین کی خدمت دینی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ اس میں دوسری رائے نہیں ہوسکتی۔ ایسے بچوں پر تُف ہے جو بڑھاپے میں والدین کا سہارا نہ بنیں۔ ہمارے ہاں مگر ہوتا یہ ہے کہ روایت کے نام پر تین تین خاندانوں کو ایک چھت تلے رہنے پرمجبور کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بھائیوں کے تعلقات خراب ہوتے ہیں اور والدین کی زندگی بھی اجیرن بنا دی جاتی ہے۔
میں نے خاندان کو درپیش چند بڑے خطرات کا ذکر کیا ہے جو سب کے سب مقامی ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک خطرہ ایسا نہیں جو مغرب سے آیا ہو۔ یہ ہمارا روزمرہ کا مشاہدہ اور تجربہ ہے۔ ہمارے خاندانی نظام کے ٹوٹنے کے ننانوے فیصد اسباب یہی ہیں۔ اس خاندانی نظام نے لوگوں کی زندگی کو جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا بنادیا ہے اور ان گنت باصلاحیت لوگوں کی زندگیوں کو برباد کردیا ہے۔
جس خطرے کومغربی تہذیب سے منسوب کیا جاتا ہے‘ وہ بھی مقامی ہے۔ مرد و زن کے آزادانہ تعلقات کی بے شمار بنیادیں ہیں۔ ان میں صنفِ مخالف کی فطری کشش سے لے کر بے جوڑ شادیوں تک‘ بہت کچھ شامل ہے۔ ہماری دیہی زندگی میں ایسے واقعات صدیوں سے ہوتے آئے ہیں اور ان دیہات کو مغرب کی ہوا تک نہیں لگی۔ فرق اتنا ہے کہ ہمارے ہاں چوری چھپے ہوتا ہے اور مغرب میں اعلانیہ۔ مغرب کا معاشرہ بھی ارتقائی مراحل سے گزراہے۔ وہاں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو خاندان سے جڑے ہوئے ہیں۔ صنعتی انقلاب نے اسے نقصان پہنچایا ہے۔ لبرل ازم کے بھی اپنے اثرات ہیں جن سے انکار نہیں کیاجا سکتا تاہم یہ دوسرا موضو ع ہے جس پر الگ سے بات ہونی چاہیے۔
اپنی کمزوریوں اور خرابیوں کے اسباب خارج میں تلاش کرنا ہمارا قومی رویہ ہے۔ اس سے ہم میں خود احتسابی کی روایت پیدا نہیں ہوسکی۔ خاندانی نظام کو درپیش مغربی تہذیب کا خطرہ ایک مفروضہ ہے۔ یہ نظام اپنے ہی بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے اور ہمیں اس کی خبر نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   اک سیانی بات
Khursheed Nadeem
خورشید ندیم

تکبیر مسلسل

کالم نگار کے مزید کالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں