Khursheed Nadeem 147

کیا ہم ایک بیمار معاشرہ ہیں؟

آدمی مایوس کب ہوتا ہے؟
یہ معمول کی ایک شام تھی جب اس سوال نے درِ ذہن پر دستک دی۔ سب کچھ ویسا ہی تھا جیسے روز ہوتا ہے۔ کوئی خاص واقعہ نہ کوئی حادثہ۔ دکھ وہی جو برسوں سے ہم سفر ہیں۔ محرومیاں وہی جو مدتوں سے ہمراہ ہیں۔گھر وہی جہاں بائیس سال سے مقیم ہوں۔ دوستوں کی فہرست بھی وہی ہے جو مدتوں پہلے مرتب ہوئی۔ دشمن ‘اللہ کا شکر ہے‘ پہلے تھے نہ آج ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ کوئی نئی بات نہیں ہوئی جسے مایوسی کا سبب قرار دیا جائے۔ دل لیکن خلافِ معمول خالی تھا۔کوئی آرزو نہ کوئی آس۔ سرِ شام ہی جیسے سارے چراغ گل ہوگئے ہوں۔
ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ جسے ہم ‘اچانک‘ سمجھتے ہیں‘ وہ اچانک نہیں ہوتا۔ واقعات کہیں جمع ہوتے رہتے ہیں۔ ذہن میں ایک خانہ ہے‘ بظاہر خالی‘ لیکن دراصل خالی نہیں ہوتا۔ وقت غیر محسوس طریقے سے‘ اس میں کچھ نہ کچھ ڈالتا رہتا ہے۔ ایک پیمانہ جانیے جس میں مئے حوادث ٹپکتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک دن یہ پیمانہ چھلک اٹھتا ہے۔ چھلکتا ہے تو جسم اور روح کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ اس لمحے آدمی پر جو کیفیت طاری ہوتی ہے‘ ہم اسے مایوسی کہتے ہیں۔ شعور اسے اچانک قرار دیتا ہے۔ لاشعور کے لیے مگر یہ اچانک نہیں ہوتا کہ اس نے برسوں اس کی پرورش کی ہوتی ہے۔
ہمیں انیسویں صدی میں یہ بتایا گیا کہ بقا کا راز حالات سے موافقت میں مضمر ہے۔ یہ آدمی ہے جسے خود کو تبدیل کرنا ہے یہاں تک کہ اس کا وجود وقت کے ظرف کے مطابق ڈھل جائے اور وہ اسے قبول کر لے۔ ڈارون نے حیاتیانی دنیا سے اس کے حق میں دلائل تلاش کیے۔ سماجی سطح پر بھی قوموں کے عروج و زوال کو اسی پر منحصر مانا گیا۔ یہ مقدمہ اتنا مضبوط ہوا کہ اس کو مسلمہ مان لیا گیا۔ سچ یہ ہے کہ اس سے اختلاف کرنا کچھ آسان بھی نہ تھا۔ خواہی نخواہی‘ سب نے اسے ما ن لیا۔
ایرک فرام جیسے اہلِ دانش نے مگر اس سے اختلاف کیا۔ فرام کو آپ جانتے ہیں‘ بیسویں صدی میں انفرادی و سماجی نفسیات اور تجزیے کی روایت‘ اس جرمن فلاسفر کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔ فلسفے کے ‘فرینکفرٹ سکول‘ سے تعلق رکھتے تھے۔ اس مکتبِ فکر کے لوگ انسانی سماج کو درپیش مسائل کے ایسے حل سے پوری طرح متفق نہیں تھے جو کیپٹل ازم یا کمیونزم پیش کر رہے تھے۔ فرام نے زندگی امریکہ میں گزاری۔ انہوں نے اس سوال کو بطورِ خاص موضوع بنایا کہ بیسویں صدی میں سرمایہ دارانہ نظام نے جس معاشرے کی تشکیل کی‘ کیا اسے ایک عاقل و متوازن معاشرہ (Sane Society) قرار دیا جا سکتا ہے؟
فرام کا کہنا تھا کہ نسلِ انسانی کی ذہنی صحت اس پر منحصر نہیں ہے کہ آدمی خود کو سماج کے مطابق ڈھالے بلکہ اس پر ہے کہ سماج کو انسانی ضروریات کے لحاظ سے تبدیل کیا جائے۔’ذہنی صحت‘ کا تعین اس بات سے ہوتا ہے کہ ‘انسانی فطرت‘ سے آپ کی مراد کیا ہے؟ فرام کے نزدیک فرائیڈ کا یہ تصور درست نہیں کہ اس کی فطرت اس کی حیوانی ضروریات بالخصوص جنسی جبلت‘ لبیڈو (libido) پر کھڑی ہے۔ وہ آدمی کے ‘انسانی وجود‘ کو حیوانی وجود سے الگ اور اضافی مانتا ہے۔ اس وجود کی بقا ہی انسان کی بقا ہے اور سماج کو اس کی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالنا چاہیے۔ حیوانی ضروریات کی تکمیل ظاہر ہے کہ پہلا مرحلہ ہے۔
انسان کو جو احساس مضطرب رکھتا ہے اور جس کا ایک نتیجہ مایوسی ہے‘اس کی اساس‘شاید اسی بحث میں ہے۔انسان نے خود کو سماج کے مطابق ڈھالنا ہے یا سماج کو انسانی ضروریات کے مطابق ڈھلنا ہے؟میرا خیال ہے کہ انسانی وسائل پر قابض طبقے نے سوچ سمجھ کر عام انسانوں کو اس پر قائل کیا ہے کہ وہ خود کو اجتماعی سیاسی اور سماجی ضروریات کے مطابق ڈھالیں۔ انسانی استحصال کا بڑا دروازہ یہی ہے۔
اجتماعی اخلاق کے خود ساختہ واعظ اکثر یہ سوال اٹھاتے ہیں: ‘پاکستان نے ہمیں یہ یہ دیا۔ہم نے پاکستان کو کیا دیا؟‘عام آدمی اس سوال کی گہرائی کو نہیں سمجھتا۔وہ اپنی سادگی میں اسے دہراتا چلا جا تا ہے۔انسانی سماج یا ریاست کو انسان کی ضروریات نے وجود بخشا۔ان کی ضرورت اس لیے محسوس کی گئی کہ انسان کی بقا اور سلامتی کو خطرات لاحق تھے۔یہ خطرات فطرت کی طرف سے تھے اور ایسے انسانوں کی طرف سے بھی جو طاقتور تھے اور فطرت کے ساتھ مل کر عام انسانوں کا استحصال کرتے تھے۔ کوئی بھی ریاست اورکوئی بھی سماج اس لیے وجود میں نہیں آئے کہ ان کو بت بنا کر پوجا جائے اور انسانوں کا پیٹ کاٹ کر ان کے چڑھاوے چڑھائے جائیں۔
یہ درست ہے کہ کبھی سماج اور ریاست کی سلامتی کے لیے فرد کو قربان ہو نا پڑتا ہے لیکن اس میں بھی پیشِ نظر انسان ہی کی اجتماعی بقا ہو تی ہے۔ ریاست کو برائے ریاست یا سماج کو برائے سماج باقی رکھنا مقصود نہیں ہوتا۔ جہاں یہ ادراک پیدا ہو جاتا ہے وہاں ریاست عوام کی خادم ہوتی ہے ا ور اسے ‘ویلفیئر سٹیٹ ‘کا نام دیا جا تا ہے۔ جہاں یہ نہیں ہوتا‘وہاں’سکیورٹی سٹیٹ‘ کا تصور فروغ پاتا ہے۔
مایوسی دراصل اُن پے در پے پیش آنے والے واقعات کاحاصل ہے جس میں آدمی کا یہ خیال مستحکم ہو تا چلا جاتا ہے کہ اس کا وجود بے مصرف ہے اور اس کی آرزوئوں و مسلسل کچلا جارہا ہے۔ وہ اپنے وجودکو ثابت نہیں کر پا تا۔وہ سمجھتا ہے کہ اس کا ماحول اسے حرفِ مکرر سمجھ کر مٹانے کے درپے ہے۔ ریاست اور سماج اس کے لیے نہیں ہیں۔ مذہب اور قومی مفاد کے نام پر اسے جو کچھ سکھایا جاتا ہے‘اس کا حاصل اس کے وجود کی بے بضاعتی اور اس کی خواہشات کا بے وقعت ہونا ہے۔ مذہب کے عنوان سے اسے یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ اپنی ہرتمنااور جمالیاتی احساس سے منہ موڑنا ہی تقویٰ کی معراج ہے۔ قومی مفاد کے نام پر اس سے قدم قدم پر سوال ہوتا ہے: تم نے ملک کے لیے کیا کیا؟
آدمی پھر یہ خیال کرتا ہے کہ زندگی اس کے لیے ایک بے مصرف عمل ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جو مایوسی کو جنم دیتی ہے۔ جب یہ خیال پختہ ہو جائے کہ آدمی کاعمل مطلوب نتیجے میں ڈھلنے والا نہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے۔ اس صورت میں وہ عمل سے منہ موڑ لیتا ہے یا اسے مشین کی طرح سرانجام دیتا ہے جس میں تخلیقی جذبہ شامل نہیں ہو تا۔یہ حادثہ وہاں پیش آتا ہے جہاں ریاست اورسماج انسانی ضروریات سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔
میرا یہ احساس دن بدن گہرا ہوتا جارہاہے کہ میں ایک بے مصرف زندگی گزار رہا ہوں۔ میری سرگرمیاں میرے حیوانی وجود کو زندہ رکھے ہوئے ہیں اور وہ بھی مطلوبہ معیار پر نہیں۔ رہا میرا ‘انسانی وجود ‘تواس کی بقا کے لیے سازگار حالات موجود نہیں۔ یہیں سے میری ذہنی صحت کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے اور مایوسی اس کا اظہار ہے کہ میں ذہنی طور پر صحت مند نہیں ہوں۔
میں ارد گرد نظر دوڑاتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ صرف میں اس عارضے میں مبتلا نہیں۔ ہم اجتماعی سطح پر مریض بن چکے ہیں۔ وہی حادثہ جو مغرب کے سرمایہ دارانہ معاشرے کو بھی پیش آیا۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم میں کوئی ایرک فرام نہیں جو سماج کی ذہنی صحت کو درپیش مسائل کو موضوع بنائے۔اس لیے کہ یہاں اس کیفیت کو مرض سمجھا ہی نہیں جا رہا۔جب تشخیص ہی نہیں تو علاج کہاں؟

یہ بھی پڑھیں: -   مسدس بدحالی
Khursheed Nadeem
خورشید ندیم

تکبیر مسلسل

کالم نگار کے مزید کالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں