Allama Ibtisam Ilahi Zaheer 111

فتنۂ دجال

دین ومذہب کے حوالے سے جن کرداروں کے بارے میں بہت سی آرا سننے کو ملتی ہیں‘ ان میں سے ایک کردار دجال کا بھی ہے۔ دجال کو بہت سے لوگ ایک فرضی کردار سمجھتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ اس کو ایک علامت یا تمثیل سمجھتے ہیں اور دجال سے متعلقہ ملنے والی معلومات میں تاویل کرتے اور اس کو ایک شخصیت یا کردار کے طور پر تسلیم کرنے پر آمادہ وتیار نہیں ہوتے۔ بعض لوگ دجال کو ایک نظام کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں اور اس کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو بھی ایک نظام کے ساتھ مربوط کرتے ہیں۔دجال کی شخصیت اور کردار سے متعلق توضیحات سے قبل اس بات کو سمجھنا بہر حال انتہائی ضروری ہے کہ دجال کا فتنہ ایک انتہائی سنگین فتنہ ہو گا۔ رسول اللہﷺ نماز میں بھی اس فتنے سے بچنے کی دعا پڑھتے تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس حوالے سے متنبہ کیا کرتے تھے جس کا مقصد اپنی اُمت کو اس فتنے سے بچنے کی طرف رغبت دلانا تھا۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں ایک اہم حدیث درج ذیل ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں یہ دعا پڑھتے تھے (ترجمہ) ”اے اللہ! قبر کے عذاب سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ زندگی کے اور موت کے فتنوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں‘ دجال کے فتنہ سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہوں سے اور قرض سے ‘‘۔
اس فتنے کی سنگینی کے حوالے سے صحیح بخاری ہی میں یہ حدیث بھی مذکور ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے وحی کے ذریعے بتلایا گیا کہ تم قبر میں دجال کے فتنے کی طرح (یا یہ کہا کہ دجال کے فتنے کے قریب) ایک فتنے میں مبتلا ہو گے۔ ا س حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دجال کا فتنہ اتنا خطرناک ہے کہ قبر میں انسان کو پیش آنے والی مشکلات کے ساتھ اس کا ذکر کیا گیا ہے۔دجال کے کردار اور اس کی شخصیت کے حوالے سے پائے جانے والے الجھاؤ اور اس مسئلے میں صحیح موقف کو اختیار کرنے کے لیے ہمیں احادیثِ طیبہ سے رجوع کرنا چاہیے۔ اس ضـمن میں چند اہم احادیث درج ذیل ہیں:
صحیح بخاری میں حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کو خطاب فرمایا: آپﷺ نے اللہ تعالیٰ کی ثناء بیان کی‘ جو اس کی شان کے لائق تھی، پھر دجال کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ میں بھی تمہیں اس کے (فتنوں سے) ڈراتا ہوں‘ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس کے فتنوں سے نہ ڈرایا ہو‘ نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا لیکن میں اس کے بارے میں تم سے ایک ایسی بات کہوں گا جو (اس سے قبل) کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہی‘ اور وہ بات یہ ہے کہ دجال کانا ہو گا اور اللہ تعالیٰ اس (عیب) سے پاک ہے۔
صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”کیوں نہ میں تمہیں دجال کے متعلق ایک ایسی بات بتا دوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو اب تک نہیں بتائی۔ وہ (بات یہ ہے کہ دجال) کانا ہو گا اور جنت اور جہنم جیسی چیز لائے گا۔ پس جسے وہ جنت کہے گا‘ درحقیقت وہی دوزخ ہو گی اور میں تمہیں اس کے فتنے سے اسی طرح ڈراتا ہوں، جیسے نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا‘‘۔
صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ حضرت عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ وہ حدیث ہم سے نہیں بیان کریں گے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی؟ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ جب دجال نکلے گا تو اس کے ساتھ آگ اور پانی‘ دونوں ہوں گے لیکن لوگوں کو جو آگ دکھائی دے گی وہ ٹھنڈا پانی ہو گا اور لوگوں کو جو ٹھنڈا پانی دکھائی دے گا‘ وہ جلانے والی آگ ہو گی۔ اس لیے تم میں سے جو کوئی اس کے زمانے میں ہو تو اسے اُس میں گرنا چاہئے جو آگ ہو گی کیونکہ وہی انتہائی شیریں اور ٹھنڈا پانی ہو گا۔
صحیح مسلم میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال کی بائیں آنکھ (بھی) عیب دار ہو گی اور بال گھنے گچھے دارہوں گے‘ اس کے ہمراہ ایک جنت ہو گی اور ایک دوزخ ہو گی۔ اس کی دوزخ (حقیقت میں) جنت ہو گی اور اس کی جنت اصل میں دوزخ ہو گی۔
صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اس (دجال) کی دونوں آنکھوں کے درمیان ‘کفر‘ لکھا ہوا ہے۔
صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”مدینہ منورہ میں دجال داخل نہیں ہو سکے گا اور نہ طاعون آ سکے گا‘‘۔
صحیح بخاری میں حضرت ابو بکرہؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”مدینہ والوں پر دجال کا رعب نہیں پڑے گا، اس دن مدینہ کے سات دروازے ہوں گے‘ ہر دروازے پر دو فرشتے (پہرہ دیتے) ہوں گے‘‘۔
صحیح بخاری میں حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے دجال کے متعلق ایک طویل حدیث بیان کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات میں یہ بھی تھا کہ آپﷺ نے فرمایا ”دجال آئے گا اور اس کے لیے ناممکن ہو گا کہ مدینہ کی گھاٹیوں میں داخل ہو؛ چنانچہ وہ مدینہ منورہ کے قریب کسی شور والی زمین پر قیام کرے گا۔ پھر اس دن اس کے پاس ایک مردِ مومن جائے گا اور وہ افضل ترین لوگوں میں سے ہو گا۔ (وہ) اس سے کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں اس بات کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے بیان فرمائی تھی۔ اس پر دجال (اپنے لوگوں سے) کہے گا: کیا تم دیکھتے ہو‘ اگر میں اسے قتل کر دوں اور پھر زندہ کروں تو کیا تمہیں میرے (خدائی کے دعوے کے) معاملے میں شک و شبہ باقی رہے گا؟ اس کے پاس والے لوگ کہیں گے کہ نہیں؛ چنانچہ وہ اس شخص کو قتل کر دے گا اور پھر اسے زندہ کر دے گا۔ اب وہ شخص کہیں گے کہ واللہ! آج سے زیادہ مجھے تیرے معاملے میں پہلے اتنی بصیرت حاصل نہ تھی(اب مجھے پختہ یقین ہو گیا ہے کہ تُو ہی دجال ہے)۔ اس پر دجال انہیں دوبارہ قتل کرنا چاہے گا لیکن اس مرتبہ انہیں مار نہ سکے گا‘‘۔
مذکورہ بالااحادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دجال ایک حقیقی کردار ہوگا اور اس ضمن میں تمثیلات اور تشبیہات کے حوالے سے جو باتیں کی جاتی ہیں‘ وہ درست نہیں ہیں۔ احادیثِ طیبہ میں جہاں پر دجال کے فتنے اور اس کے کردار کا ذکر ہے‘ وہیں پر دجال کی ہلاکت کو بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح فرما دیا کہ اس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل کریں گے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم سے ایک اہم حدیث درج ذیل ہے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہو گی، یہاں تک کہ رومی (عیسائی) اعماق (شام میں حلب اور انطاکیہ کے درمیان ایک پُرفضا علاقہ جو دابق شہر سے متصل واقع ہے) یا دابق میں اتریں گے۔ ان کے ساتھ مقابلے کے لیے (دمشق) شہر سے (یامدینہ سے) اس وقت روئے زمین کے بہترین لوگوں کا ایک لشکر روانہ ہو گا جب وہ (دشمن کے سامنے) صف آرا ہوں گے تو رومی (عیسائی) کہیں گے: تم ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان سے ہٹ جاؤ جنہوں نے ہمارے لوگوں کو قیدی بنایا ہوا ہے‘ ہم ان سے لڑیں گے، اس پر مسلمان کہیں گے: اللہ کی قسم‘ نہیں! ہم تمہارے اور اپنے بھائیوں کے درمیان سے نہیں ہٹیں گے؛ چنانچہ وہ ان (عیسائیوں) سے جنگ کریں گے۔ ان (مسلمانوں) میں سے ایک تہائی شکست تسلیم کر لیں گے‘( یا جنگ سے فرار ہو جائیں گے) اللہ ان کی توبہ کبھی قبول نہیں فرمائے گا، ایک تہائی قتل کر دیے جائیں گے، وہ اللہ کے نزدیک افضل ترین شہدا ہوں گے اور ایک تہائی فتح حاصل کریں گے اور وہ کبھی دوبارہ کسی فتنے میں مبتلا نہیں ہوں گے۔ (ہمیشہ ثابت قدم رہیں گے) اور قسطنطنیہ کو (دوبارہ) فتح کریں گے۔ (پھر) جب وہ مالِ غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے اور اپنے ہتھیار انہوں نے زیتون کے درختوں سے لٹکائے ہوئے ہوں گے تو شیطان ان کے درمیان چیخ کر اعلان کرے گا کہ مسیح (دجال) تمہارے پیچھے تمہارے گھر والوں تک پہنچ چکا ہے۔ وہ نکل پڑیں گے مگر یہ جھوٹ ہو گا؛ تاہم جب وہ شام (دمشق) پہنچیں گے تو دجال واقعی نمودار ہو جائے گا۔ اس دوران جب وہ جنگ کے لیے تیاری کر رہے ہوں گے‘ صفیں سیدھی کر رہے ہوں گے تو نماز کے لیے اقامت کہی جائے گی، اس وقت حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اتریں گے تو ان کا رخ کریں گے پھر جب اللہ کا دشمن (دجال) ان (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو دیکھے گا تو اس طرح پگھلے گا جس طرح نمک پانی میں پگھلتا ہے اگر وہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) اسے چھوڑ بھی دیں تو وہ پگھل کر ہلاک ہو جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ اسے ان (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے ہاتھ سے قتل کرائے گا اور لوگوں کو ان کے ہتھیارپر اس کا خون دکھائے گا۔
فتنۂ دجال سے پناہ طلب کرنے کے لیے بھی نبی کریمﷺ نے بڑی خوبصورت تدابیر اپنی اُمت کو بتلائی ہیں۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جس (مسلمان) نے سورہ کہف کی پہلی دس آیات حفظ کر لیں، اسے دجال کے فتنے سے محفوظ کر لیا گیا۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو اس فتنے کی سنگینی سے آگاہ ہوتے ہوئے اس سے پناہ طلب کرنے کی توفیق دے اور اس فتنے کے شر سے تمام اہلِ اسلام کو محفوظ فرمائے، آمین!

یہ بھی پڑھیں: -   ملک بھی شاہ ہوتے ہیں
Allama Ibtisam Elahi Zaheer
علامہ ابتسام الہی ظہیر

مصنف کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں