Attaul-Haq-Qasmi 90

نشہ آ گیا ؟

نشہ بھی عجیب وغریب چیز ہے آپ جب اس کے قریب جاتے ہیں تو یہ آپ کو دھکا دیکر پرے دھکیل دیتا ہے آپ پھر قریب جاتے ہیں یہ پھر آپ کو دھکے دیتا ہے اور قریب نہیں پھٹکنے دیتا آپ کسی بھی سگریٹ نوش سے پوچھ لیں وہ آپ کو بتائے گا کہ جب شروع میں اس نے سگریٹ پینے کی کوشش کی تو سگریٹ نے شاید کھانسی کی صورت میں اسے کتنے دھکے دیئے۔ سگریٹ نے اس کا گلا دبانے کی کوشش بھی کی، سگریٹ نوش کو یہی لگا کہ اس کا دم گھٹ جائے گا جس کسی نے پہلی دفعہ چرس پینے کی کوشش کی وہ بتائے گا کہ اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کی موت کا وقت قریب آ گیا ہے چرس اسے خود سے دور رکھنے کے لئے اس کی حالت غیر کر دیتی ہے اسے چکر آتے ہیں الٹیاں آتی ہیں اور اس کی بینائی تک دھندلا جاتی ہے۔یہی صورتحال بھنگ، شراب اور چرس سے ابتدائی تعارف حاصل کرنے والوں کی ہے۔ ان نشوں نے ان سے کتنی بے اعتنائی برتی تھی مگر دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ اتنی ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود جب کوئی اسے اپنا بنا کر چھوڑتا ہے تو پھر یہ نشہ اس پر حاوی ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ سجنا اب ہاتھ تھاما ہے تو عمر بھر ساتھ نبھانا ہے مگر اس کے ساتھ نبھانے والی یہ بات بھی دراصل اس کے سابقہ رویے ہی کا تسلسل ہوتی ہے نشہ نہیں چاہ رہا ہوتا کہ کوئی اس کے قریب آئے چنانچہ قریب آنے کی کوشش کرنے والوں کو بہت بری طرح ذلیل کرنے کے باوجود جب اس کا یہ عاشق اس کے حصول کی کوششوں سے باز نہیں آتا اور ایک دن اس منہ زور گھوڑے کو راہ پر لے آتا ہے اور اس پر سواری کرتا ہے تو نشہ بظاہر اس کے کنٹرول میں آ جاتا ہے مگر وہ اپنے ساتھ زبردستی کرنے والے کو معاف نہیں کرتا وہ اپنے ساتھ ہونے والی اس زیادتی کا بدلہ صرف اس سے نہیں اس کے پورے خاندان سے لیتا ہے سگریٹ، شراب، چرس، بھنگ، ہیروئن اور دیگر نشے کے عادی لوگوں کی ایک تعداد کی صحت دائو پر لگ جاتی ہے اور یہ نشہ انہیں طرح طرح کے امراض میں مبتلا کر کے اپنا بدلہ چکاتا ہے ان کی وجہ سے خاندانوں کے خاندان اجڑ جاتے ہیں۔ ایک موقع آتا ہے کہ جب یہ لوگ نشہ چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو نشہ کہتا ہے کہ تم اب جاتے کہاں ہو، اب مرد ہو تو مجھے چھوڑ کر دکھائو میں نے تمہیں بہت سمجھایا تھا، دھکے دیئے تھے مگر تم نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا اب میں تمہارا پیچھا نہیں چھوڑوں گا اور یوں نشہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا بدلہ اس کی سات نسلوں تک سے لیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   مذہبی افسانے

اور یہی صورتحال دوسرے نشوں کی بھی ہے جس میں دولت کا نشہ سرفہرست ہے دولت بھی انسان کو اپنے قریب نہیں پھٹکنے دیتی وہ جب اس کے حصول کی کوشش کرتا ہے تو یہ اسے ذلیل کرتی ہے اسے رسوا کرتی ہے مگر جس کے سر میں یہ دھن سما جائے وہ اس کے حصول کے لئے اپنی عزت،حرمت سب کچھ دائو پر لگا دیتا ہے، اس کے باوجود یہ سب کے ہاتھ میں نہیں آتی اور جو اس کے حصول میں کامیاب ہو جاتے ہیں اس کے بعد دولت اس کی جان کی دشمن بن جاتی ہے اسے بلڈپریشر، شوگر، اور دل کی بیماریوں کے علاوہ راتوں کی نیند اور دن کا سکون بھی چھین لیتی ہے، بے پناہ دولت کا حامل ہونے کے باوجود ساری عمر کونے میں بیٹھ کر صرف دہی کھاتا رہتا ہے اس کے مرنے کے بعد اس کی اولاد جائیداد کے حصول کے لئے ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا ہو جاتی ہے قتل تک ہوتے ہیں میں یہاں اس دولت کا ذکر کر رہا ہوں جس کے حصول کے لئے لوگ حلال حرام میں تمیز نہیں کرتے اور جس کا حصول ان کی زندگی کا اول و آخر مقصد ہوتا ہے وہ ایک طرح کے پاگل پن کا شکار ہو جاتے ہیں وہ 100کے ہندسے کے آگے بیسیوں زیرو لگاتے لگاتے خود زیرو ہو جاتے ہیں مگر ان کی ہوس ختم نہیں ہوتی۔ اس رزق حرام سے ان کی اولاد پلتی ہے اور میرا یقین ہے کہ رزق حرام والوں کے جینز میں تبدیلی واقع ہو جاتی ہے جو نسلوں کی نسلیں تباہ کر دیتی ہے میں یہاں بہت سی مثالیں نام لیکر بیان کر سکتا ہوں مگر اس کی ضرورت نہیں بس یاد رکھیں دولت کسی کی نہیں ہوتی ہاں ایک بات ہے اسے اپنے عاشق نہیں اپنے دشمن عزیز ہوتے ہیں خود دار لوگ رزق حلال پر بھروسہ کرتے ہیں اور حرام کو منہ نہیں لگاتے اور یوں یہ دولت کم از کم انہیں بھوکا نہیں مرنے دیتی!مجھے کوئی نصیحت نہیں کرنی، میرا وعظ کا کوئی ارادہ نہیں بس مجھے اتنا کہنا ہے کہ عزت سے جئیں اور عزت سے مریں سب سے بڑی دولت یہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   دے جا سخیا راہِ خدا

اور اب آخر میں آصف نذیر کی ایک غزل

جلا کے مجھ کو عجب معجزہ دکھایا گیا

میری ہی راکھ سے پیکر نیا بنایا گیا

میرے ہی تیر چلائے گئے میری جانب

میرے خلاف میرا زور آزمایا گیا

بٹھا کے پہلے مجھے ایک عظیم منصب پر

میرے خلاف عجب فیصلہ سنایا گیا

اس آب وتاب کے پیچھے ہی اک کہانی ہے

میں پہلے سنگ تھا پھر آئینہ بنایا گیا

مجھے کرائی گئی پہلے ایک شہر کی سیر

پھر اس میں مجھ کو میرا اصل گھر دکھایا گیا

ڈبو کے خون میں باندھی گئی مجھے تلوار

کس اہتمام سے میں تخت پر بٹھایا گیا

مجھے ستا کے بھی کب خوش ہوئے میرے منکر

میں اس پہ خوش ہوں میرا صبر آزمایا گیا

عطا ہوئی ہے عجب طرح خواجگی آصف

تراش کر میرے بازو، علم تھمایا گیا

Attaul-Haq-Qasmi
عطاءالحق قاسمی

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں