Columns of Saadullah jaan barq 100

میرے پاس امید ہے

اگرافغانستان، پاکستان یاکسی دوسرے مسلمان ملک میں کہیں رات کے اندھیرے میں کوئی چیونٹی بھی رینگتی ہے تو سنا ہے امریکا کوپتہ لگ جاتاہے بلکہ چیونٹی کی ذات اورحرکت کی وجہ بھی معلوم ہوجاتی ہے اوریہ ہم اس لیے مانتے ہیں کہ ہم کو بھی پتہ چل جاتا ہے کہ کس محکمے یا ادارے میں کون سا افسریا وزیر یاکوئی ’’اور‘‘کیاکررہاہے بلکہ ایک لحاظ سے ہم امریکا پر برتری رکھتے ہیں۔امریکا کو توچیونٹی کی حرکت کاپتہ چل جاتاہے جب کہ ہمیں اس کی حرکت سے پہلے پتہ چل جاتاہے کہ اب کونسی چیونٹی کونسی حرکت کرنے والی ہے۔

حکومت کاکونسا ’’چٹا‘‘کونسا’’بٹا‘‘ لگانے والاہے بلکہ اگر آپ خودنمائی نہ سمجھیں تویہ بھی آشکار کردیں کہ لوگ تو ’’بیان‘‘آنے کے بعد بتاتے ہیں کہ کون سے بیان میں کتنا اورکونسا جھوٹ ہے لیکن ہم ’’بیان‘‘ سے پہلے جان لیتے ہیں کہ اب کونسا منہ بیان دینے والا ہے اوراس میں کتنا جھوٹ ہے لیکن شاید اس خود اعتمادی کی وجہ سے ہم بھی ایک دھوکا کھاگئے۔

اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اونٹ کے منہ میں زیرے جنتا اختیار ملا تو صوبہ خیبر پختون خوا میں ایک ادارہ قائم ہوا،لمبا سانام ہے لیکن کام تیل اورگیس کی تلاش بتایاگیا،حالاں کہ پاکستان میں ایسے کسی ادارے کی ضرورت بالکل بھی نہیں کیونکہ ترقی کچھ اور سماں باندھتی نظر آرہی ہے۔
سعودی عرب وغیرہ کوفکرہے کہ اگر تیل کے کنوئیں سوکھ گئے توپھر کیاکریں گے چنانچہ سنا ہے کہ سعودی عرب نے ملک کو دوہزارپچیس تک سولرانرجی سے مسلح کرنے کاسلسلہ شروع کردیا ہے۔لیکن ہمیں تو ایسا کوئی خطرہ یاخدشہ نہیں ہے کیوں کہ ہمارے پاس’’ تیل‘‘ کے جو کنوئیں ہیں وہ زیرزمین نہیں بلکہ برسرزمین ہیں جو معجزاتی طور پرگھٹنے یاسوکھنے کے بجائے تعداد اورتیل کی مقدار میں مزید بڑھتے رہتے ہیں، دراصل آئی ایم ایف نے پاکستان کویہ ٹیکنالوجی دی ہوئی ہے کہ وہ جب چاہے جتنا چاہے ان ’’کنوؤں‘‘ سے تیل نکال سکتاہے لیکن پھربھی نہ جانے خوامخواہ بلاضرورت ایک ایسا ادارہ خیبر پختون خوا میں قائم کیا گیا، یہ پتہ توبعد میں چل گیاکہ دراصل مقصد اپنوں اوراپنوں کے اپنوں کو ’’دسترخوان‘‘ پر بٹھانا تھا، ادارہ تو اپنی جگہ سڑک کی طرح پڑارہا لیکن تنخواہوں، مراعات اورپیداگیری کی ٹریفک چل پڑی، یہاں وہاں سے ، جہاں تہاں سے خاص خاص مونہوں کو اکٹھا کرکے دسترخوان پربٹھادیاگیا،تنخواہیں چھ ہندسوں میں دی جا رہی تھیں، ایک کے بعد ایک سربراہ لایاجاتارہاوہ پرانے سربراہ کے آدمیوں کونکالتااوراپنے اندرکرتارہا۔

یہ بھی پڑھیں: -   عدالتی فیصلے اور انصاف مرحوم!

دراصل ہم بھی ’’تیل وگیس کی تلاش‘‘ سے دھوکا کھاگئے، ادھرکرک میں امکانات بھی تھے اوریہ توسب جانتے ہیں کہ جس طرح ضرورت ایجادات کی ماں ہے،قبض امراض کی امی جان ہے،جھوٹ سیاست کی ’’ماما‘‘ہے، اسی طرح آج کل ’’تیل‘‘ نرخوں کی ماما تونہیں لیکن پاپا ہے،سوہم بھی دھوکا کھا گئے کہ شاید واقعی ایساہو۔

ہم نے توابتدامیں آپ کوبتادیاہے کہ ہم شہروں سے بہت دورویرانے میں جابسے ہیں لیکن ایک آئینہ سکندری ہمارے پاس ہے جوپچاس سال سے زیادہ صحافت اورکالم نگاری میں رہ کرہم نے بنایاہے ۔

آئینہ سکندر جام مئے است بن کر
تابرتوعرضہ دارد احوال ملک دارا

مطلب یہ کہ ہم اپنی آنکھیں اورکان یہاںوہاں چپکائے رکھتے ہیں اوراس ادارے کی آگاہی تو ہمیں اس لیے بھی حاصل ہے کہ اس میں ’’آوٹ ان ہونے والوں‘‘ سے ہماری بھی یاری تھی کہ ملازمین نے ان لاڈلے افسروں سے تنگ آکر مقدمہ دائرکیاتھا جو جیت چکے ہیں۔

اب سناہے کہ پنجاب سے کوئی نیاسربراہ آیاہے اوراس نے آتے ہی زبردست اٹھاپٹخ شروع کی ہے، نکمے نکھٹوؤں کو باہرکررہاہے اورادارے کوواقعی وہی ادارہ بنارہاہے جو اپنے نام سے ظاہرہے ۔

ہمیں کچھ زیادہ یقین تونہیں کہ سرکاری اداروں میں یہ معمول بھی ہمیشہ سے جاری رہاہے کہ نیاآدمی جب آتا ہے یانئی حکومت تو ابتدامیں اچھا خاصا امید افزا ہنگامہ ہوتاہے لیکن بعد میں سب کچھ پرانے معمول پرآجاتاہے اوروہی بے ڈھنگی چال شروع ہوجاتی ہے لیکن بہرحال ہمارے پاس ’’امید‘‘ کے سوا اورہے ہی کیا،اس لیے اب بھی امید ہی کرسکتے ہیں کہ خداکرے یہ اداہ واقعی ’’کام‘‘ شروع کردے۔

یہ بھی پڑھیں: -   بشریٰ رحمن، رُوحی کنجاہی اور ممتاز شیخ
Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں