Allama Ibtisam Ilahi Zaheer 107

نماز کی اہمیت

اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ ذاریات کی آیت نمبر 56 میں ارشاد فرمایا: ”میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں۔‘‘
اس آیت مبارکہ پر غور کرنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ درحقیقت اللہ تبارک وتعالیٰ نے جن وانس کو اپنی بندگی اور عبادت کے لیے بنایا ہے۔ جب ہم قرآن وحدیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ بندگی کی ادائیگی کے جن طریقوں کی طرف انسانوں کی رہنمائی کی گئی ہے ان میں سرفہرست نماز ہے۔ نماز ان پانچ ارکان میں سے دوسرے نمبر پر ہے جن پر اسلام کی بنیادہے۔ اس حوالے سے دو اہم احادیث درج ذیل ہے:
صحیح بخاری میں حضر ت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا : ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ اوّل گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک محمدﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا‘‘۔
صحیح بخاری میں ہی حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”مجھے (اللہ کی طرف سے) حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں اس وقت تک کہ وہ اس بات کا اقرار کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمدﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز ادا کرنے لگیں اور زکوٰۃ دیں، جس وقت وہ یہ کرنے لگیں گے تو مجھ سے اپنے جان و مال کو محفوظ کر لیں گے، سوائے اسلام کے حق کے۔ (رہا ان کے دل کا حال تو) ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے‘‘۔
قرآنِ مجید کے متعدد مقامات پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہلِ تقویٰ اور اہلِ ایمان کے اوصاف میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ وہ نمازوں کو قائم کرنے والے ہوتے ہیں۔ چنانچہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر3 میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ”جو لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دیے ہوئے (مال ) میں سے خرچ کرتے ہیں‘‘۔
اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ مومنون میں ان ایمان والوں کو ذکر کرتے ہیں جن کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فردوس کے باغات کو تیار کر دیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان کے اوصاف میں سے نماز کے حوالے سے دو اوصاف کا ذکر فرماتے ہیں۔ سورہ مومنون کی آیت نمبر 1 سے 11میں ارشاد ہوا: ”یقینا ایمان والوں نے فلاح حاصل کر لی۔جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں۔جو لغویات سے منہ موڑ لیتے ہیں۔جو زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں۔جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔بجز اپنی بیویوں اور ملکیت کی لونڈیوں کے، یقینا یہ ملامتیوں میں سے نہیں ہیں۔جو اس کے سوا کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کر جانے والے ہیں۔جو اپنی امانتوں اور وعدے کی حفاظت کرنے والے ہیں۔جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں۔یہی وارث ہیں۔جو فردوس کے وارث ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘۔
اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الاعلیٰ میں بھی نماز ادا کرنے والے لوگوں کو کامیاب قرار دیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ اعلیٰ کی آیات 14 تا 15میں ارشاد فرماتے ہیں: ”بیشک اس نے فلاح پائی جو پاک ہوگیا۔ اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا‘‘۔
اس کے مدمقابل اللہ تبارک وتعالیٰ نے نماز ادا نہ کرنے والے لوگوں کو ناکام قرار دیا ہے۔ سورہ مدثر کی آیات 41 تا 44 میں جہنمیوں کے حوالے سے ارشاد ہوا : ”(اہلِ جنت) گنہگاروں سے پوچھیں گے: تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈالا؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے۔ نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے‘‘۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ مریم میں دو گروہوں کا ذکر کیا جن میں سے ایک وہ جو اللہ کی آیات کو سن کر سجدے میں گر جاتا دوسرا وہ جو اپنی نمازوں کو ضائع کرتا تھا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے نمازوں کو ادا نہ کرنے والے گروہ کی ناکامی اور نامرادی کا ذکر سورہ مریم کی آیات 58 تا 59میں کیا : ” ان کے سامنے جب اللہ رحمن کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی تھی یہ سجدہ کرتے اورروتے گڑ گڑاتے گر پڑتے تھے۔ پھر ان کے بعد ایسے نا خلف پیدا ہوئے کہ انہوں نے نماز ضائع کر دی اور نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے سو ان کا نقصان ان کے آگے آئے گا‘‘۔
قرآنِ مجیدکے مطالعے سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے نماز کو فقط اُمت محمدیﷺ پر فرض نہیں کیا بلکہ نبی کریمﷺ کی بعثت سے قبل بھی اللہ تبارک وتعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کو نماز قائم کرنے کا حکم دیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے حوالے سے سورہ مریم کی آیت نمبر55 میں اس حوالے سے ارشاد فرماتے ہیں:”وہ اپنے گھر والوں کو برابر نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا، اور تھا بھی اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پسندیدہ اور مقبول‘‘۔
اسی طرح سورہ آل عمران کی آیت نمبر 43میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے سیدہ مریم علیہا السلام کو اس بات کا حکم دیا کہ رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والوں کے ساتھ سجدہ کیا کریں۔ ارشاد ہوا: ”اے مریم!تُو اپنے رب کی اطاعت کر اور سجدہ کر اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر‘‘۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ ابراہیم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دیگر دعاؤں کے ساتھ اُن دعاؤں کا بھی ذکر کیا جو انہوں نے اپنی اولاد کے لیے اقامتِ صلاۃ کے حوالے سے مانگی تھیں۔ اس حوالے سے دو اہم دعائیں درج ذیل ہیں:
سورہ ابراہیم کی آیت نمبر 37 میں ارشاد ہوا: ”اے میرے پروردگار! میں نے اپنی کچھ اولاد اس بے کھیتی کی وادی میں تیرے حرمت والے گھر کے پاس بسائی ہے۔ اے ہمارے پروردگار! یہ اس لئے کہ وہ نماز قائم رکھیں۔ پس تو کچھ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے۔ اور انہیں پھلوں کی روزیاں عنایت فرما تاکہ یہ شکر گزاری کریں‘‘۔
سورہ ابراہیم ہی کی آیت نمبر 40 میں ارشاد ہوا: ”اے میرے پالنے والے! مجھے نماز کا پابند رکھ اور میری اولاد سے بھی، اے ہمارے رب میری دعا قبول فرما‘‘۔ان دعاؤں کو پڑھنے کے بعد اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی اولاد کی نماز کے بارے میں کس قدر فکر مند تھے۔ نبی کریمﷺ نے اپنی اُمت کو نماز کی مداومت کا حکم دیا۔ اس حوالے سے ایک اہم حدیث درج ذیل ہیں:
صحیح بخاری میں سیدنا حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے نبی کریمﷺ نے فرمایا : ”منافقوں پر فجر اور عشاء کی نماز سے زیادہ اور کوئی نماز بھاری نہیں اور اگر انہیں معلوم ہوتا کہ ان کا ثواب کتنا زیادہ ہے (اور چل نہ سکتے) تو گھٹنوں کے بل گھسیٹ کر آتے اور میرا تو ارادہ ہو گیا تھا کہ مؤذن سے کہوں کہ وہ تکبیر کہے، پھر میں کسی کو نماز پڑھانے کے لیے کہوں اور خود آگ کی چنگاریاں لے کر ان سب کے گھروں کو جلا دوں جو ابھی تک نماز کے لیے نہیں نکلے‘‘۔
نبی کریمﷺ نے دنیا سے رخصتی سے قبل بھی نماز کے قیام اور غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین فرمائی۔ اس حوالے سے ایک اہم حدیث درج ذیل ہے:
سنن ابن ماجہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے قریب جب آپ کا سانس اٹک رہا تھا تو آپﷺ کی عام وصیت یہ تھی: لوگو! نماز اور غلام و لونڈی کا خیال رکھنا۔
نبی کریمﷺ ساری زندگی اپنے صحابہ کرامؓ اور تلامذہ کو نماز کی ادائیگی کی تلقین کرتے رہے۔ جس کی وجہ سے ایک ایسی جماعت منظر عام پر آئی جن کے دل اللہ تبارک وتعالیٰ کی خشیت میں ڈوبے ہوئے تھے۔ قرآنِ مجیدکے مطالعے سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ انسان کو جہاں خود نماز ادا کرنی چاہیے وہیں اپنے اہلِ خانہ کو بھی نماز کی ادائیگی کی تلقین کرنی چاہیے۔ سورہ طہٰ کی آیت نمبر132 میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ”اپنے گھرانے کے لوگوں پر نماز کی تاکید رکھ اور خود بھی اس پر جما رہ، ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے بلکہ ہم خود تجھے روزی دیتے ہیں آخر میں بول بالا پرہیزگاری ہی کا ہے‘‘۔
قرآنِ مجید کے مطالعے سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ نماز جہاں اللہ تبارک وتعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کا ذریعہ ہے وہیں یہ انسان کو گناہوں اور برائی کے کاموں سے بھی محفوظ ومامون کرتی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ عنکبوت کی آیت نمبر 45میں ارشاد فرماتے ہیں: ”جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے اور نماز قائم کریں یقینا نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے، بیشک اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے‘‘۔
بعض لوگ نماز کو عادتاً ادا کرتے ہیں لیکن ذوق ِعبادت سے ادا نہیں کرتے اُنہیں نبی کریمﷺ کے فرمان سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے جس میں آپﷺ نے نماز کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا۔ اس حوالے سے مسند احمد میں انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز کے اندر رکھی گئی ہے۔‘‘
اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو نماز کی ادائیگی کے حوالے سے کتاب وسنت کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!

یہ بھی پڑھیں: -   قائد اعظم کا اسلام… (2)
Allama Ibtisam Elahi Zaheer
علامہ ابتسام الہی ظہیر

مصنف کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں