columns of Javed Chaudhary 98

پرویز خٹک فیکٹر

’’ہم آج بھی بچ جائیں گئے اور ہمیں آگے بھی کوئی خطرہ نہیں ہوگا‘‘ ان کے لہجے میں یقین تھا‘ میں نے ہنس کر جواب دیا ’’اللہ کرے ایسا ہی ہو لیکن میری معلومات کہتی ہیں آپ اگر آج بچ بھی گئے تو بھی زیادہ دن نہیں نکال سکیں گے۔

آپ کا ہرآنے والا دن نئی مشکلات لے کر طلوع ہو گا‘‘ وہ تھوڑی دیر غور سے مجھے دیکھتے رہے اور پھر بولے ’’تم پڑھے لکھے اور ذہین ہو‘ میں تمہاری کمپنی کو بھی انجوائے کرتا ہوں لیکن تم بے انتہا نیگیٹو ہو اور مجھے تمہاری یہ بات بہت بری لگتی ہے‘‘ میں نے بڑی توجہ سے ان کی بات سنی اور پھر عرض کیا ’’حکومت کی سب سے بڑی سپورٹ پاکستان پیپلز پارٹی تھی‘ یہ سندھ میں حکومت کی وجہ سے آپ کی مدد پر مجبور تھی‘ پی ڈی ایم مارچ میں استعفے دے رہی تھی لیکن آصف علی زرداری نے دس منٹ تقریر کی ‘ پی ڈی ایم ٹوٹ گئی اور حکومت بچ گئی‘ اس کے بعد بھی جب حکومت پریشر میں آئی۔

یہ پیپلزپارٹی کی مدد سے بچ گئی لیکن اب آپ اور پیپلز پارٹی دونوں کو باندھ کر رکھنے والا ربن تبدیل ہو چکا ہے‘ ہواؤں کے اس بدلتے ہوئے رخ کو پیپلز پارٹی نے آپ سے پہلے بھانپ لیا تھا لہٰذا بلاول بھٹو نے ایک ماہ قبل انس نورانی کے ذریعے مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کیا اور ساتھ چلنے کا اشارہ دے دیا‘ یہ اشارہ بڑھتے بڑھتے 8 نومبر تک پہنچ گیا‘ سوموار کو پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس تھا‘ عسکری قیادت نے پارلیمنٹیرینز کو تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں بریفنگ دینی تھی۔

وزیراعظم حسب معمول میٹنگ میں شامل نہ ہوئے‘ میاں شہباز شریف سب سے پہلے بولے اور سب کو حیران کر دیا‘ یہ تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات اور معاہدے کے خلاف تھے‘ ان کا کہنا تھا’’ہم نے ٹی ٹی پی کے ہاتھوں بہت نقصان اٹھایا‘ اے پی ایس میں 150 لوگ شہید ہو گئے‘ پریڈ لین مسجد پر حملہ ہوا اور میجر جنرل‘ چھ آفیسرز اور آرمی آفیسرز کے17 بچے شہیدہو گئے‘ جی ایچ کیو اور آئی ایس آئی کے دفتروں پر بھی حملے ہوئے اور اس ایوان میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کے پیارے ٹی ٹی پی نے چھین لیے تھے‘‘ میاں شہباز شریف نے اس کے بعد بلاول بھٹو کی طرف اشارہ کیا اور کہا ’’بلاول بھٹو نے اپنی والدہ کھو دی‘‘ امیر حیدر خان ہوتی کی طرف اشارہ کر کے کہا ’’اے این پی کے قائد اسفند یار ولی پر بھی حملہ ہوا اور بشیر بلور اور ہارون بلور بھی شہید ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: -   یہ فتح تو ہے مگر کس کی؟

لہٰذا میں ان لوگوں کے ساتھ مذاکرات کے حق میں نہیں ہوں‘‘ اس گفتگو نے شہباز شریف اور بلاول بھٹو کے درمیان دوری ختم کر دی‘ بلاول بھٹو نے بھی میاں شہباز شریف کی تائید کر دی اور اس کے بعد اپوزیشن کی تمام پارٹیوں نے معاہدے کی مخالفت کر دی لہٰذا فیصلہ ہوا مذاکرات کے بارے میں فارمولا پارلیمنٹ کے سامنے رکھا جائے گا اور فیصلہ وہاں ہو گا لیکن میٹنگ کے بعد فواد چوہدری نے ٹویٹ کر دی‘تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات جاری ہیں اور ہم طویل جنگ کے بعد امن کی طرف بڑھ رہے ہیں‘یہ بھی خبر ملی پاکستانی زعماء اور ٹی ٹی پی کے درمیان کابل میں دو اور خوست میں ایک میٹنگ ہو چکی ہے اور طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی ٹی ٹی پی کے گارنٹر ہیں‘ مغربی میڈیا نے یہ خبر بھی دے دی پاکستان اور ٹی ٹی پی میں معاملات طے پا چکے ہیں بس اعلان باقی ہے۔

یہ معلومات جب اپوزیشن کے نوٹس میں آئیں تو بلاول بھٹو نے میاں شہباز شریف سے ملاقات کی اور دونوں نے مل کر چلنے کا فیصلہ کر لیا‘ یہ فیصلہ بھی ہوا یوسف رضا گیلانی 9 نومبر کو میاں شہباز شریف کے چیمبر میں اپوزیشن سے میٹنگ کریں گے اور ن لیگ اور جے یو آئی کے سینئر لوگ اس میٹنگ میں شریک ہوں گے اور یہ پاکستان پیپلز پارٹی اور اے این پی کی پی ڈی ایم میں سافٹ واپسی سمجھی جائے گی اور ن لیگ اور جے یو آئی یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بھی مان لے گی۔

9 نومبر کو اجلاس بھی ہو گیا اور یہ فیصلہ بھی ہو گیا پاکستان پیپلز پارٹی 11 نومبر کے مشترکہ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کے دس ارکان کو اپوزیشن بینچوں پر لے آئے گی یا پھر یہ لوگ اس دن ایوان سے غائب ہو جائیں گے‘ حکومت اپنے بلز پاس نہیں کرا سکے گی اور یوں یہ جمعرات کے دن اپنا اخلاقی وجود کھو بیٹھے گی‘ 9 نومبر کی شام میاں شہباز شریف نے عشائیہ دیا اور اس میں اپوزیشن لیڈر سمیت قومی اسمبلی کے 180 ارکان شامل تھے لہٰذا یہ سب اب حکومت کے خلاف اکٹھے ہو چکے ہیں‘‘۔

وہ خاموشی سے میری گفتگو سنتے رہے‘ میں خاموش ہوا تو وہ بولے ’’لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے‘ یہ ہمارا کیا بگاڑ لیں گے؟‘‘ میں نے مسکرا کر جواب دیا ’’سر اس بار فرق پڑے گا‘ یہ لوگ اگر آپ کے دس ممبر توڑنے میں کام یاب ہو گئے تو حکومت ختم ہو جائے گی‘ آپ یہ یاد رکھیں وہ لوگ اب آپ کے ساتھ نہیں ہیں جو آپ کے ناراض ارکان کو اگلے دن واپس لے آتے تھے یا اپوزیشن کے پندرہ سولہ لوگوں کا اچانک ضمیرجگا دیتے تھے اور آپ بچ جاتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: -   بروٹس تیرے جانثار بے شمار بے شمار

اس بار آپ کو اپنا بوجھ خود اٹھانا پڑے گا‘ ن لیگ اگر پنجاب میں تبدیلی کے لیے مان گئی یا پرویز خٹک فیکٹر چل گیا تو آپ پانچ سال تو دور یہ سال بھی پورا نہیں کر سکیں گے‘‘ وہ ہنسے اور ہنستے چلے گئے اور میں انھیں خاموشی سے دیکھتا رہا‘ وہ رکے اور پھر بولے ’’یہ اب پرویز خٹک فیکٹر کیا ہے‘ خواہش کو خبر بنانا کوئی تم سے سیکھے‘‘ میں نے عرض کیا ’’میاں شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن اسمبلیاں توڑ کر نیا اور غیر جانب دار الیکشن چاہتے ہیں لیکن جمہوریت پسند پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی طرح اس اسمبلی کو بھی پوری مدت دینا چاہتے ہیں۔

دو ماہ قبل دو آپشن تھے‘ تحریک عدم اعتماد پیش ہوتی اور میاں شہباز شریف اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنا لیتے اور دوسرا آپشن قومی حکومت تھی‘ ساری پارٹیاں مل کر حکومت بنا لیں اور اسمبلیاں اپنی مدت پوری کر لیں لیکن میاں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن نے یہ دونوں آپشن مسترد کر دیے‘ یہ قومی حکومت یا میاں شہباز شریف کو اقتدار میں لانے کے لیے راضی نہ ہوئے‘ ڈیڈ لاک ہو گیا اور اس ڈیڈ لاک سے پرویز خٹک فیکٹر نے جنم لے لیا‘ اپوزیشن نے فیصلہ کیا اگر عمران خان ڈس کوالی فائی ہو جاتے ہیں اور پرویز خٹک اپنا دھڑا سامنے لے آتے ہیں تو یہ بے شک وزیراعظم بن جائیں اور اپوزیشن کے ساتھ مل کر انتخابی اصلاحات کریں۔

میاں نواز شریف کو واپس آنے دیں‘ ان کے خلاف مقدمات واپس لے لیں اور اگلے الیکشن غیر جانب دار اور شفاف کرانے کا بندوبست کر دیں تو اپوزیشن انھیں تسلیم کر لے گی چناں چہ اپوزیشن سردست پرویز خٹک کو وزیراعظم مان چکی ہے‘‘ وہ پھر ہنسے اور بولے ’’میں آپ کی افسانہ نویسی کا قائل ہو گیا ہوں‘ آپ نے کیا ڈرامہ تخلیق فرمایا ہے‘‘ میں نے بھی ہنس کر کہا ’’آپ کی سیاسی تاریخ میں آج 11 نومبر کا دن بہت اہم ہو گا‘ آپ لوگ کل سے اپوزیشن کے پندرہ لوگ غائب کرنے میں مصروف ہیں اور اپوزیشن آپ کے دس بندوں پر نظریں جما کر بیٹھی ہے‘ آج دیکھتے ہیں کون کام یاب ہوتا ہے‘ آپ یا وہ لیکن ایک چیز طے ہے آپ اگر آج بچ گئے تو بھی آپ زیادہ دنوں تک سروائیو نہیں کر سکیں گے‘ وقت آپ کو اگلے آرمی چیف کی تعیناتی کی مہلت نہیں دے گا‘‘ ۔

یہ بھی پڑھیں: -   مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا

وہ ہنسے اور بولے ’’کیوں؟‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا ’’آپ کی ساری سیاسی حماقتیں اپنی جگہ لیکن آپ کی تین بڑی غلطیوں نے آپ کے ساتھ ساتھ ملک کا بھی کچومر نکال دیا‘ آپ نے عالمی برادری کو اپنا دشمن بنا لیا‘ آج امریکا بھی ہم سے ناراض ہے اور چین بھی‘ یہ دونوں عمران خان کے ساتھ چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ آپ نے معیشت کا جنازہ نکال دیا‘ آج حالت یہ ہے آپ نے تعمیرات کی صنعت کو کھربوں روپے کی ایمنسٹی دی لیکن کل اس انڈسٹری نے بھی حکومت کے خلاف اشتہار دے دیا‘ آپ کی معاشی حماقتوں کی وجہ سے انڈسٹری مکمل طور پر بیٹھ گئی ہے۔

یہ اب صرف کاغذوں میں دکھائی دیتی ہے اور آپ کی تیسری حماقت مہنگائی ہے‘ حکومت سرپلس چینی کے باوجود ملک میں اس کے ریٹس بھی کنٹرول نہیں کر پا رہی‘ ڈالر منٹوں کے حساب سے اوپر نیچے آ جا رہا ہے لیکن آپ سے جب بھی پوچھا جاتا ہے تو آپ اسے عالمی مسئلہ قرار دے دیتے ہیں یا ساڑھے تین سال بعد بھی اسے پچھلی حکومت کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں چناں چہ آپ اگر آج اپوزیشن سے بچ بھی گئے تو بھی آپ چند دنوں میں ان میں سے کسی ایک گڑھے میں جا گریں گے‘ آپ کا ہر آنے والا دن اب آپ کو اقتدار سے دور لے کر جائے گا‘‘ میں خاموش ہو گیا‘ میرے دوست نے انتہائی خوف ناک قہقہہ لگایا اور میری طرف نفرت سے دیکھ کر رخصت ہو گیا۔

columns of Javed Chaudhary
جاوید چودھری

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں