Attaul-Haq-Qasmi 103

محمد رفیق ایم این اے !

میرے دوست بچپن سے مجھے پاکستان کا وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں ،آج بھی جب ملتے ہیں تو پہلی بات یہی کرتے ہیں کہ وزیر اعظم کب بن رہے ہو ،خصوصاً رفیق ایم ان اے تو میری جان کو آیا ہوا ہے ،وہ جب بھی ملتا ہے اپنے بچپن کی دیرینہ عادت کے مطابق ناک میں اپنے ہاتھ کی چھنگلی (چیچی) گھماتے ہوئے کہتا ہے ’’یار اب نخرے چھوڑو، وزیر اعظم بن جائو ‘‘ اور ہاں اپنے نام کے ساتھ اس نے ایم این بقلم خود لگایا ہوا ہے، کیونکہ وہ مجھے بچپن ہی سے وزیر اعظم بننے پر مسلسل اصرار اس لئے کرتا ہے کہ اسے بچپن ہی سے ایم این اے بننے کا شوق ہے ،اسے یقین ہے کہ میں جب چاہوں وزیر اعظم بن سکتا ہوں اور اس کے بعد ایم این اے کا ٹکٹ سب سے پہلے جسے دوں گا وہ رفیق ایم این اے ہی ہو گا۔کچھ عرصے سےاس نے خدا بخش صوبیدار (ریٹائرڈ) سے دوستی گانٹھی ہوئی ہے صوبیدار (ر) خدا بخش ایک بینک میں بطور گارڈ ملازم ہے رفیق ایم این اے روزانہ اسے ملنےجاتا ہے اور مونگ پھلی، سنگھاڑے اور سردیوں کی اسی طرح کی سوغاتیں اس کے ساتھ بیٹھ کر کھاتا ہے ۔ رفیق ایم این اے چند روز پیشتر مجھے بتا رہا تھا کہ اس نے صوبیدار خدا بخش سے بات کی ہے لیکن اس اکیلے کی سفارش کافی نہیں تم وزیر اعظم بننے کےلئے کچھ دوسرے موثر حلقوں سے بھی بات کرو۔ رفیق ایم این اے کے ہاتھ تو بہت لمبے ہیں وہ صوبیدار تک پہنچ گیا ہے مگر میرے دوستوں میں اتنا اہم کوئی نہیں جو میرے لئے کنویسنگ کرسکے ۔

یہ بھی پڑھیں: -   قطار اندر قطار ’’پیرانِ عظام‘‘؟

گزشتہ روز رفیق ایم این اے میرے پاس آیا اس روز وہ مجھ سے لڑنے کے موڈ میںتھا اس نے بیٹھتے ہی غصے سے کہا ’’ تم مجھ سے حسد کرتے ہو میں نے عرض کی ’’یار میں تم سے حسد کیوں کروں گا!‘‘ یوں ’’اس لئے کہ اگر تم وزیر اعظم بن گئے تو تمہیں مجھے ایم این اے بنانا پڑے گا مگر تم مجھ سے حسد کی وجہ سے وزیر اعظم نہیں بننا چاہتے ‘‘ یہ سن کر میری ہنسی نکل گئی میں نے کہا ’’ چلو یار تم اگر بدگمانی پر اتر آئے ہو تو میں وزیر اعظم بن ہی جاتا ہوں‘‘ یہ سن کر وہ خوشی سے تقریباً پاگل ہو گیا اور اپنی ناک میں پھیرنے والی چھنگلی میرے ہونٹوں پر رکھ کر کہا ’’خاموش‘‘ اب یہ بات کسی اور کے سامنے نہ کہنا وہ سب کے سب تم سے عہدےمانگیں گے اور پھر تم بھول جائو گے کہ تم نے سب سے پہلا وعدہ مجھے ایم این اے بنانے کا کیا ہوا ہے ‘‘ میں نے جواب دیا ’’تم فکر نہ کرو یہ بات صرف میرے اور تمہارے درمیان رہے گی ،مگر یار ایک پرابلم ہے ،پوچھا ’’وہ کیا ہے‘‘ میں نے کہا یہی کہ وزیر اعظم کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے ،بے گھر لوگ اپنا گھر چاہتے ہیں، بیروزگار نوکری چاہتے ہیں ، غریب لوگ روٹی مانگتے ہیں، میں یہ سب کچھ کیسے فراہم کروں گا ‘‘ یوں ’’کرنا نہ کرنا بعد کی باتیں ہیں تم اپنی پہلی تقریر میں کروڑوں نوکریوں ، کروڑوں گھروں اور کروڑوں روٹیوں کا وعدہ کرنا، اللہ سائیں خیر کرے گا‘‘

یہ بھی پڑھیں: -   یہ بھی ایک لائف اسٹائل ہے

میں نے پوچھا ’’اگر میں نے اپنے وعدے پورے نہ کئے تو لوگ مجھے گالیاں دیں گے ’’یوں‘‘گالیاں تم اپنی کرتوتوں کی وجہ سے کب سے کھا رہے ہو تمہیں کچھ فرق پڑا ؟نہیں پڑا نہ، بس جب لوگ شور شرابا کرنے لگیں تو ان کی زبانیں میں چپ کرا دوں گا‘‘ میں نے پوچھا ’’وہ کیسے’’ بس یوں سب کچھ گزشتہ حکومتوں پر ڈال دینا کہ وہ خزانہ خالی کر گئے ہیں۔‘‘میں نے عرض کی ،’’ ایم این اے صاحب یہ بہانہ کب تک چلے گا ۔‘‘ایم این اے نے جواب دیا ،’’ جب تک چلے چلاتے رہنا اور جب اخیر ہو جائے تو وہی کرنا جو ایک جہاز کے پائلٹ نے کیا تھا ۔‘‘

میں نے پوچھا ’’کیا کیا تھا اس نے ’’بولا‘‘ اس کا جہاز جب دوران پرواز ہچکولے کھانے لگا بلکہ اندیشہ ہوا کہ شدید جھٹکوں کی وجہ سے یہ جہاز کریش کر جائے گا تو مسافروں نے مارے خوف کے چیخنا چلانا شروع کر دیا ۔اس پر مائیک سے جہاز کے کپتان کی آواز سنائی دی وہ کہہ رہا تھا آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں آپ محفوظ ہاتھوں میں ہیں آپ اپنا دھیان ہٹانے کے لئے اپنی کھڑکی سے باہر دیکھیں، آپ کو نیلا سمندر نظر آئے گا۔رنگ برنگےآبی پرندے فضا میں تیرتے دکھائی دیں گے خوبصورت کشتیاں سمندر میں رواں دواںہیں اور جو سرخ رنگ کی کشتی آپ کو نظر آ رہی ہے میں اس کشتی ہی سے بول رہا ہوں !

Attaul-Haq-Qasmi
عطاءالحق قاسمی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں