asifali 122

چھا گئے آصف

’’اتنا رش‘‘

میچ شروع ہونے سے 2 گھنٹے قبل اسٹیڈیم پہنچنے پر بھی جب میں نے باہر شائقین کا جم غفیر دیکھا تو زیر لب یہی الفاظ ادا کیے، ان میں سے بڑی تعداد افغان شائقین کی ہی تھی، پاکستانی بھی قومی پرچم تھامے اندر داخلے کے منتظر تھے، مجھے ایک صحافی نے بتایا کہ سیکڑوں افراد کے پاس تو ٹکٹ بھی موجود نہیں لیکن وہ یہاں آ گئے ہیں کہ شاید کسی طرح میچ دیکھنے کا موقع مل جائے،افغانستان چند برسوں سے پاکستان کو روایتی حریف سمجھنے لگا ہے۔

باہمی میچز میں خاصا تناؤ دیکھنے کو ملتا ہے، 2 برس قبل ورلڈکپ کا میچ بھی کشیدہ ماحول میں کھیلا گیا تھا،انگلینڈ میں اس وقت میچ ہارنے کا غصہ افغان شائقین نے پاکستانیوں پر نکالا تھا،یو اے ای کی سیکیورٹی فورسز نے اسی لیے آج بھی سخت انتظامات کیے تھے،گھوڑوں پر سوار اہلکار بھی نظر رکھنے کے لیے موجود رہے،البتہ اس کے باوجود بہت سے لوگ بغیر ٹکٹ اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے دکھائی دیے جس سے ٹکٹ خرید کر آنے والوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا،اسٹینڈز کے اندر بھی نجی سیکیورٹی کمپنیز کے اہلکار موجود رہے۔

شائقین جب جذبات کی رو میں زیادہ بہنے لگتے تو وہ انھیںں پرسکون رہنے کی ہدایت کرتے، پاکستانی کراؤڈ کا جوش بڑھانے کے لیے چچا کرکٹ بھی اسٹینڈ میں موجود تھے،ڈھول باجے بھی آئے تھے جس کے شور میں رقص بھی ہوتا رہا، شاہین آفریدی سے مداحوں کو بھارت کیخلاف میچ جیسی کارکردگی کی امیدیں تھیں، اسی لیے وہ ’’آفریدی آفریدی ‘‘ کے نعرے لگاتے رہے،اس وقت تو اسٹیڈیم تالیوں سے گونج اٹھا جب اسٹیڈیم میں سینئر آفریدی یعنی شاہد آفریدی پر کیمرہ فوکس ہوا، وہ چند روز قبل ہی یو اے ای آئے ہیں،افغان ٹیم کے پاس کئی پاور ہٹرز موجود ہیں لیکن ان کا سامنا اس بار پاکستان کی مضبوط بولنگ سے ہوا جس کے سامنے چھکے،چوکے لگانا آسان نہ تھا،اس کے باوجود انھوں نے 147رنز بنا لیے،میڈیا سینٹر آج بھی مکمل بھرا ہوا تھا، کراچی سے سینئر صحافی احسان قریشی بھی دبئی پہنچ چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   شاہین بطورکپتان پہلا ایونٹ یادگاربنانے کے خواہاں

میڈیا سینٹر میں ان سے ملاقات ہوئی، انھوں نے بتایا کہ ویزا کئی دن بعد آیا جس کی وجہ سے تاخیر سے پہنچے،وہ 7ورلڈکپ کور کر چکے ہیں، احسان قریشی انگریزی اسپورٹس صحافت کا بڑا نام رہ چکے، اب وہ یوٹیوب پر دلچسپ ویڈیوز بناتے ہیں، جیسے جیسے میچ آگے بڑھ رہا تھا کراؤڈ کی تعداد میں بھی اضافہ ہونے لگا،جتنا شور کسی وکٹ کے گرنے پر مچتا باؤنڈری پر بھی ویسی ہی آوازیں آتیں اس سے ظاہر ہوا کہ دونوں ٹیموں کے کراؤڈ کی یکساں تعداد پہنچ چکی تھی،جس طرح سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے کئی برس تک پاکستان کو اپنی کرکٹ یو اے ای میں کھیلنا پڑی، افغانستان نے شارجہ کو اپنا ہوم گراؤنڈ بنایا ہوا ہے،اس نے 2016 سے اب تک یواے ای میں سب سے زیادہ 15 میچز جیتے،14 فتوحات کے ساتھ پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔

شارجہ کی اسپن بولنگ کے لیے سازگار پچ تو افغان بولرز کے لیے آئیدیل ثابت ہوتی رہی ہے، آج پاکستان کے خلاف کسی افغان بیٹسمین نے نصف سنچری تو نہیں بنائی مگر پھر بھی بہتر اسکور بن گیا،حسن علی ٹیم کی کمزور کڑی ثابت ہو رہے ہیں، اب تک تین میچز میں انھوں نے 108رنز دے کر صرف 3 وکٹیں لی ہیں، اس دوران ان کا اکانومی ریٹ بھی تقریبا 10کا رہا،شاید اگلے میچز میں ٹیم مینجمنٹ نوجوان وسیم جونیئر کو آزمانے کے آپشن پر بھی غور کرے، ویسے بھی نمیبیا اور اسکاٹ لینڈ کیخلاف 1، 2 تبدیلیاں کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، شاداب خان کی بولنگ میں خاصی بہتری نظر آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   فتح خوش آئند مگر

انھوں نے وکٹیں تو 2 ہی لیں تاہم حریف بیٹسمینوں کو کھل کر نہیں کھیلنے دیا، پاکستان کی جب بیٹنگ آئی تو بابر اعظم کے مداحوں نے ان کی ایک اور اچھی اننگز سے انجوائے کیا مگر وہ میچ فنش کرنے سے پہلے ہی وکٹ گنوا بیٹھے، ایک موقع پر ایسا لگتا تھا جیسے میچ پاکستان کے ہاتھوں سے نکل گیا تھا، ایسے میں آصف علی ایک بار پھر ٹیم کی مدد کو سامنے آئے، ان کے 4 چھکوں نے شائقین کے مرجھائے ہوئے چہرے پھر کھلا دیے، اس وقت اسٹیڈیم میں آصف آصف کے نعروں کی گونج ہے، لوگوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں، جیوے جیوے پاکستان کے نعرے لگاتے ہوئے شائقین رقصاں ہیں۔

ایک جذباتی شائق تو میچ ختم ہونے کے بعد گراؤنڈ میں بھی داخل ہو گیا جسے سیکیورٹی اہلکار نے پکڑ لیا،اس کو شاید اب اس حرکت کے بعد واپس وطن ڈی پورٹ کر دیا جائے گا، ورلڈکپ جیسے ایونٹس کرکٹرز کو ہیرو یا زیرو بناتے ہیں، اب تک آصف علی ہیرو کے روپ میں سامنے آئے ہیں۔

اس سے قبل ان پر خاصی تنقید ہوتی رہی تھی، پی ایس ایل کی کارکردگی وہ پاکستان ٹیم کیلیے دہرانے میں ناکام رہے تھے مگر اب نئے روپ میں سامنے آئے ہیں، اتنے دباؤ کے عالم میں وہ جس خوبصورتی سے گیند کو فضائی روٹ سے مسلسل باہر پہنچاتے رہے وہ قابل تعریف ہے، پاکستان ٹیم نے اب مسلسل تیسرا میچ جیت کر فائنل فور میں جگہ پکی کر لی ہے، ثقلین مشتاق اور بابر اعظم تعریف کے مستحق ہیں جنھوں نے اب تک ٹیم کو بہترین انداز میں میدان میں لڑوایا ہے، اب اگلے 2 میچز آسان حریفوں سے ہیں، انھیں جیت کر ٹیم بھرپور اعتماد کے ساتھ سیمی فائنل میں حصہ لے سکتی ہے، اس وقت زبردست مومینٹم بن چکا اور ٹرافی دسترس میں دکھائی دینے لگی ہے،بس مینجمنٹ کو کھلاڑیوں کو یہی سجھانا ہوگا کہ ان کامیابیوں کو دماغ پر سوار نہیں کرنا ابھی منزل دور ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   چور کی داڑھی میں تنکا

اس ورلڈکپ میں یو اے ای میں فی الحال میرا سفر یہیں تک کا تھا اب اگر ٹیم نے فائنل میں جگہ بنائی تو پھر انشااللہ آنے کی کوشش کروں گا، خوشگوار یادیں لیے وطن واپسی کی تیاری کر رہا ہوں،ٹیم نے پورے پاکستان کو خوشیاں فراہم کر دی ہیں، بس اب ٹرافی جیت جائیں تو مزا ہی آ جائے۔

Saleem Khaliq
سلیم خالق

سلیم خالق کی تمام تحاریر ایکسپریس بلا گ سے لی جاتی ہیں. مزید پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں