Columns of Saadullah jaan barq 94

معاون خصوصی برائے ادبی امور

سب سے پہلے تو ہمیں معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی جناب مولانا حافظ طاہراشرفی کاشکریہ ادا کرنے دیجیے کہ یہ نادرونایاب خیال جو ہمارے ’’خراب آباد‘‘ دل میں پھوٹا ہے، ان ہی کانام اورمنصب پڑھ کر پھوٹا ہے بلکہ ساتھ ہی کچھ خیالات بھی پھوٹے ہیں لیکن ان سب کوگھاس پھوس سمجھ کرتلف کردیتے ہیں۔

معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی نئے پاکستان بلکہ ریاست مدینہ کانیاعہدہ یامنصب معلوم ہوتاہے کیوںکہ مذہبی امورکے مشیرومعاون تو پہلے بھی ہوتے تھے لیکن ’’مذہبی ہم آہنگی‘‘کایہ منصب بالکل نیاہے ۔

ویسے تبدیلی والی حکومت کوداد نہ دینا انتہائی بخیلی اورکنجوسی ہوگی کہ کم ازکم مراتب ومناصب (جنھیں ہم اپنی دیہاتی زبان میں نوالوں کے لیے ’’منہ‘‘کہتے ہیں) کی حد تک تو ’’نیاپن‘‘نظرآرہاہے مثلاً مذہبی ہم آہنگی ،موسمیاتی تبدیلی وغیرہ مثلاً اس سے پہلے صرف موسمیات کامحکمہ ہوتاتھا لیکن ایک محترمہ جس کانام لیتے ہی منہ میں بتاشہ ساگھل جاتاہے وہ وزیرہ مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی ہیں اوریہ بہت ہی اہم منصب ہے۔
موسمیاتی تبدیلی میں تو تبدیلی کالفظ بھی ہے ،یہ تو ہمیں معلوم نہیں کہ آں محترمہ،کرتی کیاہیں لیکن شاید وہ وزیراعظم یاحکومت کو یہ بتاتی ہوگی کہ موسمی یا فصلی یا زراعت کاروں میں مروج جیٹھ ہاڑ ساون بھادوں میں سے کون سا مہینہ چل رہاہے اوراس موسم میں کس قسم کے بیانات کی کاشت یابرداشت کی جاسکتی ہے، اس موقع پر ہمارے دل میں ایک تیرسابھی ترازو ہوگیاہے، بچاری عائشہ گلالئی۔۔

تم نہ جانے کس جہاں میں کھوگئیں

خیرباقی ساری باتوں کوتو کک آؤٹ بلکہ فردوس عاشق اعوان یاجسٹس وجہیہ الدین یاجاوید ہاشمی کر دیجیے،مطلب کی بات نمایندہ خصوصی برائے کی ہے، ہم نے جب اس فہرست پرنظر ڈالی تو اچانک ایک دکھ بھرا احساس ہوا اورمنہ سے بے ساختہ نکلا۔

یہ بھی پڑھیں: -   ریاست مدینہ کا راستہ

آسماں کتنے ستارے ہیں تری محفل میں
اپنی قسمت کامگرکوئی ستارہ نہ ہوا

آخر اتنے ڈھیرسارے ’’امور‘‘اوران کے معاون خصوصی اورہمارا یہ خالی دامن،ہمارامطلب ’’ادبی امور‘‘ سے ہے آخر ماڑے ماٹھے سہی لیکن ادب اورادیبوں کے بھی تو ’’امور‘‘ ہوتے ہیں بلکہ ہمارے خیال میں کچھ زیادہ ہی ہوتے ہیں کہ آج تک حکومتوں میں سے کسی بھی حکومت نے اس فرقے کوسوکھی گھاس بلکہ سوکھا بھوسہ تک نہیں ڈالا۔

شاید آپ کاخیال اکیڈمیوں کی طرف جائے لیکن اکیڈمیاں دراصل اردومیں’’ اک آدمی‘‘ یا ’’اک آدمیاں‘‘ ہوتی ہیں۔

عام شاعروں ادیبوں بلکہ ادب کے لیے بھی کم ازکم ایک معاون خصوصی توہونا ہی چاہیے ،اگر صوبوں میں اپنے اپنے ہوں تو وہ حلوہ اوربھی میٹھا ہوجائے گا لیکن فی الحال ہم حکومت بلکہ حکومت کے انصاف اورتبدیلی کی توجہ اس طرف مبذول کرنا چاہتے ہیں ۔

سب کی باراتیں آئیں میری بھی تم لانا
دلہن بناکے مجھے ڈولی میں لے جانا

ویسے اس سلسلے میں حکومت کو زیادہ تردد کرنے کی بھی ضرورت نہیں، آخر ہم ہیں نا مدد کرنے کے لیے بلکہ آپ سے کیا پردہ ہم ایسا ایک جوہرقابل ڈھونڈ بھی چکے جوہرلحاظ سے اس منصب کے لیے کوالی فائی کرتا ہے، آپ یقیناًپوچھیں گے اورحکومت پربھی ہمیں بھروسہ ہے کہ ہماری اس تجویزکو اہلاً وسہلاً ومرحباکہا جائے گاکہ وہ جوہرقابل کون ہے ؟

یارب آں شاہ وش ماہ رخ وزہرہ جبیں
دریکتائے کہ وگوہریک دانہ کسیت

تو اس سلسلے میں ہم نہایت ادب واحترام اور فخرو انبساط اپنا نام نامی واسم گرامی پیش کریں گے، بغیرکسی غروروتکبرکے، نہایت انکسار اورانکساری کے ساتھ۔

یہ بھی پڑھیں: -   سوشل میڈیا‘تاریخ نگاری اور مذہب

ویسے ایک اورپیش کش بھی ہم ملک وقوم اور حکومت کے ساتھ تعاون کے جذبے سے کرتے ہیں کہ ہم اپناشکرانہ یاہدیہ ’’انصاف‘‘ سے لیں گے، مطلب ہے کہ نصف۔ نمایندگان خصوصی کو جو کچھ دیاجاتاہے اسے نہایت انصاف کے ساتھ نصف کرکے قبول کرلیں گے ،ہماری طرف سے یہ پیش کش محدود مدت کے لیے ہے کیوں کہ یہ پتہ ہمیں خود بھی نہیں کہ کب کسی اورطرف مائل ہوجائیں۔

Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں