Allama Ibtisam Ilahi Zaheer 123

تکالیف اور غموں سے نجات

ہر مذہب اور طبقے سے تعلق رکھنے والے انسانوں کے اہداف میں جو چیز مشترک ہے وہ مصائب اور غموں سے نجات ہے۔ ہر شخص غموں سے پاک اور خوشیوں سے بھرپور زندگی چاہتا ہے۔ لوگ اپنی توانائیوں اور وسائل کو خوشیوں اور سکون کے حصول کے لیے صرف کرتے ہیں۔ کئی لوگ اپنے ہدف کے حصول میں جزوی طورپر کامیاب ہو جاتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ اس ہدف کے حصول میں کامیابی حاصل کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اچھی اور پُر مسرت زندگی کے حصول کے لیے امیر اور غریب اپنے اپنے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے یکساں طور پر جستجو کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ خوشی کو مادی عروج میں تلاش کرتے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ فقط مادی عروج سے انسان پُرسکون زندگی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا، دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت سے لوگ امارت، عہدے، شہرت اور ثروت کے حصول کے باوجود دکھی زندگی گزاررہے ہوتے ہیں ۔گاڑیوں کی ریل پیل، بینک بیلنس اور خو بصورت بنگلوں میں رہنے کے باوجودوہ مختلف طرح کی ذہنی اذیتوں کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کے مدمقابل اللہ تبارک وتعالیٰ کی عبادت کوفراموش کرکے فقط انسانوں کی خدمت کے ذریعے سکون تلاش کرنے والے لوگ بھی جزوی طور پر ہی اپنے مقصد میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔ مادی عروج اور شہرت کے باوجود بے سکون رہنا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ انسان کو سکونِ قلب کے لیے کچھ اور چیزوں کی بھی ضرورت ہے۔ جب تک وہ ان اشیا یا ان اعمال کی انجام دہی نہیں کرے گا‘ اس وقت تک اسے ذہنی سکون اور مسرت حاصل نہیں ہو سکتی۔
کتاب وسنت کا مطالعہ ہمیں یہ بات سمجھاتا ہے کہ اچھی اور پُرمسرت زندگی کے حصول کے لیے انسان کو بعض اہم تدابیر اختیار کرنا ہوں گی اگر وہ ان تدابیر کو اختیار کرلے تو یقینا اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے اس کے غم اور دکھ دور ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے ہمیں قرآن وسنت سے جو تعلیمات حاصل ہوتی ہیں‘ ان میں سے بعض اہم نکات کی شکل میں درج ذیل ہیں:
1۔ ایمان اور تقویٰ: اگر انسان ایمان اور تقویٰ والی زندگی گزارنا شروع کردے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے فضل وکرم سے اس کے غموں اور تکالیف کو دور فرما دیتے ہیں۔اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ یونس کی آیات62 تا 63میں ارشاد فرماتے ہیں: ”یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور (برائیوں سے) پرہیز رکھتے ہیں‘‘۔ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 257 میں ایمان کے اثرات کے حوالے سے اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ”ایمان لانے والوں کا کارساز اللہ تعالیٰ خود ہے وہ انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لے جاتا ہے ‘‘۔اسی طرح تقویٰ کے نتائج کے حوالے سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ طلاق کی آیت نمبر 2میں ارشاد فرمایا: ”اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے‘‘۔
2۔ عملِ صالح: اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجید کے کئی مقامات پر عملِ صالح کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور سورہ عصر میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ بات واضح کی ہے کہ تمام انسانیت خسارے میں ہے سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے چار طرح کے کام انجام دیے ۔ ان چار کاموں میں سے سب سے پہلے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایمان اور عملِ صالح کا ذکر کیا ہے۔ اس طرح اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ نحل کی آیت نمبر 97میں ارشاد فرماتے ہیں: ”جو شخص نیک عمل کرے‘ مرد ہو یا عورت، لیکن با ایمان ہو‘ تو ہم اُسے یقینا نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے اور اس کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی اسے ضرور‘ ضرور دیں گے‘‘۔
3۔ نماز اور صبر سے تمسک: قرآنِ مجید نے بہت سے اعمالِ صالحہ کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے جن میں نماز اور صبر خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہلِ ایمان کو اس بات کی تلقین کی ہے کہ انہیں نماز اور صبر کے ذریعے اللہ تبارک وتعالیٰ کی مدد حاصل کرنا چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ بقرہ کی آیت نمبر153 میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اے ایمان والو!صبر اور نماز کے ذریعہ سے مدد چاہو، اللہ تعالیٰ صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے‘‘۔اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں زندگی کے نشیب وفراز کے دوران اللہ تعالیٰ کی مدد کے حصول کے لیے نمازاور صبر کے راستے کو اختیار کرنا چاہیے۔
4۔ توکل: قرآنِ مجیدکے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسانوں کی زندگی میں آ نے والی مشکلات درحقیقت اللہ تبارک وتعالیٰ کے حکم سے آتی ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ توبہ کی آیت نمبر 51میںارشاد فرماتے ہیں: ”آپ کہہ دیجئے کہ ہمیں سوائے اللہ کے ہمارے حق میں لکھے ہوئے‘ کوئی چیز پہنچ ہی نہیں سکتی‘ وہی ہمارا کارساز اور مولیٰ ہے ، مومنوں کوتواللہ تعالیٰ کی ذاتِ پاک پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے‘‘۔سورہ طلاق میں ارشاد ہوا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ان لوگوں کے لیے کافی ہو جاتے ہیں جو اس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ طلاق کی آیت نمبر 3میں ارشاد فرماتے ہیں: ” اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کر کے ہی رہے گا، اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے‘‘۔
دعا: انسانوں کو اپنی زندگی میں آنے والی تکالیف سے نجات حاصل کرنے کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ سے مسلسل دعائیں مانگتے رہنا چاہیے۔ قرآنِ مجید کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ انبیاء کرام علیہم السلام کا طریقہ رہا ہے ۔ نبی کریمﷺ بھی بکثرت اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا مانگا کرتے ہیں اور آپﷺ کے اس طریقے پر صلحائے اُمت نے بھی عمل کیا ہے۔ جب انسان مشکلات کے دوران متواتر اللہ تبارک وتعالیٰ سے دُعا مانگتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ یقینا بندے کی فریادوں کو سن کر اس کی تکالیف کو دور فر ما دیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ بقرہ کی آیت نمبر186 میں ارشاد فرماتے ہیں: ”جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں‘ ہر پکارنے والے کی پکار کو‘ جب بھی وہ مجھے پکارے‘ قبول کرتا ہوں، اس لئے لوگوں کو چاہیے کہ وہ میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے‘‘۔
6۔ توبہ: قرآنِ مجید کے مطالعے سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جب انسان کسی گناہ کاارتکاب کرتا ہے تو اس کی زندگی میں مشکلات آتی ہیں؛ چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ شوریٰ کی آیت نمبر 30میں ارشاد فرماتے ہیں: ” تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہیں، اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے‘‘۔ سورہ روم کی آیت نمبر 21میں ارشاد ہوا : ”خشکی اور تری میں لوگوں کی بد اعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا۔ اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے (بہت) ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں‘‘۔اس آیت مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انفرادی اور اجتماعی مشکلات کی بہت بڑی وجہ انسانوں کے اپنے گناہ ہیں۔ جب انسان گناہوں سے توبہ کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے جمیع گناہوں کو معاف فرما کر اس کی تکالیف کو بھی دور کر دیتے ہیں۔ سورہ زمر کی آیت نمبر 53 میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی مغفرت کی وسعت کو بڑے خوبصورت انداز میں یوں بیان فرمایا ہے: ”(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے‘ تم اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے واقعی وہ بڑی، بخشش بڑی رحمت والا ہے‘‘۔
7۔ ذکرِ الٰہی: قرآنِ مجید کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کو کثرت سے اللہ تبارک وتعالیٰ کا ذکر کرنا چاہیے۔ جب انسان کثرت سے اللہ تبارک وتعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی زندگی کے اندھیروں کو دور فرما کر اسے روشنیوں کے راستے پر چلا دیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ احزاب کی آیت نمبر41میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اے ایمان والو! اللہ کاکثرت سے ذکر کیا کرو‘‘۔ اسی طرح سورہ رعد کی آیت نمبر 28میں ارشاد ہوا: ”جو لوگ ایمان لائے‘ ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے‘‘۔
انفاق فی سبیل للہ: قرآنِ مجید کے مطالعے سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ کثرت سے اللہ تبارک وتعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنے والوں کے خوف اور غم اللہ تبارک وتعالیٰ دور فرما دیتے ہیں۔
اگر مذکورہ بالا تدابیر پر عمل کر لیا جائے تو یقینا انسانوں کی زندگی کے اندھیرے دور ہو سکتے ہیں اور انسان مشکلات سے باہر نکل سکتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دُعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کی زندگی کی مشکلات دور فرما کر ہمیں روشنیوں، خوشیوں اور سکون والے راستے پرچلائے، آمین !

یہ بھی پڑھیں: -   پاکستان کو سری لنکا نہ بننے دیں
Allama Ibtisam Elahi Zaheer
علامہ ابتسام الہی ظہیر

مصنف کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں