Columns of Saadullah jaan barq 130

جمہوریت کی برکات وثمرات

ویسے تو علمائے تحقیق اس بات پر متفق نہیں ہوئے ہیں کہ دنیاکا قدیم ترین پیشہ کونسا ہے لیکن اکثریت کا اس پر اتفاق ہے کہ قدیم ترین پیشہ وہی ہے جسے آج بھی پیشہ کہتے ہیں اور کرنے والوں کو ’’پیشہ ور‘‘ کہا جاتا ہے.

کچھ نئے اور زوردار قسم کے محققین کاکہناہے کہ دنیا کاقدیم ترین پیشہ گداگری یابھیک مانگنے کاہے کیوں کہ وہ جو پہلاپیشہ ہے۔ اس میں پیشہ وروں کاپیشہ ’’مانگنے‘‘ کاہوتاہے ویسے دونوں پیشوں کو ’’جڑواں‘‘ بھی کہا جا سکتاہے کیوں کہ دونوں میں قوت متحرکہ ’’پیسہ ‘‘ ہوتا ہے جو ظاہرہے کہ بڑی آسانی سے پیسہ بھی بن جاتا ہے بلکہ اکثر لہجوں میں(س)اور(شین) گڈمڈ ہوجاتے ہیں جیسے ہند میں شہری اور سہری یاعبرانی میں سلام اور شلام، یوں پیسہ اورپیشہ بھی قریبی عزیز بن جاتے ہیں، خیر پیسے کو بھی گولی مارئیے اور پیشے کو بھی، توپ دم کیجیے بلکہ موجودہ حکومت نے تویہ کام (پیسے کو توپ دم کرنے) کامکمل ہی کرلیا ہے۔

ہمیں اصل میں جمہوریت کی برکات اورثمرات پر بات کرنی ہے کیوں کہ جمہوریت ہی کی برکت سے گداگری اورپیشہ وری دونوں کو فروغ ملاہے
بفروع چہرہ زلفت ہمہ نسب زندرہ دل

چہ دلاوراست دردے کہ بکف چراغ دارد

حافظ شیرازی فرماتے ہیں کہ تمہارے چہرے کی روشنی میں تمہاری زلفیں رات بھر ڈاکا زنی کر رہی ہیں کیا دلاورچور ہے کہ ہتھیلی پر چراغ لے کر وارداتیں کر رہا ہے۔

کسی اورطرف بات کی مہار موڑنے کی ضرورت نہیں، اصل بات جمہوریت کی برکات وثمرات کی ہو رہی ہے جن میں سرفہرست گداگری یابھکاری پن ہے۔ ذراسوچئے اگر جمہوریت نہ آتی اورپرانے بادشاہوںکازمانہ ہوتاتو بادشاہ لوگ توبھیک مانگ نہیں سکتے کہ آخر کار بادشاہ گداگرنہیں بن سکتاوہ تو ہمیشہ اوپر والاہاتھ ہوتاہے اوراب دوسرا فرض یہ کیجیے کہ اگر پاکستان بلکہ سارے جمہوری ملکوں میں بادشاہت ہوتی توہم بھوکوں مرچکے ہوتے کیوں کہ وہ آئی ایم ایف یاکسی بینک یاکسی بادشاہ ،شہزادے سے بھیک کیسے مانگتے، کشکول کیسے پھراتے اورکسی اوپروالے ہاتھ کے نیچے اپنا ہاتھ کیسے رکھتے۔

یہ بھی پڑھیں: -   اینٹی امریکن ازم

بات تجربے اورپیشے بلکہ صلاحیت کی ہے جو کسی بادشاہ میں ہوتی ہی نہیں ،اس نے زندگی بھر کبھی مانگاہوتا نہیں تو اب کیسے مانگتا،اگر مانگتاتو نہایت اناڑی پن اورنالائقی سے مانگتا، نتیجہ ظاہرہے کہ بدلے میں صرف’’ معاف کرو‘‘کاجواب ملتا۔جب کہ بادشاہ تو سرے سے یہ فن جانتاہی نہیں، یوں ہمارابادشاہ اپنے تخت پر گردن اونچی کرکے اورمونچھوں کو تاؤدیتے ہوئے بیٹھا رہتا،اورسب کچھ چوپٹ کرکے رکھ دیتاکہ میں کیوں کسی سے بھیک مانگوں، بلکہ ایک ضمنی سی بات اورآگئی ہے۔

آپ نے اکثربادشاہوں کی کہانیوں میں سناہوگاکہ ان کاصرف اکلوتا وزیرہوتاتھا،اس کی وجہ یہی ہوتی تھی کہ وہ اتنے غریب ہوتے تھے کہ ایک سے زیادہ وزیرایفورڈ ہی نہیں کرسکتے، مشیروں اورمعاونین برائے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،صرف اس لیے کہ ایک سے زیادہ وزیرمشیرمعاونین رکھنے کے لیے مانگنا پڑتا اورمانگنا ان کوآتا نہیں تھا اس لیے بیچارے اتنی غربت میں صرف ایک ہی وزیر رکھ سکتے تھے اوراب جمہوریت کی برکات و ثمرات دیکھیے کہ صوبے بھی وزیروں، مشیروں اور برائے کی فوج رکھے ہوئے ہیں۔

اس لیے ان کو مانگنا آتاہے کہ جمہوریت کی ابتداہی مانگنے سے ہوتی ہے، چاہے ووٹ ہویانوٹ۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتااہمیت مانگنے اورمانگنا سیکھنے کی چیز ہے اور جمہوریوں سے زیادہ مانگنے کاتجربہ اورصلاحیت اورکس میں ہوسکتی ہے، جمہوریت میں داخل ہونے کی پہلی شرط ہی مانگنے کی ہوتی ہے اوریہ تو سب جانتے ہیں کہ کسی بھی پیشے میں ابتدااورابتدائی تربیت کی بڑی اہمیت ہوتی ہے،اگرکوئی ابتداہی میں ’’چل ‘‘ جائے تو وہ آگے ہی آگے چلتا رہتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: -   عمران خان نے کیا فرمایا؟

ہم نے ایسے بہت سارے اناڑی دیکھے ہیں جن کومانگنے کاسلیقہ نہیں آتاتھا اس لیے ابتداہی میں ناکام ہوکر رہ گئے لیکن جنھوں نے اپنی مانگنے کی صلاحیت دکھائی وہ آج ٹاپ کے جمہور ہیں۔بھیک مانگنے میں پیشے کا سارا دارومدار مانگنے والے کی زبان پر ہوتاہے اگر وہ انتہائی دلاوری سے اچھی اچھی دعاؤں کاپیکج پیش کرے تو کامیاب ورنہ ناکام۔

جمہوریت میں بھی دعاؤں کی طرح وعدے اورسبزباغ پیش کیے جاتے ہیں ،اتنے اتنے دنوں میں اتنا اتنا کرنے کے وعدے دیے جاتے ہیں جن کے وعدوں میں تاثیرہوتی ہے وہ ووٹ پالیتے ہیں پھر آگے ووٹ سے نوٹ خود بخود بنتے چلے جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جمہوری ملکوں پر بھیک دینے والے مہربان ہوجاتے ہیں اورکشکول بھربھر کر بھیک دے دیتے ہیں ان کی جگہ اگر بادشاہ ہوتے تو ان کو تو بھیک مانگنے کاتجربہ ہی نہیں ہوتا تو دینے والوں سے کیا وصول کرتے؟نتیجہ وہی ہوتا صرف اکلوتا وزیر رکھتے اور تنگی ترشی سے غریبانہ بادشاہت چلاتے۔لیکن زندہ باد جمہوریت جو سب سے پہلے مانگنے کے آداب اوراسرار ورموزسکھا دیتی ہے جن کی برکت سے ’’جمہوری ‘‘ چل چلا،چلا رہتے ہیں، اسی لیے توبری سے بری جمہوریت بھی بادشاہت سے زیادہ ’’وزیر‘‘رکھتی ہے۔

Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں