Columns of Saadullah jaan barq 121

بڑے بڑے منہ اوربڑے بڑے نوالے

ہم توچھوٹے ہیں اس لیے چھوٹے چھوٹے سوچتے بھی ہیں اورآج کل یہ چھوٹاچھوٹا سوچ رہے ہیں کہ یہ جو ’’بڑے بڑے‘‘اوران سے بھی ’’بڑے بڑے‘‘اورپھر ان بڑوں بڑوں سے بھی بہت بڑے بڑے ’’منہ‘‘ دن رات حکومت میں ہونے والے ،آنے والے اورجانے والے بڑے بڑے بلکہ میگامیگا منصوبے بیان کررہے ہیں۔

ان پر ’’لاگت‘‘ کاحساب تو کوئی ’’سپرکمپیوٹر‘‘ہی لگا سکتاہے کہ اتناپیسہ آئے گاکہاں سے۔اگر ہم صرف اپنے صوبہ خیرپخیر کے سارے منہ چھوڑکرصرف ایک بڑے منہ سے نکلنے والے منصوبے بھی لے لیں تو سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبر ممالک یاایٹھ(8) گروپ کے ممالک کے جی ڈی پی سے چارگنا زیادہ حساب بیٹھے گا،اس کے علاوہ جودوسرے بڑے بڑے منہ بہت بڑے بڑے منصوبے کسی جادوگر کی طرح منہ سے نکال رہے ہیں خاص طورپر ضم اضلاع میں جو پشت بریں تعمیر کیے جارہے ہیں ان سب کو ملا کر یہ بڑا سا سوال کھڑا ہوجاتاہے کہ ’’اتنے پیسے ‘‘کہاں سے آئیںگے؟ آٹھ دس بھکاری پروگرام، پندرہ بیس کارڈ پروگرام، بیس تیس امدادی پروگرام اوران سب سے بڑھ کر آئی ایم ایف کارڈ،بے نظیر پروگرام۔

ایک کروڑگھر، ایک کروڑ نوکریاں … بلکہ اس بیچ میں ایک اورسوال بھی دم ہلارہا ہے کہ جب گھربھی ملیں گے اورکچن سے لے کردہلیز تک سب مفت ملے گا تو کوئی نوکری کرے ہی کیوں؟ہاں اگرصرف ایک دن تنخواہ لینے کے لیے جانے کی بات ہوتو وہ اوربات ہے ۔
بلکہ ایک واقعہ ہوبھی چکا ہے کسی دانادانشور نے ایک پاکستانی …سوری… ’’ریاست مدینہ‘‘ کے رہائشی سے کہا، تم دن بھر یونہی بیکار بیٹھ کر نوالے ٹھونس رہے ہوکچھ کام وام بھی کرلیا کرو۔ریاست مدینہ کے رہائشی نے کہا۔اگر کام وام کروں تو پھر… دانادانشورنے کہا پھر تم پیسہ کماؤگے،جائیداد ہوگی بنگلہ ہوگا نوکر چاکر ہوں گے۔لیکن اس نے کہا تو پھر؟

یہ بھی پڑھیں: -   کیا ہم میں کوئی ’پاگل‘ نہیں؟

دانا دانشورنے کہا پھرتم آرام سے زندگی گزارو گے ،’’ ریاست مدینہ‘‘ کے باسی نے کہا ،وہ تو میں اب بھی ہوں،گھر حکومت نے دیا اورگھر کا ساراخرچہ بھی مع کچن کے حکومت دے رہی ہے،صحت کے لیے کارڈ ہیں جیب خرچ کے لیے بے نظیر کارڈ ہے… اوراس کاجواب وہ دانا دانشورنہیں دے سکابلکہ خود اس نے اپنے آپ سے کہا کہ میں بھی کیسا ناسمجھ ہوں ،آرام سے بیٹھ کر نوالوں کے لیے منہ کیوں نہیں کھولتا ، اگر وزیرمشیر نہیں بن سکتا تو معاون خصوصی برائے کچھ تو بن سکتا ہوں۔آپ نے اکثر ڈراموں یا فلموں میں دیکھا ہوگا کہ کوئی کسی اورشخص سے کہتا ہے کہ بہتر ہے کہ تم اپنا منہ صرف کھانے یانوالے کے لیے کھولنا۔ بس

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہمار ے ’’خصوصی‘‘ ڈبل ڈیوٹی کرتے ہیں نوالوں کے لیے ’’منہ‘‘تو ان کے پیدائشی کھلے ہیں لیکن اب صرف کوئی نیامیگا منصوبہ لانچ کرنے کے لیے بھی کھولتے ہیں اوربہت زیادہ کھولتے ہیں ،ہم نے تھوڑا ساہوم ورک کرکے ’’ ریاست مدینہ ‘‘ میں اب تک لانچ ہونے والے منصوبوں پر سرسری سی نظرڈالی توحساب پچیس صفروں سے بھی آگے چلاگیا۔

کچھ لوگ جو سادہ لوح بھی ہیں اورسادہ لوحی کی انتہا پر بھی رہے ہیں چہ میگوئیاں کررہے ہیں کہ شاید ’’وژن ‘‘کے ہاتھوں قارون کا گم شدہ خزانہ لگ گیا ہے یا چالیس چوروں کے غار تک رسائی مل گئی ہے اس کے توکم ازکم ڈیڑھ سو بڑے بڑے منہ ہرروزاتنے بڑے بڑے منصوبے لانچ کررہے ہیں ۔لیکن یہ محض افواہ ہے اصل بات کاپتہ ہم نے لگا لیاہے آخر ہم بھی مستند قسم کے سند یافتہ محقق ہیں کہ یہ سار ا’’سبزہ وگل ‘‘ کہاں سے آئے گا اور’’ابر‘‘کیاچیزہے ،ہواکیاہے؟

یہ بھی پڑھیں: -   مسئلہ فلسطین: مذہبی اور غیرمذہبی تعبیرات

خزانہ وزانہ کچھ نہیں ہماری حکومت خود اتنی مالدارہے کہ میرے دیس کی دھرتی سونا اگلے… اگلے ہیرے موتی۔

ہماری حکومت کے پاس خداکے فضل،آئی ایم ایف کی مہربانی سے وزیروں کی فراوانی ہے۔پچیس کروڑ تو صرف تیل کے کنوئیں ہیں جوکم ہونے کے بجائے روزبڑھتے جارہے ہیں کیوں کہ دوسرے ممالک کے کنوؤں کی طرح ہمارے کنوئیں بانجھ نہیں بلکہ بچے بھی دے رہے ہیں۔اس کے علاوہ ہم نے کئی بار ان جانوروں کے بارے میں بھی بتایاہے جوبیک وقت انڈے بھی دیتے ہیں اوردودھ بھی … جن کااون بھی اتارا جاتاہے اورکھالیں بھی۔ اوراس کے ساتھ ہی اتنے اصیل اور سدھے ہوئے بھی ہیں کہ تھوڑی سی چیخ چیخ کے بعد سب کچھ مان لیتے ہیں۔

ایسے میں کسے پرواہ ہوسکتی ہے جتنے چاہیں نوالوں کے منہ رکھیے۔منصوبے اگلنے کے لیے منہ رکھیے اورخوش خبریاں سنانے کے لیے منہ رکھیے بلکہ ہمیں تو ایسا لگتاہے کہ کچھ ہی دنوں میں کسی منہ سے یہ بھی نکلنے والاہے کہ سارے لوگ آرام سے گھربیٹھ کروژن وژن کیجیے سب کی تنخواہ گھر بیٹھے بیٹھے پہنچادی جائے گی تمام اشیائے صرف کی بھری ہوئی گاڑی کے ساتھ وژن جانے اورسارے کام۔

خاص طورپر ’’ضم اضلاع‘‘ کے ووٹروں کے ہاں توروزگوشت پکے گا، ہر شام پلاؤکھایاجائے گا اور ہر رات حلوہ ٹھونسا جائے گا۔

ہمہ آہوان صحرا، سیرخود نہادہ برکف
کہ وہ نازنین عالم بہ شکار خواہی آمد

Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

یہ بھی پڑھیں: -   کشمیر پر کیا لکھوں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں