adnan-khan-kakar 113

استاد نالائق نکلے اور بچے لائق

اس مرتبہ امتحان کے ریزلٹ نے دل خوش کر دیا ہے۔ دنیا ہمیں بدنام کر رہی تھی کہ ہم پاکستانی نالائق ہیں۔ لیکن درجنوں بچوں نے گیارہ سو میں سے گیارہ سو نمبر لے کر ان ناقدین کو خاموش کر دیا ہے۔ اور ایسا نہیں ہے کہ یہ بہترین کارکردگی صرف انٹرمیڈیٹ کے بچوں تک محدود ہے۔ یہاں تو پی ایچ ڈی والے پروفیسر حضرات ایک برس میں درجنوں تحقیقی مقالے بھی جمع کرواتے پائے گئے ہیں۔ یعنی دوسرے ممالک کے نالائق استاد ایک دو برس بعد جا کر ایک تحقیقی مقالہ لکھنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور ہمارے ہاں کا پروفیسر ایک ہفتے میں ایسا کر سکتا ہے۔

خیر بات ہو رہی تھی سو فیصد ریزلٹ کی۔ اطلاعات کے مطابق سب سے پہلے مردان کی ایک طالبہ نے امتحان میں سو فیصد نمبر لے کر سب کو اپنی ریکارڈ توڑ پرفارمنس سے پریشان کر دیا۔ پھر تو گویا جھڑی لگی گئی۔ ملتان میں 48، بہاولپور میں 12، فیصل آباد میں 37 اور لاہور میں 18 طلبا کے سو فیصد نمبر آنے کی خبریں چل رہی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ لازمی مضامین سے طلبا کی جان چھوٹ گئی تھی اور اختیاری مضامین یعنی ریاضی، فزکس، کیمسٹری اور بیالوجی میں 100 فیصد نمبر لینے والے طلبا کو دیگر چار لازمی مضامین میں بھی 100 فیصد نمبر دے دیے گئے۔ اور سننے میں آ رہا ہے کہ نصاب بھی محض چالیس فیصد کر دیا گیا تھا۔ لیکن یہ بات غیر اہم ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ دو برس کووڈ کے باعث تعلیمی اداروں میں طویل چھٹیاں ہوئیں اور بعد میں آن لائن کلاسوں کے ذریعے انہیں پڑھانے کی کوشش کی گئی۔ اس کے باوجود گزشتہ برسوں میں جب اساتذہ ذاتی طور پر طلبا کو پڑھاتے تھے تو پاس ہونے والوں کی شرح تیس چالیس فیصد ہوتی تھی۔ اس مرتبہ یہ شرح ان تمام بورڈوں میں 98 فیصد رہی۔ جس نے بھی امتحان دیا وہ پاس ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: -   اقتدار کی مجبوریاں

اس کا کیا مطلب ہوا؟ اس کا یہ مطلب ہے کہ اساتذہ جب طلبا کو سکول کالج بلا کر پڑھاتے ہیں تو محض ان کا اور اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ اساتذہ پڑھانے میں نالائق نکلے اور بچے خود پڑھنے میں ہوشیار۔ نتائج بتا رہے ہیں کہ طلبا اگر گھر بیٹھ کر آن لائن یا خود ہی پڑھیں تو ان کی کارکردگی میں زبردست اضافہ ہو جاتا ہے۔ اور پروفیسر بھی اگر بچوں کے ساتھ وقت ضائع نہ کریں تو وہ سال میں دو تین سو مقالے بھی لکھ سکتے ہیں۔ بچوں کو پڑھانا دونوں کو نالائق بنا رہا ہے۔

بعض قنوطی قسم کے افراد کو اس بات پر یقین نہیں آئے گا مگر اب تو بہت بڑی بڑی مغربی کمپنیاں بھی یہ بات تسلیم کر چکی ہیں کہ ان کے ملازم گھر بیٹھ کر کام کریں تو زیادہ اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں۔ آئس لینڈ میں تو ہفتے میں تین دن چھٹیاں کرنے کا تجربہ بھی کامیاب رہا ہے اور چار دن کام کر کے بھی وہاں کے کارکن اس سے زیادہ پیداوار دے رہے ہیں جتنی وہ چھے دن میں دیا کرتے تھے۔ نہ صرف ان کے ذہنی تناؤ میں کمی اور خوشی میں اضافہ دیکھا گیا بلکہ ان کی صحت بھی بہتر ہوئی۔ بظاہر یہی معاملہ ہمارے طلبا کے ساتھ بھی پیش آیا ہے۔

خیر ہم موضوع سے بار بار بھٹک جاتے ہیں۔ بات یہ ہو رہی تھی کہ طلبا اگر اساتذہ کی مدد کے بغیر اور سکول کالج کا منہ دیکھے بغیر پڑھیں تو وہ زیادہ بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ اب ہماری حکومت کو سکولوں کالجوں اور استادوں پر پیسے خرچ کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ طلبا کو لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ یا سمارٹ فون لے دے اور اس مد میں کروڑوں اربوں روپے بچا لے۔ یہ بچت اہم قومی اور دفاعی امور کے لیے مختص کی جا سکتی ہے کیونکہ وطن عزیز ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   اپنے ہی خنجر سے خودکشی

ویسے خیال آتا ہے کہ اب تو پانچویں جنریشن کی جنگ بھی گھروں میں بیٹھ کر فون اور لیپ ٹاپ پر ہی لڑی جاتی ہے۔ یہ طلبا گھر بیٹھے ہی اس کا حصہ بن سکتے ہیں اور وہ بھی مفت میں۔

ہماری رائے میں تو اس کامیاب تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت ہسپتال بھی بند کر دے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہمارے تیر بہدف دیسی ٹوٹکوں سے وہ تمام مریض گھر بیٹھے ہی تندرست ہو جائیں گے جو ہسپتال جانے سے اس لیے ویسے بھی خوفزدہ ہیں کہ ان کی پھوپھی نے انہیں بتایا ہے کہ ڈاکٹر انہیں کرونا کا ٹیکا لگا کر لاکھوں ڈالر کما لیتے ہیں۔ یوں صحت اور تعلیم پر ضائع ہونے والے اربوں روپے کسی کارآمد مد میں صرف کیے جا سکیں گے اور ہمارا تعلیمی اور صحت کا نظام بھی پہلے سے کہیں بہتر ہو جائے گا۔

adnan-khan-kakar
عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مزید کالم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں