adnan-khan-kakar 114

فیس بک، وٹس ایپ اور انسٹا گرام کب تک ڈاؤن رہیں گے اور کیوں کریش ہوئے

پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے آٹھ بجے کے لگ بھگ فیس بک اور اس کی دیگر سروسز وٹس ایپ اور انسٹا گرام کے عالمی نظام میں خرابی پیدا ہونا شروع ہوئی۔

کچھ دیر بعد یہ بات سامنے آئی کہ اس کی ڈی این ایس سروس میں خرابی پیدا ہو چکی ہے۔ انٹرنیٹ کا نظام نمبروں کی بنیاد پر بنے آئی پی ایڈریس سے چلتا ہے اور ڈی این ایس کے ذریعے عام فہم نام جیسے فیس بک ڈاٹ کام کو نمبروں والے ایڈریس میں تبدیل کر کے دوسرے کمپیوٹر اور موبائل فون اس کے سرور تک پہنچ پاتے ہیں۔ ڈی این ایس سرور خراب ہونے کا مطلب ہوتا ہے کہ کوئی ڈیوائس اس سرور تک نہیں پہنچ سکتی۔

انسٹاگرام اور وٹس ایپ کے ڈی این ایس سرور امیزن کی سروس استعمال کرتے ہیں، ان کے ذریعے سرور کا ایڈریس تو مل رہا تھا لیکن اس کے بعد سسٹم ایرر آتی تھی کہ سروس دینے کے لیے سرور موجود نہیں ہے۔ اس کا یہ مطلب تھا کہ نیٹ ورک میں ڈی این ایس کے علاوہ بھی کوئی خرابی موجود ہے۔

انٹرنیٹ پر نیٹ ورک سروسز فراہم کرنے والی ایک بڑی کمپنی کلاؤڈ فلیئر کے وائس پریزیڈنٹ ڈین نیکٹ نے بتایا کہ فیس بک کے براڈ گیٹ وے پروٹوکول غائب ہو چکے ہیں۔ بی جی پی کے ذریعے کمپیوٹر ایک دوسرے تک پہنچنے کا راستہ دریافت کرتے ہیں۔

ڈین نیکٹ کا کہنا ہے کہ فیس بک کا نیٹ ورک دوبارہ چالو ہوتا ہے تو مجھے اس بات کی توقع ہے کہ ایک لمبی مدت تک یہ سٹیبل نہیں ہو پائے گا۔ اس طرح کے بڑے اور بکھرے ہوئے سسٹم کو ری بوٹ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ پرانا کیش ڈیٹا ختم کرنا آسان نہیں ہو گا اور مختلف سسٹمز کا ایک دوسرے پر انحصار کام کو مشکل بنائے گا۔ لیکن یہ سب ڈی این ایس کے چالو ہونے کے بعد شروع ہو گا۔ دوبارہ چالو ہونا بہت آہستہ عمل ہو گا۔ ڈی این ایس کے چلتے ہی دنیا بھر کے یوزر، فیس بک کی کمپوننٹ (لگن اور کمنٹ سسٹم وغیرہ) سب مل کر سرور کا رخ کریں گے اور یہ ایسا ہی ہو گا جیسے ایک بہت بڑا ہیکنگ اٹیک (ڈی ڈی او ایس) کیا جا رہا ہو۔

یہ بھی پڑھیں: -   دلوں کی اور دھواں سا دکھائی دیتا ہے

بی جی پی نہ ہونے کے سبب فیس بک کے اپنے سرور بھی ایک دوسرے تک رسائی سے محروم ہو گئے۔ اس کے کچھ دیر بعد ریڈٹ کے سسٹم ایڈمن گروپ میں رامن پورن نامی ایک شخص نے خود کو فیس بک کے ملازم کے طور پر بتاتے ہوئے کہا کہ غالب امکان ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ فیس بک کے نیٹ ورک انجینیئر سسٹم کنفیگریشن میں تبدیلی کر رہے تھے کہ انہوں نے خود کو سسٹم سے باہر لاک کر دیا۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ ٹیکنیشن کو اب فیس بک کے تمام ڈیٹا سینٹروں میں شخصی طور پر جا کر اسے اپ ڈیٹ اور چالو کرنا پڑے گا۔ یہ پوسٹ کرنے کے کچھ دیر بعد رامن پورن نے اپنا ریڈٹ کا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا۔

کلاؤڈ فلیئر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میتھیو پرنس کا کہنا ہے کہ ان کے مشاہدے کے مطابق فیس بک پر ہیکر اٹیک نہیں ہوا ہے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ کمپنی کے انٹرنیٹ راؤٹ (بی جی پی) سسٹم مینٹننس کے دوران غلطی سے ختم کر دیے گئے تھے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹر شیرا فرینکل نے بتایا کہ ان کا فیس بک کے ایک اہلکار سے رابطہ ہوا ہے جس نے بتایا ہے کہ فیس بک کے ملازم عمارت میں داخل ہونے سے قاصر ہیں کیونکہ ان کے سیکیورٹی بیج کام نہیں کر رہے۔

نیویارک ٹائمز کے ریان میک نے ٹویٹ کیا ہے کہ نہ صرف فیس بک کی سروسز عوام کے لیے ڈاؤن ہیں بلکہ اس کے اندرونی نظام بھی کام نہیں کر رہے اور کوئی بھی کام نہیں کر پا رہا۔

یہ بھی پڑھیں: -   پہلے حریف کو سمجھو ، پھر کچھ سوچو ( حصہ دوم )

بعض اطلاعات کے مطابق فیس بک کے اہلکار ایک دوسرے سے فون اور ایس ایم ایس کے ذریعے رابطہ کرنے پر مجبور ہیں۔ کلاؤڈ فلیئر کے انجینئیرز کے مطابق فیس بک ڈی این ایس سسٹم پر واپس آ رہی ہے لیکن ابھی وہ سٹیبل نہیں اور آنکھ مچولی کھیل رہی ہے۔

بہرحال ڈی این ایس سسٹم کی پیچیدگی کی وجہ سے فیس بک، وٹس ایپ اور انسٹاگرام کو عالمی سطح پر مکمل طور پر فعال ہونے میں چوبیس سے اڑتالیس گھنٹے تک لگ سکتے ہیں۔ یہ دورانیہ مختلف علاقوں اور نیٹ ورک سسٹمز پر مختلف ہو سکتا ہے اور کچھ علاقوں میں آئندہ چند گھنٹوں میں بھی سروس بحال ہونے کا امکان موجود ہے۔ اس وقت صبح تین بجے میرے کمپیوٹر پر فیس بک کا ڈی این ایس سسٹم بحال ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور اب ایپلیکیشن سرور بھی چلنے لگا ہے اور پرانی پوسٹیں دکھا رہا ہے لیکن نئی پوسٹ لگانے سے انکاری ہے۔ وٹس ایپ کی ایپلیکیشن کسی حد تک چلنے لگی ہے لیکن میسیج پہنچانے سے ابھی تک قاصر ہے۔

نوٹ: مضمون کے لیے معلومات اے آر ایس ٹیکنیکا، کلاؤڈ فلیئر، ٹویٹر پر تکنیکی افراد کے اکاؤٹنس سے لی گئی ہے۔

adnan-khan-kakar
عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مزید کالم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں.

یہ بھی پڑھیں: -   بیسویں پارے کا خلاصہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں