columns of Javed Chaudhary 118

اگر احسان ﷲ کر سکتا ہے

’’میرا نام احسان اللہ ہے اور میں گجرات کی تحصیل سرائے عالم گیر کے چھوٹے سے گائوں کریالی سے تعلق رکھتا ہوں‘ میرا گائوں شہر سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے‘ میں یہ خط پاکستانی معاشرے کی چند کوتاہیوں اور اپنی ایک چھوٹی سی خدمت کے اعتراف میں لکھ رہا ہوں‘ میری درخواست ہے، آپ بھی میرا یہ خط پڑھیں اور عوام کو بھی پڑھائیں‘ شاید میری مثال سے میرے معاشرے کے لوگوں میں ہمت پیدا ہو جائے اور یہ بھی اپنے شہروں اور دیہات کے لیے کوشش شروع کر دیں‘ میں نے گائوں کے اسکول سے میٹرک کیا‘ جہلم ٹیکنیکل کالج سے تین سال کا ایسوسی ایٹ ڈپلومہ کیا اور پھر اسلام آباد سے مکینیکل میں بی ٹیک کر لیا‘ میںیونیورسٹی میں داخل ہوا‘ میرا پہلا سمسٹر چل رہا تھا کہ میں فیملی کے ساتھ نیویارک منتقل ہو گیا‘ میں پانچ سال پہلے امریکا آیا‘ یہاں شادی کی‘ اﷲ نے دو بچے دیے‘ الحمدﷲ نوکری بھی اچھی مل گئی اور میں اب نوکری کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی حاصل کر رہا ہوں‘‘ ۔

’’یہ میرا تعارف تھا‘میں اب خط کے مقصد کی طرف آتا ہوں‘ میں نے امریکا میں پانچ برسوں میں جو کچھ سیکھا وہ میں پاکستان میں 21 برسوں میں نہیں سیکھ سکا اور میرا خیال ہے میں اگر گجرات یا اسلام آباد رہتا تو شاید اگلے اکیس برسوں میں بھی نہ سیکھ پاتا‘ میں نے امریکا میں سب سے پہلے خود کو اور اپنے ماحول کو صاف رکھنا سیکھا‘ لائن میں کس طرح کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کرناچاہیے اور کس طرح اگر کوئی سویپر ہے تو اس کی عزت کرنی ہے‘ ایک کمپنی کے مالک اور ملازم میں کوئی فرق نہیں ہوتا اور لیبر کے حقوق کیا ہیں وغیرہ وغیرہ‘ یہ بھی میں نے یہاں سیکھا‘ امریکا میں کالج جانے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں‘ میرے لیے یہ بات بالکل نئی تھی‘ کس طرح لڑکیاں لڑکے ایک کلاس میں اپنی مرضی کا لباس پہن کر آتے ہیں اور ایک ہی کلاس میں بیٹھتے ہیں اور کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا‘ کم کھانا صحت ہے زیادہ کھانا بیماری ہے یہ بھی سیکھا‘ میں جب یہاں آیا تو اﷲ کی توفیق سے نماز کی پابندی شروع کر دی‘ ایک دن دوران کام میں وضو کرنے کے لیے واش روم گیا اور وضو شروع کر دیا‘ آس پاس دوسرے لوگ بھی تھے‘ میں جانتا ہی نہیں تھا واش بیسن میں پائوں دھونا انتہائی بدتہذیبی ہوتی ہے‘ میں نے جوں ہی پائوں دھونے شروع کیے واش روم میں موجود لوگ فوراً سب کچھ چھوڑ کر دور کھڑے ہو گئے اور حیرت سے مجھے دیکھنے لگے‘ ایک افریقن امریکن نے مجھے گالی دے کر اپنے کولیگ سے کہا‘ کسی شخص نے اس کو یہ تمیز تک نہیں سکھائی واش بیسن میں پائوں نہیں دھوئے جاتے ‘ یہ دیکھو یہ یہاں غلاظت پھیلا رہا ہے اور اس نے ہر طرف پانی ہی پانی کر دیا‘ اس کی آواز میرے کانوں تک بھی پہنچ رہی تھی‘ مجھے غصہ آگیا لیکن پھر میں نے سوچا اس کی بات غلط نہیں‘ مجھے واش بیسن میں پائوں نہیں دھونے چاہیے تھے‘ میں نے اگلے دن اس شخص سے معذرت کی اور اپنی لاعلمی اور کم عقلی کا اعتراف کیا‘ میں نے اس کے بعد سوچا میں اگر غلطی کر سکتا ہوں تو دوسرے بھی کر سکتے ہیں لہٰذا میں نے اپنی کمپنی کے ہر مسلمان کو یہ واقعہ سنایا اور اسے مشورہ دیا تم نے وضو کے دوران واش بیسن میں پائوں نہیں دھونے‘ یہ امریکا میں بدتمیزی سمجھی جاتی ہے یوں میں نے اپنا فرض بھی پورا کیا اور آیندہ احتیاط کا وعدہ بھی کیا۔ دوسری چیز جو مجھے پسند آئی وہ تھی گاربیج ڈیوٹی ٹرک (Garbage duty truck)۔ لوگ ہر سوموار اور جمعرات کو اپنا سارا کچرا بڑے بیگز میں ڈال کر گھر کے باہر رکھ دیتے ہیں اور ہر صبح تقریباً چھ بجے کے قریب ٹرک والے آتے ہیں اور کوڑا اٹھا کر لے جاتے ہیں‘ ہر اتوار کو دوسرا ٹرک آتا ہے جو صرف پلاسٹک اور ری سائیکل والی چیزیں لے کر جاتا ہے‘ پلاسٹک اور ری سائیکل والا علیحدہ ڈبہ ہوتا ہے جس کا رنگ نیلا ہوتا ہے‘‘۔

یہ بھی پڑھیں: -   رانا خدا بخش اور ان کے حاسدین!

’’مجھے یہ چیز بہت پسند آئی اور میں نے سوچا یہ بندوبست ہمارے جیسے چھوٹے دیہات میں بھی ہونا چاہیے‘ ہم چھ کزن ہیں‘ ہم سب نیویارک میں ایک ہی گھر میں رہتے ہیں‘ میں نے سب سے مشورہ کیا اور اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے ہاتھ پائوں مارنا شروع کر دیے‘ میں جنوری 2020میں پاکستان آیا‘ گائوں میں سب دوستوں کو اکٹھا کیا اور ان سے اپنا آئیڈیا شیئر کیا‘ سب کو میرا آئیڈیا پسند آیا‘ ہم نے اس کے بعد گائوں کے ٹیچرز اور نمبردار کو بلایا‘ ان کے ساتھ ملاقات کی اورگائوں میں ایک سوسائٹی کا سنگ بنیاد رکھ دیا‘ اس کا نام ’’سویرا ویلفیئر سوسائٹی‘‘ہے‘ ممبران کی تعداد 30 ہے اور سب فی سبیل اللہ کام کر رہے ہیں‘ کسی بھی ممبر کا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں‘ ہم تین کزنز نے مل کر ایک رکشا لیا یا لوڈر کہہ لیں اور یہ سوسائٹی کے حوالے کر دیا‘ سوسائٹی والوں نے دو لوگوں کو ہائر کیا اور گائوں کو سروس دینی شروع کر دی‘ ہر گھر سے 200 روپے مہینہ طے ہوا‘ سوسائٹی نے اس رقم سے لوڈر کے اخراجات اور ملازمین کی تنخواہ پوری کرنی تھی‘ گائوں میں 600 گھر ہیں لیکن ان میں سے صرف 150 گھر دوسو روپے ماہانہ ادا کرنے کے لیے تیار ہوئے اور آپ کمال دیکھیے‘ تین مہینے بعد یہ 150 گھر بھی 60 ہو گئے‘ گائوں کے 540 گھر دو سو روپے ماہانہ دینے کے لیے بھی تیار نہیں تھے‘ دوبارہ میٹنگ ہوئی اور سوسائٹی نے فیصلہ کیا اخراجات پورے نہیں ہو رہے لہٰذا سوسائٹی یہ سروس بند کرنے پر مجبور ہو گئی ہے‘ مجھے نیویارک میں یہ خبر ملی تو میں نے یہ ذمے داری اٹھا لی‘ میں نے دونوں ڈرائیورز کی تنخواہ اپنے ذمے لے لی‘یہ 40 ہزارروپے ہیں اور الحمد للہ یہ سلسلہ چلتا آ رہا ہے‘ ہم نے ایک اور لوڈر کے لیے بھی پیسوں کا بندوبست کر لیا ہے‘ وہ بھی جلد سروس شروع کر دے گا‘ سوسائٹی کے ساتھ اب مزید مال دار اور بیرون ملک مقیم لوگ بھی منسلک ہو رہے ہیں‘ ہم اب سوسائٹی کو بڑھا کر باقی فلاحی کام بھی شروع کر رہے ہیں‘ مثلاً ہم نے جنازہ گاہ کی تعمیر اور قبرستان کی چار دیواری اور رمضان کے مہینے میں 200 مستحق خاندانوں کو راشن کی فراہمی‘ غریب بچیوں کی شادی اور بیمار لوگوں کو ادویات پہنچانے جیسے کام بھی شروع کر دیے ہیں‘ میرے ذہن میں اب دو تجاویزہیں‘ میں ان پر کام کر رہا ہوں۔ ایک‘ غریب لوگوں اور یتیموں کے لیے دو رومز کے اپارٹمنٹ تعمیر کرنا ‘دو‘ مسجد میں آنے والے بچوں کو قرآن کے ساتھ ساتھ اخلاقیات اور دینیات پڑھانا۔ آپ یقین کریں میں ایک دفعہ امریکا میں ایک صاحب کے گھر بیٹھا تھا‘ دین کے بارے میں بات شروع ہو گئی‘ کسی شخص نے کسی صحابیؓ کے بارے میں بات کی اور وہ اس صحابیؓ کا نام بھول گیا‘ وہاں بیٹھے ایک سات سال کے بچے نے اس شخص کو فوراً صحابیؓ کا نام یاد دلا دیا‘ مجھے بہت تجسس ہوا کیوں کہ یہ نام مجھے 29 سال کی عمر میں بھی معلوم نہیں تھا‘ اس سات سال کے بچے کو یہ امریکا میں کیسے معلوم ہو گیا؟ میں نے بچے سے کچھ اور سوال پوچھے‘ ان میں وضو ‘غسل اورنماز کے فرائض بھی شامل تھے‘ بچے نے مجھے ہر سوال کا صحیح جواب دیا‘ میں نے اس سے پوچھا تمہیں یہ کس نے سکھایا ؟ اس نے بتایا وہ ہفتے والے دن (جس کو یہاں Saturday School کہتے ہیں) صرف دو گھنٹے کے لیے مسجد جاتا ہے‘ اس نے یہ سب کچھ وہاں سے سیکھا ‘ میں اسی ہفتے اس مسجد پہنچ گیا اور دیکھا تین استاد ہیں‘ ایک قرآن سکھاتا ہے‘ دوسرا عبادات اور تیسرا اخلاقیات اور انھوں نے باقاعدہ انگلش میں کتابیں بنائی ہوئی ہیں اور باقاعدہ ان کا امتحان بھی ہوتا ہے اور یہ ہر بچے نے پاس کرنا ہوتا ہے‘ آپ یقین کریں اس کتاب میں جو کچھ سکھایا جا رہا تھا اس کا پچاس فیصد میرے لیے نیا تھا‘ وہ لوگ امریکا میں مسجد میں بیٹھ کر جو باتیں بچوں کو سکھا رہے تھے وہ ہمیں پاکستان میں یونیورسٹی میں بھی معلوم نہیں ہوتیں‘ میں نے اسی دن فیصلہ کر لیا میں یہ سارا سلیبس اردو میں ترجمہ کر کے اپنے گائوں کی مسجد میں اپنے بچوں کو پڑھائوں گا‘ ہمارے ملک میں بچے روز صبح ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ مسجد جاتے ہیں لیکن وہ وہاں وہ کچھ نہیں سیکھ پاتے جو امریکا میں بچے ہفتے میں صرف ایک بار دو گھنٹے مسجد میں جا کر سیکھ لیتے ہیں‘ شاید اس کی وجہ یہ ہے پاکستان میں کوئی سسٹم نہیں ہے‘ شاید ہمارے ملک میں گائیڈ لائنز نہیں ہیں جن کو ہمارے علماء فالو کریں‘ لوگ اگر فرقہ واریت سے نکل کر ایک ہو کر سوچیں گے تو یہ پاکستان میں بھی ممکن ہو جائے گا اور ہمارے بچے بھی کل ان ملکوں میں آ کر بدنامی کا باعث نہیں بنیں گے لیکن کیا کریں دیوبندی کہتے ہیں نصاب میں بریلویت ہے اور بریلوی کہتے ہیں اس میں دیو بندیت ہے لیکن ان شاء اللہ ایک دن ہم سب اسلام پر ضرور راضی ہو جائیں گے‘‘۔
’’میںڈاکٹر جاوید اقبال کی وڈیوز سنتا ہوں‘ ڈاکٹر صاحب نے وزیراعظم کے سامنے نقطہ اٹھایا تھا ہم علمائے کرام اور مذہبی اداروں کے ذریعے عوام کی تربیت کر سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے وزیراعظم صاحب نے ایک میٹنگ میں تمام علماء کو بلایا اور جو کچھ ڈاکٹر صاحب نے کہا تھا وہی اپنی زبانی سنا کر سب کو واپس بھجوا دیا۔ اﷲ ہم سب لوگوں کو خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اگر آپ کو وقت ملے تو ضرور سوسائٹی کے آفس جائیے گا اور ان کی رہنمائی کر دیجیے گا۔

یہ بھی پڑھیں: -   طالبان اور دنیا

احسان اﷲ ‘نیویارک‘‘

میں نے احسان اﷲ کا خط پڑھا اور اس کے بعد اپنے آپ سے سوال کیا‘ یہ شخص اگر اپنے گائوں میں تبدیلی لا سکتا ہے تو ہم سب لوگ مل کر اپنے اپنے دیہات کو کیوں نہیں بدل سکتے؟ یہ سوال آپ کے لیے بھی ہے۔

columns of Javed Chaudhary
جاوید چودھری

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں