Columns of Saadullah jaan barq 101

زہرا ایک رومانی سیارہ (دوسراحصہ )

زہرہ کے رومانی بلکہ میوزیکل اور طربیہ کردار کو شاعروں نے بھی خوب خوب اچھالا ہے۔ زہرہ حسین، زہرہ جمال،زہرہ تمثال جیسی اصطلاحات بھی ایجاد ہوئی ہیں۔ حافظ شیرازی کہتے ہیں۔

در آسماں نہ عجب گربہ گفتہ حافظ

سماع زہرہ برقص آورد مسیحارا
(کوئی حیرانی نہ ہوگی اگر زہرہ آسمان میں کلام حافظ گائے اورمسیحا کو رقص پر مجبورکرے)

ناہید، ثریا اورپروین بھی اس کے نام ہیں۔

اس غیرت ناہید کی ہرتان ہے دیپک

شعلہ سالپک جائے ہے آوازتو دیکھو

حالانکہ بیچاری ناہید محض ایک بے جان، بنجر اور غیرآباد سیارہ ہے۔ ابتدا تو اس کی کوہ ہندوکش کی برفیلی وادیوں میں ہوئی تھی لیکن ایسے ایسے علاقوں میں بھی لے جائی گئی ہے جہاں نہ برف ہوتی ہے نہ شدید جاڑانہ تباہ کن خزان اورنہ بہار…لیکن کسی نہ کسی شکل اورنام سے یہ تمام اقوام کی اساطیرمیں پائی جاتی ہے۔

مصر میں اس کانام ’’است‘‘ ہے، یونانی اسے ’’آئی سس‘‘کہتے ہیں، مصر میں اس کے شوہر ’’اوزیرس‘‘ کو اس کا حاسد اورسوتیلا بھائی نساتت قتل کردیتاہے اور اس کی لاش کو سمندرکی گہرائی میں ایک درخت کے اندر چھپا لیتا ہے۔ است اسے ڈھونڈتی پھرتی ہے، پھر اپنی بہن کی مدد سے حاصل کرکے دوبارہ زندہ کردیتی ہے اوراس سے بیٹا حورس حاصل کرتی ہے اوروہ پھر مر کر اگلے جہاں میں روحوں کی عدالت کاجج بن جاتاہے، یونان میں اسے تین دیویوں میں تقسیم کیاگیا ہے، اس کاجنسی پہلوایفروڈائٹ میں بیان کیاگیاہے۔اس کا ’’فصل ‘‘کاپہلو ’’دمی تر‘‘ہے اوردمی تر کی بیٹی پر سیفونی ’’بیج‘‘ہے لیکن اس موسمی استعارے کو کہانی میں کمال ہنرمندی سے بیان کیاگیاہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   نئی سیاسی کھچڑی

دمی تر(فصل)کی خوبصورت بیٹی پرسیفونی پر پاتال کادیوتا’’ہیڈیز‘‘عاشق ہوجاتاہے اوراسے اغوا کرکے پاتال کی زیرزمین تاریک دنیا میں لے جاتا ہے،دمی تر اس کی تلاش میں در بدر بھٹکی ہے چنانچہ دمی ترکی اس دربدری میں زمین کی ساری سرسبزی ختم ہوجاتی ہے،آخر کاربڑی مشکل سے وہ اس کاپتہ لگالیتی ہے۔

اب مقدمہ دیوتاؤں کی عدالت میں زیرسماعت ہوجاتاہے، فیصلہ ہوتاہے کہ اگر پرسیفونی نے پاتال میں کچھ کھایانہ ہوتو ماں کے حوالے کردی جائے لیکن پاتال میں ہیڈیز اسے انار کے دانے کھلاچکاہوتاہے،اس لیے ترمیمی فیصلہ یہ ہوجاتاہے کہ اب پرسیفونی چارمہینے پاتال میں ہیڈیزکے ساتھ رہے گی اورآٹھ مہینے ماں کے ساتھ برسرزمین رہے گی۔

سیدھا سادا سا موسمی اورنباتاتی قصہ ہے، پر سیفونی جو ’’بیج‘‘ہے، آٹھ مہینے میں ’’ماں‘‘یعنی فصل کے پاس ہوتی ہے،ظاہرہے کہ فصل آٹھ مہینے میں پک جاتی ہے اوراس میں بیج پیداہوجاتاہے، پھروہ بیج خزاں میں جھڑکر مٹی میں چلاجاتاہے اورچارمہینے گزرنے پر بیج پھر پھوٹ اوراگ کر فصل کی صورت اختیارکرتا ہے، ہیڈیزپاتال کااستعارہ یامٹی ہے اوراس کے معنی بھی ’’اندھیرا‘‘کے ہوتے ہیں ،یہ سارے دیوی دیوتاآپس میں رشتے دار بھی ہیں،چھ اولمپک دیوی دیوتاؤں کاسربراہ زیوس (سورج)ہے، اس کے دوبھائی ہیڈیزمٹی یا زمین کااستعارہ ہے اوریوسیڈوں سمندروں یا پانی کا۔ان کی تین بہنیں بھی ہیں ’’ہبرا‘‘جو زیوس کی بیوی بھی ہے، خوراک چولہے اورگھریلو امورکی دیوی ہے ،دمی تر فصلوں کی اورایفروڈائٹ جنسی بارآوری کی۔

یہ سب کے سب آپس میں بہن بھائی ہونے کے باوجود جنسی طورپر بھی منسلک ہیں،پرسیفونی اور ایفروڈائٹ کابیٹاایروزی بھی زیوس ہی کی اولاد ہے، زیوس جنسی طورپر ہردیوی سے منسلک ہے،لیکن اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں، دیوی دیوتا تو استعارے ہیں اوراصل سورج سے چوں کہ سارے عوامل فیض باب ہوتے ہیں یا سب پر اس کی دھوپ پڑتی ہے اس لیے اسے جنسی تعلق کارنگ دیاگیاہے،روم کی اساطیر تقریباً یونانی اساطیرکاچربہ ہیں اس لیے وہاں ایفروڈائٹ کو ’’وینس‘‘اورایروزکو کیوپڈ بتایاگیا،ہندی اساطیرمیں کیوپڈ کاکردار ’’کام دیو‘‘ میں سمویا گیا ہے، تینوں کے پاس تیرکمان ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   دوسرے پارے کا خلاصہ

عرب خطوں میں اسے ’’زہرا‘‘کہتے ہیں، زہرا ہرے رنگ کو بھی کہتے ہیں اورہرا رنگ ہریالی کابھی ہوتاہے جب کہ ریگستانوں میں ہرارنگ آنکھوں کو بھلالگتاہے۔

فارسی کا ’’یخ تیر‘‘ پشتو میں ’’اختر‘‘بن گیا چونکہ اس سے بہار کاگہراتعلق ہے اس حوالے سے بہار کی ابتداکادن خوشی کاہوتاہے،ایران ،افغانستان میں یہ جشن بڑے جوش وخروش سے منایاجاتاہے اگرچہ اب یہ جشن کادن جمشید کے حوالے سے منایا جاتا ہے کہ اس دن جمشید کو برف کے طوفان سے نکلنے میں اورنیاوارہ بنانے میں کامیابی حاصل ہوئی لیکن اصل میں یہ ایک موسمی جشن ہے۔

پشتونوں نے اس نام ’’اختر‘‘ کو ’’عید‘‘ میں بدل دیااورعیدوں کو چھوٹی عید اوربڑی عید کے طورپر منایا جاتاہے حالاںکہ عیدین کا لفظ ’’اختر‘‘ سے کوئی تعلق نہیں لیکن اب ’’اختر‘‘نہ دیوی ہے نہ ستارہ نہ کچھ اوربلکہ صرف’’خوشی‘‘ کامفہوم رکھتاہے ۔

زہرا،ناہید،عشتار،استر،عسرت،آست،

ایفروڈائٹ اور وینس کی تفصیل کے بعد زہرا اور ہاروت ماروت کی بات کرتے ہیں ۔

(جاری ہے)

Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں