pcb 104

بورڈ کا فرنچائزز کے ساتھ رپورٹ شیئرکرنے سے انکار

کراچی: پی سی بی نے فنانشل ماڈل کے معاملے پر ریٹائرڈ جج کی رپورٹ پی ایس ایل فرنچائزز کے ساتھ شیئر کرنے سے انکارکر دیا۔

مسلسل مالی خسارے کی شکار پی ایس ایل فرنچائزز نے پی سی بی کیخلاف گذشتہ برس کیس کر دیا تھا، جس کے بعد معاملہ عدالت سے باہرحل کرنے پر اتفاق ہوا،دونوں فریقین نے ایک نئے فنانشل ماڈل پر اتفاق کیا مگر مستقبل میں مسائل سے بچنے کیلیے پی سی بی حکام خود منظوری نہیں دینا چاہتے تھے۔

’’جوڈیشل ریویو‘‘ کیلیے بورڈ نے جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی کی خدمات حاصل کیں۔ اس سے قبل ایک بزنس مینجمنٹ کنسلٹنٹ کمپنی ای وائی فورڈ رہوڈز نے تمام فرنچائزز سے اکاؤنٹس کی تفصیلات لی تھیں جوریٹائرڈ جج کو دی گئیں،انھیں 3 ہفتے کا وقت دیا گیا تھا مگر پھر طویل خاموشی چھائی رہی، اس پر فرنچائزز نے خط لکھ کر بورڈ سے درخواست کی کہ ریٹائرڈ جج کی رپورٹ ان کے ساتھ شیئر کی جائے۔
ذرائع نے بتایا کہ ٹیم اونرزکو پی سی بی کے سی او او سلمان نصیر کا جواب موصول ہوگیا، جس میں انھوں نے تصدیق کی کہ مجوزہ فنانشل ماڈل پر جسٹس ریٹائرڈ تصدق حسین جیلانی کی قانونی رائے مل گئی ہے،گذشتہ دنوں پی سی بی کے گورننگ بورڈ ارکان لاہور میں خصوصی اجلاس کیلیے موجود تھے۔ اس کے اختتام پر ہم نے ان سے آپ کے نقطہ نظر اور قانونی رائے کی کاپی دینے کے حوالے سے درخواست پر تبادلہ خیال کیا۔

تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد ارکان سمجھتے ہیں کہ یہ پی سی بی کی ایک خفیہ دستاویز ہے جسے اندرونی جائزے کیلیے استعمال کیا جائے گا،اس سے بورڈ کو فیصلہ سازی میں مدد ملے گی، لہذا پی ایس ایل فرنچائزز سے رپورٹ کو شیئر کرنا مناسب نہ ہوگا

یہ بھی پڑھیں: -   ورلڈ کپ اسکواڈ؛ اظہر محمود کو تجربے کی کمی کھٹکنے لگی

انھوں نے ای میل میں مزید لکھا کہ چیئرمین رمیز راجہ نے حال ہی میں ذمہ داری سنبھالی ہے، انھوں نے دستیابی کی صورت میں 2 ہفتوں کے دوران گورننگ کونسل کی میٹنگ طلب کرنے کا مشورہ دے دیا،پی ایس ایل کے جو معاملات چل رہے ہیں وہ انھیں ایک ماہ کے اندر حل کرنا چاہتے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ فرنچائز مالکان رپورٹ نہ ملنے پر ناخوش ہیں تاہم اب بھی انھیں امید ہے کہ نئے چیئرمین رمیز راجہ مسائل حل کرنے میں سنجیدگی دکھائیں گے، ان سے ملاقات میں تمام معاملات پرتبادلہ خیال کیا جائے گا۔

saleem Khaliq
سلیم خالق

سلیم خالق کی تمام تحاریر ایکسپریس بلا گ سے لی جاتی ہیں. مزید پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں