Attaul-Haq-Qasmi 133

اقبال۔آپ کا کیا خیال ہے؟

میرے خیال میں مجھے اب یہ اعلان کرنے میں تاخیر نہیں کرنا چاہئے کہ میں ایک ماہرِ اقبالیات ہوں کیونکہ گزشتہ برسہا برس سے میں مختلف شہروں میں اقبال کے حوالے سے اپنے افکارِ عالیہ فرزندانِ توحید کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کے سامنے بیان کرتا چلا آ رہا ہوں۔ میں نے ہزار بارہ سو کے مجمع کو ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اس لئے قرار دیا ہے کہ اس میں ہر شخص اپنی جگہ پر ایک پورا جلسہ ہوتا ہے، اسی طرح خود کو ماہرِ اقبالیات ڈکلیئر کرنے کی بھی وجہ یہ ہے کہ بہت سے دوسرے ماہرینِ اقبالیات کی طرح مجھے بھی اقبال کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے، ہم نابینوں کا ہاتھ اس ہاتھی کے جسم کے جس حصے پر جا پڑتا ہے، ہم اسے مکمل اقبال قرار دے ڈالتے ہیں، چنانچہ ’’ملا‘‘ اسے مُلا اور مسٹر اسے ’’مِسٹر‘‘ سمجھتا ہے، حالانکہ وہ نہ مُلا ہے اور نہ مِسٹر کیونکہ مُلا کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ آگے کیا ہو رہا ہے اور مِسٹر کو اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ پیچھے کیا ہو رہا ہے۔ ملا نے پاکستانیوں کے آج اور مستقبل میں پیش آنے والے مسائل سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور مِسٹر ہمارے سارے ماضی کو رد کرنے پر تلا ہوا ہے جبکہ اقبال روشن ماضی میں سے روشن مستقبل کی واپسی تلاشتا اور تراشتا ہے۔ تاہم یہ امر اطمینان بخش ہے کہ اقبال کی عظمت کو دونوں مانتے ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ عالمِ اسلام میں قدیم اور جدید کی کشمکش تمام حدیں عبور کر کے قتل و غارت تک جا پہنچی ہے۔ اس حوالے سے پاکستانی عوام کو دو الگ الگ خانوں میں تقسیم کیا جا چکا ہے اور یہ روز بروز ایک دوسرے سے دور سے دور تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ قرآن و سنت کو دونوں مانتے ہیں لیکن یہ دونوں فریق اس کی تشریح اپنے پہلے سے طے شدہ نظریات کی روشنی میں کرتے ہیں اور اس ضمن میں اپنے کسی ’’امام‘‘ کی رائے کو بھی قابلِ اعتنانہیں سمجھتے۔ سو اِن دونوں طبقوں کے جن افراد نے اپنے دماغوں پر موٹے موٹے قفل لگارکھے ہیں ان سے مجھے کسی خیر کی توقع نہیں۔ البتہ دونوں فریقوں کے جن افراد نے اپنے دل و دماغ کے دریچے کھلے رکھے ہیں، اقبال ان کے درمیان پل کا کام دے سکتا ہے۔ چنانچہ میرے نزدیک آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت فکرِ اقبال کو عام کرنے کی ہے۔ اس میں ہمیں اپنا ماضی، حال اور مستقبل واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اگر اقبال عاشقِ رسول ﷺ ہیں، جو کہ ہم سب مانتے ہیں اور اگر اقبال مفسرِ قرآن ہیں اور یہ بھی ہم سب مانتے ہیں تو پھر آپس میں جھگڑنے اور ایک دوسرے سے الجھنے کی بجائے ہم انہیں اپنا ثالث بھی کیوں نہیں مان لیتے؟

یہ بھی پڑھیں: -   بسوزعقل زحیرت…

اور جہاں تک شاعر اقبال کا تعلق ہے تو میرے نزدیک اس قد کاٹھ کا کوئی شاعر بھی ہمارے ہاں موجود نہیں۔ مجھے اردو کے کلاسیکی شعراء میں سے اقبال کے بعد میرؔ پسند ہے کہ دونوں کے ہاں سوز و گداز کی کیفیت بدرجہ اتم موجود ہے۔ میرؔ اور اقبالؔ کا موازنہ ممکن نہیں کہ دونوں کا میدان ایک دوسرے سے مختلف ہے لیکن میرؔ اگر میری خلوت کا ساتھی ہے تو اقبال میری خلوت اور جلوت دونوں کو اجالتا ہے، اس کی شاعری میرے اندر دھمالیں ڈالتی ہے اور مجھے لگتا ہے میں کسی ایسے خوبصورت جزیرے میں رنگ برنگے پرندوں کی پھڑپھڑاہٹ میں سانس لے رہا ہوں جو حقیقت اور رومان کے امتزاج سے وجود میں آیا ہے۔ اقبال اردو شاعری کی واحد بین الاقوامی ’’فِگر‘‘ ہے چنانچہ اس کی شاعری کی چاپ نہ صرف یہ کہ دنیا کی بیسیوں زبانوں میں سنائی دے رہی ہے بلکہ بلا تمیز رنگ و نسل و مذہب و ملت اس کی شاعری کے عاشقوں کی تعداد ہمارے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ میں یہاں اقبال کی شاعری کے اس حصے کی بات نہیں کر رہا جس کی انقلابی جھنکار پر عالم اسلام میں بیداری کی لہر اٹھی اور انہوں نے پاؤں کی زنجیریں کاٹ ڈالیں میں تو صرف اس اقبال کی بات کر رہا تھا جن کی شاعری میں ہزاروں کتابوں کا علم ہے مگر یہ علم گرم مصالحے کی طرح اس کی شاعری پر تیرتا نظر نہیں آتا بلکہ اس میں رچ بس کر اسے خوش رنگ، خوش ذائقہ اور ارفع و اعلیٰ بنا دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   غداروں کے ہجوم میں ایک محب وطن!

مجھے لگتا ہے کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں کیونکہ اس سے پہلے میں سنجیدہ باتیں تو کرتا رہا ہوں لیکن اتنے سنجیدہ پیرائے میں کبھی نہیں کیں، تاہم آپ سے میری گزارش ہے کہ آپ میرے بوڑھا ہونے والے بیان کو سنجیدگی سے نہ لیں بلکہ اس کے جواب میں وہی کہیں جو اس موقع پر مروتاً کہا جاتا ہے کہ صاحب! آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔ ابھی تو آپ ماشاء اللہ جوان رعنا ہیں اور آپ کے عقدِ ثانی کے دن ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ ہلا شیری اس لئے بھی ضروری ہے کہ ناتواں کو توانا کہنے سے اس کی ناتوانی دور نہیں ہو جاتی بلکہ اس میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس وقت اقبال کا پاکستان کچھ شعبوں میں بہت طاقتور اور کچھ شعبوں میں بہت ناتواں ہے لیکن اس کی ناتوانی کو طاقت میں بدلنے کی ضرورت ہے۔ اقبال مایوسی کا نہیں، امید کا شاعر ہے۔ وہ ناتواں ممولے کو بھی یہ نہیں کہتا کہ موت تمہارے قریب پہنچ چکی ہے بلکہ وہ اس ممولے کو شہباز سے لڑانے کی بات صرف ممولے کا اعتماد بحال کرانے کے لئے کرتا ہے تاہم اس سے امید رکھتا ہے وہ پہلے ڈنڈ بیٹھکیں نکالے آگے یہ ممولے کی عقل پر منحصر ہے کہ وہ شہباز کے مقابلے کے لئے تیاری کر کے میدان میں اترتا ہے یا ممولے کا ممولا ہی رہتا ہے اور شاہین پر جھپٹ پڑتا ہے۔ اقبال کے اس نوع کے کلام کو اس اینگل سے ہی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

یہ بھی پڑھیں: -   راسپوٹین کب نمودار ہوتا ہے؟
Attaul-Haq-Qasmi
عطاءالحق قاسمی

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں