azharmehmoodx 126

ورلڈ کپ اسکواڈ؛ اظہر محمود کو تجربے کی کمی کھٹکنے لگی

اظہر محمود کو ورلڈکپ اسکواڈ میں تجربے کی کمی کھٹکنے لگی جب کہ سابق آل راؤنڈر کا کہنا ہے کہ بابر اعظم اور محمد رضوان کے سوا دیگر بیٹسمین مشکلات کا شکار ہیں۔

پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pk کے پروگرام ’’کرکٹ کارنر ود سلیم خالق‘‘ میں گفتگوکرتے ہوئے اظہر محمود نے کہاکہ بابر اعظم اور محمد رضوان کے سوا دیگر بیٹسمین مشکلات کا شکار ہیں، شعیب ملک گذشتہ کچھ عرصے سے اچھا پرفارم کررہے ہیں، پی ایس ایل اور دنیا بھر کی لیگز میں بھی انھوں نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا،بڑے میچز میں تجربہ درکار ہوتا ہے،آل راؤنڈر کو ورلڈکپ اسکواڈ میں ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ فخرزمان کی بھی جگہ بنتی تھی، یہ اچھی بات ہے کہ آصف علی اور خوشدل شاہ کو شامل کیا گیا،اس سے مڈل آرڈر کو تقویت ملے گی،البتہ فہیم اشرف کو ڈراپ کیا جانا حیران کن ہے، محمد رضوان کی مسلسل عمدہ پرفارمنس کی وجہ سے سرفراز احمد کی جگہ نہیں بن رہی تھی، اعظم خان ریزرو وکٹ کیپر کے ساتھ پاور ہٹر کا خلا بھی پْر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سابق آل راؤنڈر نے کہا کہ ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بولنگ کوچ وقار یونس کی رخصتی کا یہ مناسب وقت نہیں، میں نہیں جانتا کہ کھلاڑی ان کے ساتھ خوش تھے یا نہیں،بہرحال انھوں نے2سال تک ٹیم کے ساتھ کام کیا اور پلیئرزکی صلاحیتوں سے آگاہ تھے۔

ایک سوال پر اظہر محمود نے کہا کہ ثقلین مشتاق اور عبدالرزاق کیلیے کوچنگ آسان نہیں ہوگی،یواے ای کی کنڈیشنز گرین شرٹس کیلیے سازگار ہیں، پاکستان نے پی ایس ایل سمیت وہاں کافی کرکٹ کھیلی،اسکواڈ میں اتنی صلاحیت ہے کہ سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرتے ہوئے ٹائٹل جیت بھی سکے،ضروری ہوگا کہ کمبی نیشن درست اور مورال بلند ہو،پرفارمنس میں تسلسل آگیا تو ٹیم اچھے نتائج دے سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   زندگی نے صبر سے میری ملاقات کرادی

بھارت کیخلاف میچ میں کامیابی کے سوال پر اظہر محمود نے کہا کہ ورلڈکپ میں روایتی حریف کیخلاف ہمارا ریکارڈ اچھا نہیں، چیمپئنز ٹرافی میں پہلا میچ ہارنے کے بعد فائنل جیت گئے تھے، بھارتی ٹیم متوازن مگر پاکستان کے پاس بھی باصلاحیت کرکٹرز موجود ہیں، فتح کیلیے میچ والے دن اچھا کھیلنا ہوگا۔

کوچنگ سنبھالنے کیلیے دستیاب ہوں، بورڈ نے تاحال رابطہ نہیں کیا

اظہر محمود نے بولنگ کوچ کی ذمہ داری کیلیے دستیابی ظاہر کردی،میڈیا میں اس حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس پر انھوں نے کہا کہ فی الحال پی سی بی نے مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا،میں ابھی فری لانسر کے طور پر کام کررہا ہوں،اگر قومی ٹیم کیلیے ضرورت محسوس کی گئی تو دستیاب ہوں گا،اس سے قبل بھی ہمیشہ میری خدمات حاضر رہی ہیں،میں سرے کا معاہدہ چھوڑ کر وطن واپس آگیا تھا،میں آج جو کچھ بھی ہوں پاکستان کی بدولت ہوں،ملک کیلیے کچھ کرنا باعث فخر ہوگا۔

قومی پیسرز میرے بچوں کی طرح ہیں،شاہین پرکام کا بوجھ کم ہونا چاہیے

اظہر محمود کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم میں موجود پیسرز میرے بچوں کی طرح ہیں،میں نے ہی شاہین شاہ آفریدی اور حسن علی کی صلاحیتیں نکھارنے کا سلسلہ شروع کیا، دونوں پاکستانی اٹیک کی کمان کرتے ہیں تو اچھا لگتا ہے،یہ اپنی سو فیصد صلاحیتوں کا اظہار کرنے والے میچ ونر ہیں،البتہ شاہین شاہ آفریدی پر کام کا بوجھ کم کرنا ہوگا تاکہ وہ مزید 10سال تک ملک کیلیے پرفارم کرتے رہیں۔

saleem Khaliq
سلیم خالق

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں