machhar 107

یہ ہے دنیا کا سب سے خوبصورت مچھر

لندن: اگر آپ مچھروں کو بھدا اور بدصورت کیڑا تصور کرتے ہیں تو یہ بات درست نہیں کیونکہ جنوبی اور وسطی امریکہ میں مور نما مچھر پایا جاتا ہے جو بہت خوبصورت دکھائی دیتا ہے۔ انہیں سبیتھ مچھر کہا جاتا ہے۔

اس کے مور جیسے چمکیلے رنگ اتنے خوبصورت ہیں کہ بعض اسے روایتی مچھر ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ یہ جنوبی اور مرکزی امریکہ کے حاری (ٹراپیکل) جنگلات میں عام پایا جاتا ہے۔ اس کے پاؤں پر مور جیسے رنگین اور نازک پر اسے مزید خوبصورت بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگلی دو ٹانگیں بھی کم خوبصورت نہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس مچھر سےنظر نہیں ہٹتی لیکن یہ کیمرے میں بہت مشکل سے آتے ہیں کیونکہ بے چین مچھر کا مکمل حسن کیمرے میں مشکل سے ہی آتا ہے۔
another-mosquito

اگر روشنی کی کمی بیشی یا اطراف میں معمولی سے بھی حرکت ہوتی ہے تو مچھر اس پر اپنا ردِ عمل دیتا ہے۔ جنگلی حیات کے مشہور فوٹوگرافر گِل وائزن کہتے ہیں کہ اس کی تصویر قریب سے کھینچنا محال ہے کیونکہ یہ کیمرے کو دیکھ کر اڑجاتا ہے ۔ یہاں تک کہ کیمرے فلیش سے بھی کتراتا ہے اور بھاگ جاتا ہے۔

لیکن ان مچھروں میں ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ تنہا نہیں ہوتے اور ایک ساتھ غول کی صورت اڑتے یا آپ کے سر پر منڈلاتے رہتے ہیں۔ سائنسداں یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ آخریہ مچھر اتنے دیدہ زیب کیوں ہیں اور اس کا انہیں کیا فائدہ ہوتا ہے؟ ارتقائی طور پر شاید نر مچھر مادہ کو اپنی جانب کشش کرتے ہیں لیکن سائنسدانوں نے دیکھا کہ جب نر مچھروں کی ٹانگوں سے خوبصورت پر ہٹادیئے گئے تب بھی مادائیں ان کی جانب راغب ہوئیں۔ تو اب تک ہم اس کا راز نہیں جان سکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   وزن میں صرف 5 فیصد کمی بھی ذیابیطس سے بچاسکتی ہے، تحقیق

sabeeth

واضح رہے کہ اس وقت دنیا بھر میں مچھروں کی 3300 اقسام پائی جاتی ہیں جن میں سے صرف مادہ خون چوستی ہیں کیونکہ انہیں اپنے انڈوں کی پیداوار کے لیے غذائی اجزا اور پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ پھولوں کا رس بھی چوستی ہیں۔

لیکن سبیتھ مچھروں کے حسن سے متاثر ہوکر ان کے پاس جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ زردبخار اور ڈینگی پھیلانے کےماہرہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں