Columns of Saadullah jaan barq 143

آہ پشاور ریڈیواسٹیشن

خوش خبریاں توآپ روزانہ سنتے ہیں ،کیونکہ ہم نے یہ تحقیق سے معلوم کیا ہے کہ ہمارے اس ملک کی مٹی بہت زرخیز ہے بلکہ سناہے کہ دریافت تو علامہ اقبال نے کسی خواب میں کیا تھا۔ ہم صرف اسے دیکھ رہے ہیں کیونکہ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ

کھول آنکھ زمین دیکھ‘ فلک دیکھ‘ فضا دیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
اور ہم ان کے کہے پر عمل کرکے دیکھ رہے ہیں کہ واقعی یہ مٹی بہت زرخیز ہے۔ یہاںجو چیز بھی اُگتی ہے بہتات میں اُگتی ہے بلکہ یہ بات بھی ہم نے کہیں آپ کو بتائی تھی بلکہ آپ خود بھی ملاحظہ فرما رہے ہوں گے کہ یہاں ہر چیز کی اتنی بہتات ہے کہ چیزیں اسی بہتات میں گم ہو رہی ہیں۔

خود اپنے سے ملنے کا بھی یارانہ تھا مجھ میں
میں بھیڑ میں گم ہو گیا تنہائی کے ڈر سے

کوئی بات نہیں بھیڑ میں گم ہو گئے ہیں تو فکر ناٹ کسی دن کوئی ہمیں ڈھونڈ نکالے گا یا ہم خود کو پائیں گے، بات بہتات کی ہو رہی ہے اور اتنی بہتات کو دیکھ کر ہمیں خدشہ ہونے لگا ہے کہ اس ملک کو اگر خدا نخواستہ کوئی گزند پہنچے گی تو وہ قلت سے نہیں بہتات سے پہنچے گی۔

توڑا انجیر کی شاخ کو کثرت نے ثمر کی
دنیا میں گراں باری’’ اولاد‘‘ غضب ہے

ویسے تو ہر طرف بہتات ہی بہتات ہے اور ہر قسم اور رنگ و نسل کی بہتات ہے اندازہ اس بہتات کا اس سے لگائیں کہ اگلے زمانوں میں کہیں کہیں خال خال اکا، دُکا معاون خصوصی برائے پایا جاتا تھا اور آج معاون خصوصی برائے کی اتنی بہتات ہے کہ کنکر اُٹھاؤ تو اس کے نیچے بھی دوچار مل جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: -   چیونٹیوں کا رزق چوہے کھاتے ہیں

لیکن جو خوشخبری ہم آپ کو بتانے والے ہیں وہ نیا پاکستان، نیا وژن اور نئی تبدیلی کی طرح بالکل نئی نویلی ہے۔وہ یہ کہ انگریزوں یا غلامی کی ایک اور نشانی ریڈیو پاکستان پشاور ملیامیٹ کر دی گئی۔ انگریزوں نے جب ہمیں غلام بنایا تھا تو اس وقت سب سے پہلے دلی اور پشاور میں ریڈیو اسٹیشن قائم کیے تھے‘ ہمارا مال اپنے ملک لے جانے کے لیے۔ وہ مال واپس لانے کے لیے ہم آج کل دھڑا دھڑ اپنے آدمی وہاں بھیج رہے ہیں۔ ان دو ریڈیو اسٹیشنوں میں سے بھی دلی والے اسٹیشن کو بہت پہلے ’’باہمنوں‘‘ کے دیس میں چھوڑ دیا تھا۔ صرف یہ ایک باقی تھا۔ سو اب اس سے بھی چھٹکارا حاصل کر لیا۔ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔

اس کے بھی ہم ایک عرصے پہلے پھونگی بجائے ہوئے تھے اور اسلام کے نیچے اتنا دبایا کہ اس کی آواز یہ خود بھی نہیں سن رہا تھا لیکن

کس قدر ہم مٹائے تیری یادوں کے نشان
پھر بھی دل میں اک نشان بے نشان رہ گیا تھا

سارے ٹرانسمیٹر اسلام آباد لے جائے گئے ہیں یا کباڑ کر دیے گئے ہیں ۔صرف انگریزوں ہی کے زمانے کا ایک کھانستا ، ہانپتا ہوا ٹرانسمیٹر تھا اور اب اس کو بھی شائد ، کوئڈ نائنٹین ہو گیا ہے۔ اس لیے پروگرام صرف انٹرنیٹ پر نشر ہو رہے ہیں۔

سنا ہے ایک ٹرانسمیٹر زمانے کے دستبرد یا خرد برد سے بچا ہوا ہے لیکن وہ اسلام آباد سے نشر کیے جانے والے ان اردو پروگراموں کے لیے مخصوص ہے جو افغانستان یا قبائلی علاقے کے لیے خصوصی پروگرام بزبان اردو نشر کرتا ہے کیونکہ افغانستان اور قبائلی علاقے کے لوگ صرف اردو سمجھتے ہیں کوئی اور زبان جانتے ہیں نہ سنتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   مسئلہ فلسطین: مذہبی اور غیرمذہبی تعبیرات

بہر حال مدت تو کافی لگ گئی لیکن دیر اور درست آئید۔ انت بھلا تو سب بھلا۔لیکن نوالوں کے لیے جو منہ اسٹیشن کی عمارت میں جمع کیے گئے ان کو بھی تو بے روزگار نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے ان کی روزی روٹی کے لیے پروگرام نشر ہو رہے لیکن صرف انٹرنیٹ پر۔

Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں