Columns of Saadullah jaan barq 101

باٹوں کے پیچھے پنکھے اور ہیٹر بھی

کسی جج نے ایک پیشہ ورگواہ کوکئی بار اپنی عدالت میں گواہی دیتے ہوئے دیکھا تو پوچھا، تم ہر کیس میں گواہی دینے آجاتے ہو… یہ ماجرا کیا ہے؟ پیشہ ور گواہ نے کہا، حضور میں کیا کروں، قسمت مجھے وہاں پہنچا دیتی ہے جہاں واردات ہو رہی ہوتی ہے۔

ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ ہم اکثر پرانی حکایتوں، شعروں اور لطیفوں کو دہرانے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ حالات ہمیشہ تاریخ کی طرح اپنے آپ کو دہراتے رہتے ہیں۔

ہم نے پیچھے کہیں کسی کالم میں محترم انور مسعود کے ایک شعر کا ذکر کیا تھا کہ
یہی انداز دیانت ہے تو کل کا تاجر

برف کے باٹ لیے دھوپ میں بیٹھا ہوگا

وہ کل آج ہی ہو چکی ہے اور ہم نے اس تاجر کو بھی دیکھ لیا جو برف کے باٹ لیے دھوپ میں بیٹھا ہے اور قبول بھی کر لیا کہ ہرچند ’’گور‘‘ سخت ہے لیکن ’’مردے‘‘ کی تو مجبوری ہوتی ہے کہ اپنوں ہی نے اسے گور کے حوالے کرنا ہوتا ہے، لیکن ہمیں کیا پتہ تھا کہ ’’تاجر‘‘ کے پاس اور بھی بہت سارے ’’ہنر‘‘ ہیں، دھوپ اور برف کے باٹوں کے علاوہ… چنانچہ ہم نے دیکھا کہ دھوپ اور برف کے باٹوں کے ساتھ ساتھ اس نے ایک ہنر پنکھے کا رخ بھی باٹوں کی طرف کرنا استعمال کیا ہوا ہے اور پنکھے کے پیچھے ہیٹر بھی لگا رکھا ہے۔

اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہوں میں
روز اک طرز نئی قتل کی ایجاد کرے

ہوا یوں کہ ہمارے اس آلہ ابلیس عرف سیل فون کی جیب خالی ہوگئی تو ہم نے بیٹے سے کہا کہ تھوڑی ریزگاری ڈال دو۔ اس نے ڈال دی، سیل فون نے بھی تصدیق کر دی کہ لگ بھگ ساٹھ ستر روپے مل گئے، یہ تو ہمیں پہلے ہی سے معلوم تھا کہ سو روپے راستے میں پگھل کر ستر کیسے ہو جاتے ہیں کیوں کہ ہم نے وہ ہیٹر دیکھ رکھے تھے جو حکومت نے راستے میں جمع ٹیکس لاگو ہیں، کی شکل میں لگوائے ہوئے ہیں۔ اگرچہ مزدوری سے پہلے کٹوتی ہماری سمجھ میں نہیںآتی تھی لیکن ایسا اور بھی بہت کچھ ہے جو ہماری سمجھ میں نہیں آتا،کوئی کب تک، کہاں تک اور کیسے کیسے سمجھے اور کس کس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔

یہ بھی پڑھیں: -   اسلام قبول کرنے کو جرم بنانے کا بل

ایک زمانے میں ہمارے ساتھ کچھ دوست بیٹھے تھے، ان میں ایک سگریٹ نوش تھا، اس نے میرے بیٹے کو ایک روپیہ دیتے ہوئے کہا کہ جا کر فلاں ہٹی سے ماچس لے آؤ اور چونی تم رکھ لو۔ ’’روپے‘‘ کے نام سے چونکیے مت، یہ پرانے زمانے میں ایک ’’سکہ‘‘ ہوتا تھا جو چلتا بھی تھا بلکہ بڑا کام بھی کرتا تھا لیکن پھر اس کی وفات حسرت آیات کے ساتھ ساتھ انتقال پرملال بھی ہوگیا، بہت سے ثقہ ذرایع کا کہنا ہے کہ اسے کچھ نامعلوم اجرتی قاتلوں نے بیچ بازار قتل کر ڈالا تھا لیکن نہ کوئی مدعی نہ گواہ اس لیے رزق خاک ہوگیا۔

ہاں تو لڑکا ماچس لینے گیا، تھوڑی دیر بعد واپس آیا توکچھ کھا رہا تھا۔ اس نے بارہ آنے اس شخص کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہا، اس کے پاس ماچس نہیں تھی۔ گویا اسے ہم ایک چلتا پھرتا جمع ٹیکس یا ’’لاگو ہیں‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔لیکن بات ابھی ختم کہاں ہوئی، باٹوں کے پیچھے ’’پنکھے اور ہیٹر بھی تو ہیں۔ ہمارا نیک مشورہ ہے۔

ہمارا مشورہ نہ پہلے کسی نے مانا ہے نہ اب مانے گا لیکن ہم مفت مشورہ دینے کی لت نہیں چھوڑ سکتے کو بتانے کی کوشش بھی کی تھی کہ چلو میسج تو ہم پڑھتے نہیں کہ اب وہ تقریباً ہمیں ازبر ہو چکے ہیں لہٰذا مشورہ حاضر ہے۔ چونکہ مفت میں وصول ہونے والے میسجز کو ڈیلیٹ کرنے کی مشقت سے ہماری اپنی اور فون سیٹ کی انرجی برباد ہو رہی ہے، اس کا تو کچھ معاوضہ ہونا چاہیے ۔ لگتا ہے مشورہ منظور کر لیا گیا ہے، لیکن ہماری بدقستمی دیکھیے کہ ان میسجوں کے آنے اور پھر ڈیلیٹ کرنے کا معاوضہ بھی ہم سے لینا شروع ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   گنتے رہا کریں

سنا ہے کسی حکومت میں یہ دستور تھا کہ جن لوگوں کو سرکاری اہکلار گولی مار کر قتل کرتے تھے، ان کے لواحقین سے ان گولیوں کے قیمت وصول کی جاتی تھی، لیکن شاید زمانہ اور تاجر اور اجرتی نے اب ’’گولی‘‘ کی جگہ کچھ اور استعمال کرنا شروع کر دیا ہے البتہ ’’وصولی ‘‘ بدستور جاری ہے۔ اب ہم فریادکس کے پاس لے کر جائیں کہ حاکم شہر بھی…

سحر ز ہاتف تھم رسید مژدہ بگوس
کہ دورشاہ شجاع است می دلیربنوش

Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں