Columns of Amjad Islam Amjad 150

قومی ترانے کی زبان

ایمانداری کی بات یہی ہے کہ قومی ترانے کی پہلی لائن سے لے کر آخری لفظ تک شاعری ، موسیقی ، قومی امنگوں اور وطن کی اجتماعی آواز میں ہم میں سے ہر ایک کی انفرادی شمولیت ایک ایسا مجموعہ ہے جس کا رُوپ اپنی مثال آپ ہے۔

عبدالکریم چھاگلا کی بنائی ہوئی اس کی شاندار اور ُروح پروردُھن کو مختلف اوقات میں آرکسٹرا اور سنگرز کے حوالے سے تو کچھ تبدیلیوں کے بعد دوبارہ ریکارڈ کیا گیا ہے مگر اس کی کمپوزیشن اور بول اپنی اوریجنل حالت میں ہیں اور ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے (کہ قومی ترانہ پورے کا پورا تو تبدیل ہوسکتا ہے مگر اس کی دُھن اور الفاظ میں ردّوبدل نہیں کیا جاسکتا) ہمیں تو یہ اچھا اور محترم لگتا ہی تھا کہ ہمارے دل اس کے ساتھ دھڑکتے ہیں مگر مزید خوشی اور فخر کی بات یہ ہے کہ اپنے عمومی تاثر کے اعتبار سے اسے دنیا بھر میں موجودقومی ترانوں کی پہلی صف میں رکھا جاتا ہے اور زبان اور کچھ سازوں کی انفرادیت کے باوجود اس کا رِدّھم کرہ ارض پر موجود ہر انسان کو اپنا اپنا سا لگتا ہے ۔

حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کے باوجود کچھ لوگ اس کی گُوناگوں خوبیوں کی تحسین کے بجائے اس میں استعمال ہونے و الے الفاظ کے حوالے سے ایک انتہائی بے کار، غیر ضروری اور غیر حقیقی بحث کو ہوا دیتے رہتے ہیں جس کا لُبِ لباب یہ ہے کہ اس میں سوائے ایک ’’کا‘‘ کے کوئی لفظ اردو کا نہیں اور یہ سارے کا سارا فارسی میں ہے۔ مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ بغیر سوچے سمجھے ان کی ہاںمیں ہاں بھی ملانے لگ جاتے ہیں جب کہ دونوں کو ہی ’’زبان‘‘ کے حوالے سے صورت حال کی اصلیت کا پتہ ہی نہیں ہوتا۔
میں ذاتی طور پر اس طرح کی بحث میں پڑنے کو اپنے اور دوسروں کے وقت کا ضیاع سمجھتا ہوں، اس لیے میں نے ہمیشہ اس میں حصہ لینے سے گریز کیا ہے اور شاید اب بھی کرتا، اگر مجھے برادر عزیز عابد علی بیگ کی اس موضوع پر ریسرچ اور مبسوط کتاب نما مضمون کا پتہ نہ چلتا اور چونکہ اپنی شعرو ادب براڈ کاسٹنگ اور موسیقی سے گہری اور عمر بھر کی رفاقت کی وجہ سے وہ ہر اعتبار سے اس کا استحقاق رکھتے ہیں، اس لیے اُن کی بات کی تائید کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے بعد اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے کسی لاکر میں بند کرکے رکھنا آسان ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: -   فیصلے کریں ورنہ گھر جائیں

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے قومی ترانے کے بول اُردو کے ایک بڑے اور اہم شاعر ابوالاثر حفیظ جالندھری نے عبدالکریم چھاگلہ کی پہلے سے تیار کی ہوئی دُھن پر لکھے کم اور موتیوں کی طرح پروئے زیادہ تھے مگر یہ بات شاید کم لوگوں کے علم میں ہے کہ حکومتی دعوت پر سات سو سے زائد شاعروں نے اس پر طبع آزمائی کی تھی اور بہت غور و خوض کے بعد ایک ماہرین کی زبردست کمیٹی نے ان میں سے حفیظ صاحب کی کوشش کو بہترین قرار دیا تھا، اس سے پہلے کہ میں دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والے ترانوں کا ذکر کروں جو حکیم احمد شجاع اور ذوالفقار علی بخاری نے لکھے اور جن کے معیار کو اس منظور شدہ ترانے کے مقابلے میں صرف یہی کہہ کر بیان کیا جاسکتا ہے کہ ’’چہ نسبت خاک را بہ عالمِ پاک‘‘ میں یہ ضروری سمجھتاہوں کہ عابد علی بیگ بھائی کی کتاب سے دو ایسے مختصر اقتباسات پیش کروں جن سے اس صورتِ حال کو سمجھنا آسان ہوجائے گا۔ اے ڈی اظہر کہتے ہیں۔

’’صرف ایک حفیظ جالندھری کا لکھا ہوا ترانہ تھا جو لے کی بحر پر ٹھیک بیٹھتا تھا، اس کی وجہ حفیظ کی وہ ان تھک کوشش، شاعرانہ ذوق اور استادانہ سُوجھ بوجھ تھی جسے کام میں لاکر اس نے بالآخر ایک نئی بحر ایجاد کی اور اس نئی بحر کو لے کر منظور شدہ اور غیر مبدّل آہنگ کی سان پر چڑھایا‘‘

ڈپٹی نذیر احمدکے پوتے اور ادب اور موسیقی کا بیک وقت ایک بہت بڑا نام شاہد احمد دہلوی ، جن کو’’اُستادوں کا اُستاد‘‘ کہنا غلط نہ ہوگا اپنی رائے کا اظہار یوں کرتے ہیں۔

’’قومی ترانے کی دھن کی منظوری کے بعد شاعروں کو اذنِ عام دیا گیا کہ اس دُھن پر ترانہ پاکستان کے بول بٹھائو بڑے بڑوں نے زور مارا ان سب کے ریکارڈ بھی گئے، حفیظ صاحب نے بھی اپنا ترانہ ریکارڈ کرایا پھر ان سب بولوں کی جانچ خدا جانے کن بڑے بڑے ماہروں نے کی اور سب نے متفقہ فیصلہ کیا کہ حفیظ صاحب کا ترانہ سب سے بہتر ہے میں نے بھی ریکارڈنگ کے دوران میں بعض نامی شاعروں کے بول دیکھے اور سنے تھے واقعی ان میں حفیظ کے ترانے سے بہتر تو کجا کوئی اس کے پاسنگ بھی نہیں تھا‘‘

یہ بھی پڑھیں: -   خاموش انقلاب آرہاہے

خود حفیظ جالندھیری، سید ضمیر جعفری کے نام اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں کہ

’’رہ گیا یہ معاملہ کہ دُھن پہلے تھی اور الفاظ بعد میں لکھے گئے اس لیے ترانہ کمزور ہے، ہرگز نہیں ،ترانہ کمزور نہیں ہے۔ میں نے اس دُھن میں پُروقار پُرشوکت الفاظ رکھ کر ترانے کو قومی کردیا ہے حسنِ صُورت کے لحاظ سے بھی اور حسنِ معانی کے لحاظ سے بھی باقی یہ رہا کہ یہ فارسی عربی کے الفاظ سے مملوہے یقینا ہے اور ہونا چاہیے‘‘۔

اب یہ ہے اس بحث کا وہ حصہ جس پر عابد علی بیگ نے پوری ایک کتاب لکھ ماری ہے ، اس میں استعمال ہونیوالے الفاظ سے فارسیت کا تاثر تو یقینا اُبھرتا ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی خالص اُردو ہے جس میں فارسی، عربی ، ترکی بلکہ ہندی الفاظ کی کثرت نہیں ہے، عابد علی بیگ نے بتایا کہ فیس بُک پر کسی صاحب نے ایک طنزیہ ریمارک لکھا ’’کہ کون سا قومی ترانہ ہے جو ایک لفظ کے سوا سارے کا سارا فارسی میں ہے ‘‘ مگر جب اُن سے پوچھا گیا کہ وہ ازراہِ کرم اس ترانے میں استعمال شدہ اُن الفاظ کی نشاندہی بھی کردیں جو اُردو میں استعمال نہیں ہوتے یا ترانہ لکھے جانے سے قبل اردو میں استعمال نہیں ہوئے تو نہ وہ بولے اور نہ اُن کا کوئی حواری۔

اس کے بعد اپنی ا س کتاب میں عابد علی بیگ نے ترانے میں استعمال شدہ ہر لفظ کی ہندی اور اردو ادب اور بھارتی فلموں کے ناموں اور مکالموں سے اس قدر مستند مثالیں درج کی ہیں کہ قاری حیرت زدہ سا رہ جاتا ہے کہ آخر کس بنیاد پر اِن کوشہرِ اُردو کی شہریت سے محروم کیا جاسکتا ہے کہ ان میں سے بیشتر الفاظ دکنی اردوکے دور سے لے کر آج تک کی مستعمل اردو زبان میں مسلسل لکھے اور بولے جارہے ہیں اور سوائے محققین کے بہت کم لوگوں کو یہ علم ہوتا ہے کہ یہ لفظ اس سے پہلے کس زبان میں وضع ہوا تھا یا یہ کب اور کیسے اس طرح سے اردو کا حصہ بن گیا کہ اب یہ اس کا پہلے اور کسی دوسری زبان کا بعد میں ہے میراؔ جی کی شاعری میں ہندی الفاط کا غلبہ ہو یا عبدالعزیز خالد کی عربی زدگی ،ا سی طرح محمد حسین آزاد کی اردو نثر میں فارسی یا شیر افضل جعفری ٹائپ کسی شاعر کے کلام میں کسی مقامی زبان کے الفاظ کی بھرمار کا معاملہ ہو ، یہ اُن کے مزاج کے جھکائو کا آئنہ دار تو ہوسکتا ہے مگر انھیں اردو کے علاوہ کسی اور زبان کا نام دینا ناجائز بھی ہوگا اور غلط بھی۔

یہ بھی پڑھیں: -   ایک غلط گیند

عابد علی بیگ نے جس محنت، تحقیق اور غیر جانبداری سے اس خوامخواہ کی اُلجھن کا پوسٹ مارٹم کیا ہے اور قومی ترانے کو اس کی دیگر بہت سی خوبیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان اور پاکستان کی قومی زبان سے مربوط کیا ہے، وہ ایک بہت مستحسن اور قابلِ قدر کوشش ہے ’’پاک سر زمین شاد باد، کشورحسین شاد باد‘‘ کے الفاظ بلاشبہ فارسی کی معرفت اردو میں داخل ہوئے مگر کیا ان میں سے کوئی ایک لفظ بھی ایسا ہے جو اُردو لغت میں موجود نہ ہو یا جو ہماری عام بول چال میں استعمال نہ ہوتا ہو۔

قومی ترانے جیسے معزز ’’متبرک اور قومی پہچان کے ترجمان اور مظہر کے بارے میں کوئی بھی غیر سنجیدہ روّیہ کسی بھی حوالے سے روا رکھنا ایک قابل مذمّت بات ہے۔ عابد علی بیگ جیسے اچھے لوگ تعریف اور داد کے مستحق ہیں کہ وہ قوم کی توجہ نہ صرف اس طرف مبذول کراتے ہیں بلکہ تصویر کا اصل اور صحیح رُخ بھی واضح کردیتے ہیں تاکہ ’’گزشتہ راصلوٰۃ اور آیندہ را محتاط‘‘ پر بھی بخوبی عمل کیا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں