Columns of Saadullah jaan barq 103

میری ماں مر گئی ہے

پہلے ہم آپ کودو مناظر دکھانا چاہتے ہیں، پہلا منظر ایک اشتہار کا ہے۔

ایک سات آٹھ سال کا بچہ بستر پر پڑا ہے، اسے سردی زکام ہے ،کراہ رہا ہے، کھانس رہا ہے، باپ اس کے سرہانے بیٹھ کر اسے بہلا رہا ہے لیکن بچہ مسلسل ممی ممی کہہ رہا ہے، آدمی موبائل آن کرتا ہے، کوئی نمبر ملاتا ہے، دوسری طرف سے ایک وردی پوش خاتون دکھائی دیتی ہے، آدمی اسے بتاتا ہے اور پھر بچے کو ٹیلیفون دکھا کر کہتا ہے، لو ممی سے بات کرو۔ ممی سے بات کرتے ہوئے بچہ خوش ہو جاتا ہے جیسے اس کی ساری تکلیف دور ہوگئی ہو۔

ممی تم کب آئوگی اس طرف سے وردی پوش ممی کہتی ہے، صبح تک آجائوں گی، بیٹا اب تم سو جائو، پھر شوہر سے کہتی ہے کہ اس کے سینے پر اور ماتھے پر ’’بام‘‘ مل دو، اصل اشتہار تو اس ’’بام‘‘ کا ہے جیسے ملنے کے بعد بچہ آرام سے سو جاتا ہے لیکن گہرائی سے دیکھیے تو مسلہ ’’بام‘‘ کا نہیں ’’مام‘‘ کا ہے۔
یہ دوسرا منظر بھی ایک بچے کا ہے جو اپنی ماں کی لاش کے پاس بیٹھا رو رہا ہے، چیخ چلا رہا ہے، میری ماں مرگئی، میری ماں مرگئی، ماں ماں۔۔۔ کچھ لوگ لڑکے کو کھلونے، ٹافیاں وغیرہ دے کر بہلانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن بچہ سب کچھ پھینک کر ایک ہی رٹ لگائے ہوئے ہے، میری ماں مرگئی، میری ماں مرگئی۔

یہ دوسرا منظرکسی اشتہارکا نہیں بلکہ سامنے ہوائوں میں، فضائوں میں، شہروں میں ملکوں میں نظرآرہا ہے لیکن کسی کو دکھائی نہیں دیتا، سب کی آنکھوں پر ایک کالا چشمہ چڑھا ہوا ہے، یہ بچہ جس کی ماں مرگئی ہے، موجودہ انسان ہے، جس سے اس کی ماں چھین کر صرف ’’عورت‘‘ یا جسم یا کمائی کی مشین بنا دی گئی ہے، مرد نام کا جادوگر اسے جادوکی بانسری بچا کر اسے بہت دور لے گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   تیرہویں پارے کا خلاصہ

اب یہاں وہ مشہورڈائیلاگ یادکر لیجیے جو پرانے فلمی فیشن کے مطابق تھا۔

میرے پاس کار ہے، بنگلہ ہے، دولت ہے، تیرے پاس کیا ہے۔ اس زمانے میں دوسرا کہہ سکتا تھا کہ میرے پاس ’’ماں‘‘ ہے کیوں کہ اس کے پاس واقعی ماں تھی۔۔ لیکن آج نہیں کہہ سکتا کیوں کہ اس کے پاس بھی ’’ماں‘‘ نہیں ہے، وہ تو کسی وردی میں ،کسی دفتر میں یا کسی شوبز یا دوسرے ’’بز‘‘ میں کہیں کھو چکی ہے۔

کیوں کہ چالاک اور عیار مرد نے جس کا دماغ کثرت استعمال سے شیطانی بن چکا ہے، اس نے ماں کے کان میں آزادی کی جھوٹی، زہریلی بانسری بجائی، جس نے اس کے عدم استعمال کے مارے ہوئے دماغ کو ہپناٹائز کر کے ان کاموں میں ڈال دیا ہے جو اصل میں مرد کے ہیں، مردکے تھے اور مرد کی ذمے داری ہیں۔

بات کو ذرا تفصیل سے سمجھنے کے لیے ہمیں ایک مرتبہ پھر کائنات کی اس بنیادی ’’روح‘‘ تک جانا پڑے گا جو اس کائنات کی ہر ہر شے میں جاری ہے۔ اس اصول کے مطابق ’’انسان‘‘ وہ واحد مخلوق ہے جس کے اندر بھی ایک زوج ہے۔ ایک جسم یا مادی وجود اور ایک اور ایسی چیز جو اور کسی بھی مخلوق یہاں تک کہ ملائیک میں بھی نہیں ہے، اس چیزکو آپ کچھ بھی نام دے لیجیے۔ روح، ذہن، باطن یا شعور لیکن ہے ضرور اور وہی اصل چیز ہی انسان کا طرہ امتیاز ہے یا یوں کہیئے کہ ایک باہرکا حیوانی اور مادی جسم اورایک اس کے اندر کا ’’آدم‘‘۔

یہ بھی پڑھیں: -   پاسٹرناک کا جنازہ اور سرکاری دانش

اب مرد و عورت کے ملن سے جو تیسرا وجود ’’بچے‘‘ کی شکل میں ہوتا ہے، اس کا بھی ایک ظاہر یعنی جسم اور دوسرا اندر یعنی انسان یا آدم ہوتا ہے۔ اس نئی پیدائش کی جسمانی ضروریات پوری کر نامرد کی ذمے داری ہے اور اندر کی ذمے داری پوری کرنا عورت یا ماں کی ذمے داری ہے یا یوں کہیے کہ اس کے جسم کی تعمیر مرد کے ذمے ہے اور باطن کی تعمیر عورت کے ذمے ہے۔

آج کی سراسر مادہ پرست اور جسمانی ضروریات تک محدود نظام میں ’’ماں‘‘ کی اس ذمے داری کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا اور مرد نے بڑی چالاکی، عیاری اور ہنرمندی سے عورت پر اپنی ’’ذمے داری‘‘ بھی ڈال دی ہے۔

یہاں تھوڑا سا ذکر استعمال اور عدم استعمال کا پھر کر دوں جو ڈارون یا لیمارک کا نظریہ ہی نہیں بلکہ ہمارے سامنے کی حقیقت بھی ہے کہ ’’استعمال ‘‘ سے اعضا مضبوط ہوتے ہیں اور عدم استعمال سے کمزور ہو جاتے ہیں چنانچہ جس طرح اشرافیہ نے عوامیہ کو دماغ کے عدم استعمال پر لگا رکھا ہے، اسی طرح مرد نے عورت کو بھی محدود کر کے دماغی عدم استعمال پر لگایا ہوا ہے اور صدیوں کے اس تسلسل سے عورت کا دماغ بھی عدم استعمال کا شکار ہو کر محدود ہو چکا ہے، جب کہ مرد کا دماغ کثرت استعمال سے بے پناہ چالاک، عیار اور ابلیسی ہو چکا ہے۔ یوں عورت مفتوح ہوگئی۔

جہاں تک مادی ضروریات کا تعلق ہے وہ تو جانور بھی پوری کرتے ہیں لیکن جانور یا حیوان کو انسان بنانا ماں کا کام ہے جو بہت بڑا کام ہے بلکہ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ماں صرف ایک ’’بچے‘‘ کی نہیں، پوری انسانیت کی بھی ماں ہے، خلیفۃ الارض کی بھی ماں ہے اور جن مقاصد کے لیے انسان کی تخلیق کی گئی ہے اس کی بھی معمار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   انسانی حقوق
Columns of Saadullah jaan barq
سعداللہ جان برق

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں