adnan-khan-kakar 91

پاکستان ایک زرعی ملک ہے

پاکستان دنیا کا ایک اہم ملک ہے۔ یہ ایک بہت اہم جغرافیائی مقام پر واقع ہے اور دنیا اسے نظرانداز نہیں کر سکتی۔ نتیجہ یہ کہ اپنی پون صدی کی تاریخ میں یہ اتنی زیادہ مشکلات کا سامنا کر چکا ہے کہ ہمیشہ ہی ایک نازک وقت سے گزرتا ہوا پایا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں یہ معلوماتی مضمون اس نیت سے لکھا گیا ہے کہ اسے نصاب میں شامل کیا جائے گا۔

جغرافیہ

پاکستان برصغیر کے شمال مغربی کونے پر واقع ہے۔ اس کے مشرق میں ہندوستان ہے جو بے حیائی کا مرجع ہے اور بالکل بھی مشرقی ملک نہیں ہے۔ وہ بالی وڈ نامی ایک نگری بنا کر ادھر سے طرح طرح کی غیر مشرقی فلمیں بنا کر پاکستان بھیجتا ہے جنہیں مشرق کی اعلی اقدار کے علمبردار پاکستانی صرف اور صرف ہندوستان کے اخلاقی زوال کا مشاہدہ کرنے کے لئے جوق در جوق جا کر دیکھتے ہیں۔ کچھ اس نیت سے بھی دیکھتے ہیں کہ ابھی سے انتخاب کر لیا جائے کہ جب ہندوستان پر قبضہ ہو جائے گا تو کون سی ہیروئن کنیز بنانے کے لئے موزوں رہے گی۔ پاکستان کے برعکس ہندوستان ایک جنگلی ملک ہے اور خاص طور پر ہمالیہ کی ترائی کے ہاتھی گینڈے اور دہلی کی ترائی کے نریندر مودی دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

پاکستان کے مغرب میں افغانستان واقع ہے جو ایک جنگی ملک ہے۔ اس کے بارے میں مورخین کا یہ کہنا ہے کہ وہ خانہ جنگی اسی وقت بند کرتا ہے جب کوئی دوسرا ملک ادھر حملہ آور ہو کر جنگ شروع کر دے۔ افغانستان کی سب سے بڑی برآمد جنگجو ہیں جو وہ گزشتہ ڈھائی ہزار برس سے تھوک کے حساب سے برصغیر کو بھیج رہا ہے۔

پاکستان کے شمال میں چین واقعہ ہے جس کی اہم ایکسپورٹ چھان بورا اور اسی کوالٹی کی دیگر مصنوعات ہیں جن میں افرادی قوت بھی شامل ہو چکی ہے۔ چین کی سب سے بڑی پیداوار چینی ہے۔ نام سے یہ لگتا ہے کہ یہ قوم شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہو گی مگر اس کے کھانوں میں نمک اور مرچ کا رواج زیادہ ہے۔

پاکستان کے جنوب میں ایران کا ملک ہے۔ ایران ایک تیلی ملک ہے جس کی بنیادی برآمدات میں تیل اور انقلاب شامل ہیں۔ اس کے تقریباً تمام ہمسائے ایرانی انقلاب سے مستفید ہو چکے ہیں۔ گزشتہ پانچ سو برس سے ایران ہمارا سب سے چاہا جانے والا ہمسایہ تھا اور فارسی کو برصغیر کے مسلمان اور غیر مسلم حکمرانوں کی سرکاری زبان کا درجہ حاصل تھا مگر 1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ ایران ایک دشمن ملک ہے اور پاکستان کے اصل بھائی عرب ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   دولے شاہ کے چوہے!

خارجہ پالیسی

پاکستان کی خارجہ اور داخلہ پالیسی پٹے پر دی جاتی ہے۔ بلکہ بسا اوقات حکومت بھی پٹے پر دے دی جاتی ہے۔ سرکاری طور پر بیان شدہ خارجہ پالیسی کے مطابق پاکستان تمام مسلم ممالک کا برادر ہے اور وہ بھی اسے برادر خورد سمجھتے ہیں۔ یہ ممالک پاکستان کو محبوب جانتے ہیں اسی لئے صرف پاکستان کو چڑانے کی خاطر اس کے رقیب نریندر مودی کے ناز اٹھاتے ہیں اور سارے معاہدے اسی سے کر لیتے ہیں۔

معیشت

پاکستان کی معیشت میں سب سے بڑا کردار زراعت کا ہے۔ کچھ حصہ صنعت و تجارت کا بھی ہے لیکن وہ بھی بنیادی طور پر زراعت پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ صنعت، تجارت، صحافت اور سیاست جیسے پیداواری شعبے بھی اپنی بقا کے لئے زراعت پر انحصار کرتے ہیں اور محکمہ زراعت کی خوشنودی پانے کی خاطر کچھ بھی کرنے کو تیار رہتے ہیں۔

سیاست اور حکومت

پاکستان میں شہری آبادی کا تناسب محض بیس فیصد کے قریب ہے اور یہ بیس فیصد بھی دیہاتی پس منظر رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے سیاسی منظر نامے پر بھی زراعت کا اثر غالب ہے۔ پاکستان میں کوئی سیاسی جماعت اس وقت تک حکومت نہیں بنا سکتی ہے جب تک وہ زرعی پس منظر رکھنے والے حلقوں میں مقبول یا کم از کم قابل برداشت نہ قرار پائے۔

دیہات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ادھر جھگڑے کی تین وجوہات ہوتی ہیں، زن زر اور زمین۔ یہی تین وجوہات ہمیں اپنے زرعی ملک کی سیاست میں غالب دکھائی دیتی ہیں۔ کہیں زر چلتا دکھائی دیتا ہے تو کہیں کسی زن کا مسئلہ نمایاں ہوتا ہے اور کہیں سیاسی گراونڈ پر قبضہ کرنے اور چھڑانے کی جدوجہد ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ کوئی بھی سیاسی حکومت زرعی مفادات کو باقی تمام معاملات پر فوقیت دیے بغیر قائم نہیں رہ پاتی۔

برآمدات

پاکستان کی اہم زرعی برآمدات میں کپاس، چاول اور انتہا پسند شامل ہیں۔ پاکستانی اپنی فطری منکسر المزاجی کے باعث نام و نمود سے گھبراتے ہیں اور اسی وجہ سے دنیا میں کہیں بھی کوئی بڑی خبر آئے تو پاکستانی دعائیں کرنے لگتے ہیں کہ خدا کرے اس میں کسی پاکستانی کا نام نہ آئے۔

یہ بھی پڑھیں: -   امریکہ کا چکر: کچھ حال یونیورسٹی کا

فلسفہ حیات

زرعی پس منظر رکھنے کی وجہ سے عوام اس نظریے کے داعی ہیں کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ خواہ سیاسی معاملہ ہو یا ذاتی، معاشی ہو یا مذہبی، قانونی ہو یا غیر قانونی، ہر جگہ اسی اصول کے تحت قضیے چکائے جاتے ہیں۔ پاکستانی وقت کی قدر جانتے ہیں اسی وجہ سے وقت بچانے کو ہمہ وقت شارٹ کٹ کی تلاش میں رہتے ہیں۔ بسا اوقات شارٹ کٹ کی راہ میں قانون آ جاتا ہے مگر قانون کو خود اس کا خیال کرنا چاہیے۔

نظام انصاف

پاکستان کا نظام انصاف ملک کے زرعی تقاضوں کے مطابق کام کرتا ہے۔ قانون سازی کرتے اور فیصلے سناتے ہوئے اس چیز کا خاص خیال رکھا جاتا ہے زراعت کو فائدہ ہو اور ملکی معیشت اور سماج کا تانا بانا متاثر نہ ہو پائے۔

ایک زرعی ملک ہونے کی وجہ سے ابھی تک دیہات اور سیاست پر بڑے زمینداروں کا قبضہ ہے اور ان زمینداروں کو کسی کا خوف نہیں ہے سوائے محکمہ زراعت کے جو نئی پنیری لگانے میں مدد دیتا ہے اور ناراض ہونے پر ان کی کھڑی فصلوں کو تباہ کر سکتا ہے۔

زیادہ سرکش زمیندار اچانک اپنی کھڑی فصل پر دمبی سٹی اور امریکی سنڈی کو حملہ آور دیکھتے ہیں تو ان کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا کہ محکمہ زراعت کی منت خوشامد کریں ورنہ اپنی فصل تباہ ہونے دیں۔

عوام

پاکستان کے عوام دنیا کی سب سے زیادہ ذہین قوم ہیں اور پاکستانی مرد دنیا کے تیسرے سب سے پر کشش انسان قرار دیے جاتے ہیں۔ شرم و حیا کے فطری تقاضوں کے باعث پاکستانی عورتوں کے متعلق ایسی رینکنگ بنانے کا سوچنے والے کو بھی عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ہے۔ پاکستانی عوام کو اگر مناسب موقع دیا جائے تو یہ معجزے برپا کر سکتے ہیں۔ سونے پر سہاگہ اس ملک کے بے پناہ قدرتی وسائل ہیں جو کسی محب وطن حکومت کے آنے پر پاکستان کو سپر پاور بنا سکتے ہیں۔ زرعی پس منظر ہونے کی وجہ سے ان کا ہیرو محکمہ زراعت ہے اور ہر مشکل گھڑی میں وہ اسی کی طرف دیکھتے ہیں۔

پاکستانی عوام نہایت دریا دل ہیں اور دنیا میں سب سے زیادہ عطیات دیتے ہیں اور اسی سے جل کر امریکہ اور اس کے حواریوں نے کئی پاکستانی فلاحی تنظیموں پر پابندی لگانے کے علاوہ چند مخیر حضرات پر مقدمات قائم کر رکھے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   سود کی لعنت۔ ہمارے حکمران اور جج

پاکستان کے عوام کشادہ دل ہیں اور خواتین کو ان سے زیادہ کسی نے حقوق نہیں دیے۔ ادھر اقلیتیں اپنے اپنے عقائد پر آزادی سے عمل پیرا ہوتی ہیں اور وہ اس سلوک سے اس حد تک خوش ہیں کہ ان کی بہت بڑی تعداد بیرونِ ملک جا چکی ہے تاکہ دنیا کو بتا سکے کہ پاکستانیوں سے سیکھو کہ اقلیتوں کو کیسے رکھا جاتا ہے۔

کسی بھی انسانی اور معاشرتی پیمانے کا ذکر کیا جائے تو پاکستانی عوام کو پہلے تین نمبروں میں جگہ دی جاتی ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ یہ فرشتے ہیں اور ان میں کوئی خامی نہیں۔ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خامی ہوتی ہے اور پاکستانی مرد و زن بھی اس سے مبرا نہیں ہیں۔ لیکن خوش قسمتی سے پاکستانی عوام میں صرف ایک ہی خامی ہے کہ وہ نہایت نرگسیت پسند ہیں اور اپنی تعریف میں غلو پسند کرتے ہیں خواہ اس کے لئے کتنی ہی بڑی دروغ گوئی کیوں نہ کرنی پڑے۔

پاکستانی عوام میں حق کا ساتھ دینے کا بے پایاں جذبہ ہے اور کوئی نا انصافی ہوتے دیکھ کر یہ برداشت نہیں کر پاتے۔ اسی وجہ سے یہ پولیس یا عدالت کا انتظار کیے بغیر موقع پر ہی عوامی انصاف کرنے کے قائل ہیں۔

پاکستانی عوام اپنے اپنے مذہب سے اتنی زیادہ محبت کرتے ہیں کہ ہر مذہب کے بے شمار فرقے بنا ڈالے ہیں تاکہ مذہب کو زیادہ سے زیادہ پھیلایا جا سکے۔ ان فرقوں کے لیڈر اپنی ذات سے ایسے بے نیاز ہیں کہ ساری توجہ اپنی بجائے دوسروں کے اعمال نیک کرانے پر مرکوز رکھتے ہیں۔ پاکستانی عوام کی مذہب سے محبت اور دینی فہم دیکھ کر مصر کے شاہ فاروق اس حد تک رشک کے جذبے سے مغلوب ہوئے تھے کہ بے اختیار کہہ اٹھے ”اسلام تو جیسے 1947ء میں نازل ہوا ہے“۔

پہلی تاریخ اشاعت: Jul 2, 2018

adnan-khan-kakar
عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مزید کالم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں