Columns of Amjad Islam Amjad 125

دنیا کا سب سے آزمودہ نسخہ

دورِ قدیم کے شفا خانے ہوں یا نئی طرز کے جدید اسپتال دونوں کے قیام کا اصل مقصد بیمار، مریض اور زخمی لوگوں کا علاج اور تمام تر مطلوبہ طبی سہولیات کے ساتھ اُن کی خاص دیکھ بھال ہوتا ہے، کچھ عرصہ پہلے تک زیادہ تر اسپتال جنرل ہی ہوتے تھے یعنی ایک ہی جگہ ہر طرح کی بیماری کا علاج کیا جاتا تھا۔

ذہنی امراض کے اسپتالوں سے قطع نظر ہر جگہ یہی نظام اور سلسلہ رائج تھا ۔ ساٹھ ستر برس قبل جب ٹی بی کی بیماری عام ہوئی تو اس کے لیے بوجوہ خصوصی اسپتال یا سینی ٹوریم قائم کیے گئے جب کہ گزشتہ چند برسوں میں کینسر کے علاوہ مختلف جسمانی اعضا مثلاً گُردوں ، دل اور آنکھوں کے امراض کے لیے بھی خصوصی اسپتال بنانے کا رواج پڑا لیکن دیکھا جائے تو اب بھی زیادہ تر اسپتال جنرل اسپتالوں کے اندازمیں ہی بنائے جاتے ہیں ان کی بھی آگے دو قسمیں ہیں یعنی وہ سرکاری اسپتال جو صوبائی یا مرکزی حکومت کے محکمہ صحت کی طرف سے تقریباً ہر شہر اور قصبے میں موجود ہوتے ہیں اور دوسرے پرائیویٹ اداروں ، ٹرسٹ اور تنظیموں کی طرف سے بنائے اور چلائے جانے والے وہ اسپتال جو مخصوص علاقوں میں قائم کیے جاتے ہیں جیسے کراچی کا انڈس اسپتال یا SIUT اور لاہور کا شیخ زائد اور ڈاکٹر قدیر خان اسپتال۔

ان کے علاوہ کچھ اسپتال جو مخصوص بیماریوں کے علاج کے لیے قائم کیے جاتے ہیں، وہ تعداد کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر آتے ہیں جیسے کینسر کے علاج کے لیے شوکت خانم یا ڈاکٹر شہریار کا کینسر اسپتال ، گائنی کے لیے لاہور کا فاطمہ ثریا، ایبٹ آباد کا کڈنی سینٹر یا ابرار الحق کی تنظیم سہاراٹرسٹ کا نارووال اسپتال کہ جن کی طرز پر پورے ملک میں بے شمار اسپتال کام کر رہے ہیں جن کے نام گنوانا یہاں ممکن نہیں البتہ اس سارے انسان دوست اور خوب صورت منظر نامے کے حُسن کو اُن پرائیویٹ اسپتالوں نے بہت حد تک گہنا دیا ہے جن کے قیام کا بنیادی یا عملی مقصد بے تحاشا ناجائز منافع اندوزی اور لوٹ مار ہے۔
اسپتالوں کے عمومی جائز اخراجات اور ڈاکٹروں اور عملے کی تنخواہوں کے لیے ایک مناسب حد تک مریضوں سے فیس کے نام پر رقم وصول کرنا انھیں قائم اور برسرِ عمل رکھنے کے لیے تو سمجھ میں آتا ہے مگر جب اس کی آڑمیںلوگوں کی مجبوری سے کھیل کر اُن پر ایسے اضافی اخراجات کا بوجھ ڈالنا جس کا مقصد صرف مالکان کی تجوریوں کو بھرنا ہو ،کسی بھی طرح پسند یدہ قرار نہیں دیے جاسکتے کہ خالص کاروباری مفادات کے پیش نظر قائم کردہ اسپتال انسانیت کے ماتھے پر کسی کلنک کے ٹیکے سے کم نہیں، ایسے اسپتال عام طور پر امیر آبادیوں میں اس لیے قائم کیے جاتے ہیں کہ بادی النظر میں وہاں کے لوگ ان بھاری اخراجات کو افورڈ کرسکتے ہیں جو اپنی جگہ پر ایک ناجائز اور جنریلائزڈ آئیڈیا ہے کہ اول تو ایسا ہے نہیں اور اگر ہو بھی تو کم از کم صحت کے حوالے سے کسی پر بھی اس قسم کا جگا ٹیکس نہیں لگانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: -   تو یہ ہیں اپنے دلیپ صاحب

چند برس قبل میں نے مشہور فیشن ڈیزائنر محمود بھٹی کی ستائش میں ایک پورا کالم لکھا تھا کہ مجھے سیلف میڈ لوگ ہمیشہ سے بہت اچھے لگتے ہیں اور محمود بھٹی کی خود اعتمادی اور انتہائی سخت جدوجہد کے بعد حاصل ہونے و الی کامیابی نے مجھے بہت متاثر کیا تھا۔ اُس وقت تک یہ بات میرے علم میں نہیں تھی کہ وہ بھی پوش ایریا کے ایک مہنگے اسپتال کا مالک یا یکے از مالکان ہے ۔ دو دن قبل میری بہو میز پر رکھے ایک نوکیلے شیشے سے ٹکر ا کر اپنی ٹانگ زخمی کر بیٹھی، ایمرجنسی والوں نے کہا کہ ٹانکے لگیں گے مگر اس کے لیے سر جن کو بلانا ہوگا اور وہ اسے ایک سرجری کیس کے حوالے سے دیکھے گا۔

قصہ مختصر سرجن صاحب نے فرمایا کہ پانچ ٹانکے لگیں گے اور پچیس ہزار خرچہ آئے گا۔ زخم کی جگہ اور نوعیت کے اعتبار سے یہ ایک معمولی سا کام تھا۔ میرے بیٹے علی ذی شان نے فون پر ایک دوست سے مشورہ کیا اور لاہورکے ایک اور بہت اچھے اسپتال سے یہ ٹانکے پندرہ سو میں لگ گئے۔ رقم کے اتنے بڑے فرق سے زیادہ مجھے کسی کی مجبوری سے فائدہ اُٹھانے کی اس سنگدلانہ اور تاجرانہ روش نے زیادہ پریشان اور آزردہ کیا۔

ممکن ہے کہ اس بات کا پتہ محمود بھٹی کو نہ ہو لیکن اگر یہ سب کچھ اُس کے علم میں ہو رہا ہے تو میں اُس کے بارے میں اپنے لکھے ہوئے الفاط واپس لیتا ہوں، اگرچہ اس طرح کے اور بھی بہت سے اسپتال اس طرح کی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور یہ نام محض ایک مثال کے طور پر درمیان میں آگیا ہے کہ مقصد مقام سے زیادہ روپے کی نشاندہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   اصل مسلمان

مجھے ڈاکٹر عبدالباری کے انڈس ہستپال محترم ڈاکٹر ادیب رضوی کے SIUT کے علاوہ بھی کئی ایسے اسپتالوں کو قریب اور اندر سے دیکھنے کا موقع ملا ہے جو واقعی دُکھی انسانیت کی دن رات اور شاندار خدمت کر رہے ہیں اور جہاں مریض کے بجائے اُس کے مرض کو دیکھا جاتاہے جس طرح کی طبی سہولیات وطنِ عزیز میں موجود اور میسّر ہیں۔ اُن کے پیش نظر پرائیویٹ اسپتالوں کی موجودگی بلاشبہ بہت اہم اور ضروری ہے بشرطیکہ ان کے مالکان اور انتظامیہ سے ایک عام بزنس کی طرح نہ چلائیںاور اپنی خدمات کا معاوضہ طلب کرتے وقت اگر انسانیت نہیں تو خوفِ خدا کو ہی سامنے دیکھ لیا کریں۔

اسی طرح بعض اسپیشلسٹ ڈاکٹرز اور فارما سوٹیکل کمپنیوں سے بھی درخواست ہے کہ وہ اپنی ادائوںپر غور فرمائیں اور اپنے کاروباروں کو کرنسی نوٹوں کے ساتھ مریضوں کی دعائوں سے بھی جوڑ کر دیکھا کریں، اس ملک کی پچاس فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے اور کم و بیش چالیس فیصد سفید پوش ہے جو اُن کے پانچ منٹ کی فیس پندرہ سو سے تین ہزار تک ادا کرنا آسانی سے افورڈ نہیں کرسکتی، اسی طرح جس دوائی کی اصل لاگت چند روپے ہو، اُسے بیس بیس گنا منافع پر بیچنا ناجائز ہی نہیں افسوسناک بھی ہے۔

اسپتال وہ جگہ ہے جہاں سیاسی قیدیوں کے علاوہ اور کوئی بھی خوشی سے نہیں جاتا۔ اسے خلقِ خدا کی صحت کے لیے آسان اور منافع بخش بنایئے آپ دیکھیں گے کہ رب کریم آپ کے لیے آسانیوں کے دروازے کھولتا ہی چلا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: -   پچیسویں پارے کا خلاصہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں