Attaul-Haq-Qasmi 125

میرا قلم میری مرضی!

میں اِن دنوں ایک تحریک چلانے والا ہوں جس کا سلوگن ’’میرا قلم، میرا مرضی‘‘ ہو گا۔ دیکھیں نا، یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ قلم میرا ہو اور مرضی کسی اور کی ہو۔ یعنی جس طرح سائیکل کرائے پر ملتی ہے اس طرح قلم بھی کرائے پر ملنے لگیں، یہ مثال کچھ زیادہ موزوں نہیں کیونکہ سائیکل کا کرایہ بہت معمولی ہوتا ہے جبکہ قلم کا کرایہ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ گزشتہ دِنوں کچھ اہلِ قلم کو بلا کر ان کے اندرونِ اور بیرون ملک اثاثوں کی تفصیل اُنہیں دکھائی گئی، ان بےچاروں کو کیا پتہ تھا کہ کرایہ دینے والے سارا حساب کتاب رکھتے ہیں۔ انہیں جاننا چاہئے تھا کہ عوام کے پیسے کا آگے بھی حساب دینا ہوتا ہے۔ میں نے ایک روزنامہ کا ڈکلیئریشن بھی ’’جابر سلطان‘‘ کے نام سے حاصل کر لیا ہے، جس کا مونو ’’میرا قلم، میری مرضی‘‘ ہوگا چنانچہ میں جابر سلطان کی دھجیاں اڑا کر رکھ دوں گا۔ میرے رپورٹروں نے پہلے شمارے کیلئے جو خبریں تیار کی ہیں، ان سے جابر سلطان کی نیندیں حرام ہو جائیں گی۔ یہ خبریں ذرج ذیل ہیں۔

ان دنوں شہر میں جگہ جگہ پانی کھڑا ہوتا ہے اور اس کے نکاس کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا، کیا حکومت سو رہی ہے؟

آٹا، چینی، سبزی، گوشت، بناسپتی گھی اور پٹرول کی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں، اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کی کوشش کی گئی مگر ’’جابر سلطان‘‘ کا نمائندہ ان سے وقت لینے میں ناکام رہا۔ وزیراعظم صاحب آپ جیسے ایماندار شخص کے دور میں مہنگائی اور بیورو کریسی کا غرور آسمانوں تک پہنچا ہوا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کریں کہ وہ ایڈیٹر جابر سلطان کے دفتر جا کر ان سے ملاقات کے دوران معذرت کرے نیز کچھ مسائل ایڈیٹر کے بھی ہیں، ڈپٹی کمشنر کو حکم دیں کہ وہ فوری ایڈیٹر صاحب کے مسائل حل کرے!

یہ بھی پڑھیں: -   ایک نہ ہونے والے مشیراطلاعات کا شکوہ

روزنامہ ’’جابر سلطان‘‘ کا نمائندہ اور کیمرہ مین ایک پولیس والے کے ساتھ ایک مشکوک شخص کے بیڈ روم میں داخل ہوئے جہاں مبینہ طور پر غیرقانونی حرکات ہو رہی تھیں مگر اہلِ خانہ نے نامہ نگار، کیمرہ مین اور پولیس والے کی پٹائی کر دی، شور شرابا سن کر ہمسائے بھی آ گئے۔ انہوں نے بھی مار کٹائی میں اپنا حصہ ڈالا۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ میاں بیوی ایک عرصے سے اپنے بچوں کے ساتھ یہاں رہ رہے ہیں، مرد بینک میں کام کرتا ہے اور بیوی ایک کالج میں لیکچرار ہے مگر یہ بات سچ بھی تھی تو زد و کوب کرنے کی کیا ضرورت تھی، کیا حکومت کی آنکھوں کے سامنے غنڈہ گردی کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔ ہمارے تین چار دوسرے نمائندوں کیساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا۔ کیا حکومت غلام صحافت کو فروغ دینا چاہتی ہے؟ روزنامہ ’’جابر سلطان‘‘ اس طرح کی ہر کوشش کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑا ہو جائے گا!

ہمارے ایک تجزیہ نگار نے ایک مضمون پہلے شمارے کیلئے لکھا ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ ’’میرا قلم، میری مرضی‘‘ کے سلوگن کا کچھ شر پسند ناجائز استعمال کرنا چاہیں گے۔ اس طرح کے بیسیوں لوگ ماضی میں ایسا کرتے آئے ہیں، اللہ کا شکر ہے کہ ان کا ’’مکّو‘‘ ایسا ٹھپا گیا ہے کہ اب وہ کہیں نظر نہیں آتے۔ ان میں سے کچھ نوکریوں اور کچھ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں مگران کے گمراہ کن اور سماج دشمن بیانیے کے زیر اثر ان جیسے ملک و قوم کے غدار آج بھی کونوں کھدروں میں چھپے بیٹھے ہیں اور موقع کی تلاش میں ہیں۔ حکومت کو ان وطن فروش غداروں پر کڑی نظر رکھنی چاہئے کہ ’میرا قلم، میری مرضی‘ کے سلوگن کا یہ مطلب نہیں کہ ہر غلاظت صفحہ قرطاس پر پھیلا دی جائے۔ ’’جابر سلطان‘‘ کلمہ حق کا پرچارک ہے مگر وہ معاشرے میں انتشار برداشت نہیں کرے گا، اختلافی معاملات لڑائی، مار کٹائی کے بغیر کچھ دو، کچھ لو کے اصول کے تحت حل کئے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   رسول کریمﷺ سے وابستگی !

آخر میں کچھ گزارشات میرا جسم میرا مرضی کی تحریک کے حوالے سے، میرے نزدیک اس سلوگن میں ’’زم‘‘ کا پہلو تھا، ’’زم‘‘ ایک شعری اصطلاح ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ کسی لفظ کے استعمال کے دوران یہ دیکھ لینا چاہئے کہ اس سے کوئی ایسا مفہوم تو سامنے نہیں آتا جو مناسب نہ ہو مثلاً ایک شعر ہے؎

تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

اس شعر کو اعلیٰ درجے کے شعروں میں شمار کیا جاتا ہے مگر مجھے ذاتی طور پر اس میں ’’زم‘‘ کا پہلو نظر آتا ہے اور وہ یہ کہ

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

تو شاعر کہتا ہے ’’اس وقت تم میرے پاس ہوتے ہو‘‘ چلئے آپ اسے میری ذہنی کج روی کہہ لیں مگر ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ میں لفظ ’’جسم‘‘ کی وجہ سے ذہن میں بہت سے غلط خیالات آتے ہیں۔ حقوق نسواں کے حامی اگر اپنے سلوگن میں تھوڑی سی ترمیم کر لیں تو مجھے یقین ہے کہ برادرم انصار عباسی کو بھی اس تحریک سے کوئی اختلاف نہیں رہے گا۔ اسی ’’زم‘‘ کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے اپنی تحریک کا سلوگن بہت سوچ سمجھ کر تیار کیا ہے۔ ’’میرا قلم میری مرضی‘‘ میں ’’زم‘‘ کا کوئی پہلو نہیں تھا، اس کا ہر لفظ روز روشن کی طرح واضح ہے اور اس میں کوئی ابہام نہیں۔ہماری کورٹس کے بعض جج صاحبان بھی اپنے فیصلے میرا قلم میری مرضی کے مطابق لکھتے ہیں۔ سو میں اپنی صحافتی برادری سے گزارش کروں گا کہ وہ بھی اس سلوگن کو اپنائیں اور یوں جو اپنی مرضی کے مطابق لکھنا چاہتے ہیں وہ شوق سے لکھیں اور بھگتیں تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنے قلم کو اپنی مرضی کے خلاف استعمال کریں۔ کسی کو کیا پتہ کہ آپ کی مرضی کیا ہے بس آپ اس کے مطابق لکھتے رہیں اس کی کچھ صورتیں میں نے ’’جابر سلطان‘‘ کی چند خبروں کی صورت میں پیش کر دی ہیں۔ اگر آپ ’’جابر سلطان‘‘ کی لائن فالو کرنا چاہتے ہیں تو ست بسم ﷲ، ہم ان شاء ﷲ مل جل کر طاغوتی طاقتوں کو شکست دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: -   پریشانی اور دکھوں سے نجات
Attaul-Haq-Qasmi
عطاءالحق قاسمی

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں