Allama Ibtisam Ilahi Zaheer 135

دعا کی ضرورت اور افادیت

انسان زندگی کے مختلف ادوار میں مختلف طرح کی مشکلات، تکالیف اور بیماریوں کاسامنا کرتا ہے۔ بہت سے لوگ اولاد کی نعمت سے محروم رہتے ہیں‘ اسی طرح بہت سے لوگ نفسیاتی عارضوں اور تکلیف دہ بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں‘ بہت سے لوگ مالی مشکلات کا بھی شکار ہو جاتے ہیںجس کی وجہ سے ان پر کئی مرتبہ غم اور مایوسی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ بہت سے لوگ پردیس میں مشکلات کا شکار ہونے کی وجہ سے ذہنی بحرانوں کا سامنا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان حالات میں انسان دوسرے انسانوں کی مدد اور سہاروں کو تلاش کرتا ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کئی مرتبہ دوست احباب، اعزہ واقارب اور رشتہ داروں کی معاونت کے باوجود ان مسائل پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوپاتا۔ کتاب وسنت کا مطالعہ کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان جب پوری طرح بے بس ہو جاتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا کرنے کی وجہ سے اللہ اس کے مصائب اور مشکلات کو دور فرما دیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجید میں دعا کی اہمیت کو بہت ہی خوبصورت انداز میں واضح کیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ بقرہ کی آیت 186میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اور جب آپ سے پوچھیں میرے بندے میرے بارے میں تو (بتادیں) بے شک میںقریب ہوں‘ میں قبو ل کرتا ہوں دعا کرنے والے کی پکار کو جب وہ مجھے پکارے ۔ پس چاہیے کہ (سب لوگ) حکم مانیں میرا اور چاہیے کہ وہ ایمان لائیں مجھ پر تاکہ وہ راہِ راست پالیں‘‘۔
اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ فرقان کی آیت نمبر 77 میں دعا کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے: ”آپ کہہ دیجئے کہ نہیں پروا کرتا تمہاری میرا رب اگر نہ ہو تمہارا پکارنا (اس کو)‘‘۔
دنیا میں خواہ انسان کتنا ہی صاحبِ وسائل اور صاحبِ حیثیت کیوں نہ ہو‘ وہ ہر انسان کی ضرورت کو پورا کرنے میں قادر نہیں ہوتا؛ چنانچہ بڑے سے بڑا متمول انسان بھی مانگنے والوں کی کثرت کی وجہ سے اکتا جاتا ہے جبکہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہر مانگنے والے کو اس کی ضرورت کے مطابق عطا فرماتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے دعا کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے سورہ مومن کی آیت 60میں ارشاد فرمایا: ”اور فرمایا تمہارے رب نے: تم مجھے پکارو میں قبول کروں گا تمہاری (دعا، پکار) کو‘‘۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجید میں دعاؤں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ کائنات کی سب سے افضل ہستیوں یعنی انبیاء کرام علیہم السلام کی مختلف دعاؤں کابھی ذکر کیا ہے جس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام مختلف تکالیف اور آزمائشوں کے مواقع پر اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں ہی آکر دعائیں مانگا کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب بڑھاپے کے عالم میں اللہ تبارک وتعالیٰ سے اولاد ِ صالحہ کے لیے دعا مانگی تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو اولاد سے نواز دیا۔ جس کا ذکر اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ صافات کی آیات 100 تا101میں یوں کیا ہے: ”(اور کہا ابراہیم علیہ السلام نے ) اے میرے رب تو عطا فرما مجھے (ایک لڑکا) نیکوں میں سے۔ تو ہم نے خوشخبری دی اسے ایک بردبار لڑکے کی‘‘۔
اسی طرح جب سیدنا یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں موجود تھے تو انہوں نے اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا مانگی جس کو اللہ نے قبول فرما کر آپ علیہ السلام کے غم کو دور فرما دیا اور رہتی دنیا تک اہلِ ایمان کے غموں کو بھی دور کرنے کے نوید سنائی۔ اس دعا کا ذکر سورہ انبیاء کی آیات 87 تا 88میں یوں کیا گیا ہے: ”اور (یاد کیجئے) مچھلی والے (یونس علیہ السلام) کو جب وہ چلا گیا ناراض ہو کر‘ پس اُس نے سمجھا کہ ہرگز نہیں ہم تنگی کریں گے اس پر تواس نے پکارا اندھیروں میں کہ کوئی معبود نہیں تیرے سوا ‘تو پاک ہے‘ بے شک میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔ تو ہم نے دعا قبول کر لی اس کی اور ہم نے نجات دی اسے غم سے اور اسی طرح ہم نجات دیتے ہیں ایمان والوں کو‘‘۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجید میں سیدنا ایوب علیہ السلام کی بیماری کے بعد ان کی دعا کا ذکر کیا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی دعاکو قبول فرما کر ان کی تکلیف کو دور فرما دیا تھا اور ان کو اپنی نعمتوں سے بہرہ ور فرما دیا تھا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ انبیاء کی آیات 83 تا 84 میں ارشاد فرماتے ہیں : ”جب اس (ایوب علیہ السلام) نے پکارا اپنے رب کو کہ بے شک پہنچی ہے مجھے تکلیف اورتو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے رحم کرنے والوں میں۔ تو ہم نے دعا قبول کرلی اس کی‘ پس ہم نے دور کر دی جو اس کو تکلیف تھی ۔اور ہم نے دیے اسے اس کے گھر والے اور ان کی مثل (اور لوگ بھی) ان کے ساتھ رحمت کرتے ہوئے اپنی طرف سے اور (یہ) نصیحت ہے عبادت کرنے والوں کے لیے‘‘۔
اللہ نے قرآنِ مجید میں اس واقعہ کو بھی بیان کیا ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام سیدہ مریم علیہا السلام کی کفالت کیا کرتے تھے اور آپ صاحب اولاد نہ تھے۔ آپؑ جب سیدہ مریم علیہا السلام کے پاس آتے تو محراب میں ان کے پاس بے موسم پھلوں کو دیکھتے، ایک مرتبہ آپ علیہ السلام نے سیدہ مریم سے اس حوالے سے استفسار کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ پھل اللہ تبارک وتعالیٰ نے بھیجے ہیں۔ اس منظر کو دیکھ سیدنا زکریا علیہ السلام نے بڑھاپے کے عالم میں اللہ تبارک وتعالیٰ سے اولاد کی دعا مانگی تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے بڑھاپے میں ان کو اولاد کی نعمت سے نواز دیا تھا۔ یہ واقعہ سور ہ آل عمران کی آیات 37 تا 39میں یوں بیان ہوا ہے: ”اور سرپرست بنایا اس کا زکریا کو جب کبھی داخل ہوتے زکریا علیہ السلام اس کے پاس حجرے میں (موجود) پاتے اس کے پاس کھانے پینے کی اشیا (یہ دیکھ کر ایک مرتبہ ) پوچھا: اے ”مریم ‘‘ کہاں سے (آتا ہے) تیرے پاس یہ (سب کچھ؟) وہ بولیں: یہ اللہ کی طرف سے ہے، بے شک اللہ رزق دیتا ہے جسے چاہتا ہے بے حساب۔ اسی جگہ(اسی موقع پر) دعا کی زکریا علیہ السلام نے اپنے رب سے (اور) کہا: اے میرے رب! عطا کر مجھے اپنی طرف سے پاکیزہ (صالح) اولاد بلاشبہ تو دعا سننے (قبول کرنے) والا ہے۔ تو آواز دی اسے فرشتوں نے اس حال میں کہ وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے عبادت گاہ میں کہ بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے آپ کو یحییٰ کی (جو) تصدیق کرنے والے ہیں اللہ کے ایک کلمہ (عیسیٰ علیہ السلام)کی اور (وہ) سردار اور عورتوں سے بے غبت ہوں گے اور نبی ہوں گے نیک لوگوں میں سے‘‘۔
انبیاء کرام علیہم السلام کی سیرت وکردار میں ہم سب کے لیے نمونہ موجود ہے کہ ہمیں بھی اپنی مشکلات اور تکالیف میں اللہ تبارک وتعالیٰ کو پکارنا ہے۔ احادیث مبارکہ میں دعا کی قبولیت کے بہت سے خوبصورت واقعات موجود ہیں جن میں سے ایک پُراثر واقعہ صحیح بخاری میں مذکور ہے:
حضرت عبداللہ بن عمر ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا، تین شخص کہیں باہر جا رہے تھے کہ اچانک بارش ہونے لگی۔ انہوں نے ایک پہاڑ کے غار میں جا کر پناہ لی۔ اتفاق سے پہاڑ کی ایک چٹان اوپر سے لڑھکی (اور اس غار کے منہ کو بند کر دیا جس میں یہ تینوں پناہ لیے ہوئے تھے) ۔اب ایک نے دوسرے سے کہا کہ اپنے سب سے اچھے عمل کا جو تم نے کبھی کیا ہو، نام لے کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ ان تینوں لوگوں نے باری باری اللہ تعالیٰ سے اپنے اپنے نیک عمل کا ذکر کرکے دعا مانگی تو پہلے شخص کی دعا کے بعد پتھر کچھ ہٹ گیا۔ دوسرے شخص کی دعا کے بعد پتھر دو تہائی ہٹ گیااور تیسرے شخص کی دعا کے بعد غار کا منہ کھل گیا اور تینوں شخص غار سے باہر آگئے۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہر آن اور لحظہ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سننے والے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات یقینا اپنے بندوں کے لیے کافی ہے۔ اس حقیقت کا ذکر سورہ زمر کی آیت 36میں کچھ یوں ہوا ہے: ”کیا اللہ کافی نہیں ہے اپنے بندے کو‘‘۔
چنانچہ ہمیں بھی ہر آن اور ہر لحظہ اپنے پروردگار کو پکارتے رہنا چاہیے۔ اگر ہم مصائب اور تکالیف میں اس کو پکاریں گے تو یقینا ہمارا پروردگار ہماری دعاؤں کو سن کر تکالیف کو دور فرما دے گا ۔ہمارا معاشرہ اس وقت ایمانی اعتبار سے اس حد تک تنزلی کا شکار ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنی تکالیف کو دور کرنے کے لیے مادی اسباب اور ذرائع کا استعمال تو کرتی ہیں لیکن اپنے پروردگار کے سامنے اپنی مشکلات کو دور کروانے کے لیے دعا کرنے پر آمادہ وتیار نہیں ہوتی اور اس طرزِ عمل کے نتیجے لوگوں کی مشکلات اور تکالیف برقرار رہتی ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ مادی تدابیر کو اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں دعا گو رہتے ہیں‘ اللہ تبارک وتعالیٰ ان کی مشکلات اور غموں کو دور فرما دیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو مشکلات اور پریشانیوں میں دعا کرنے والا بنا دے، آمین !

یہ بھی پڑھیں: -   ایک ’’دُکھی‘‘ بابا!
Allama Ibtisam Elahi Zaheer
علامہ ابتسام الہی ظہیر

مصنف کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں