adnan-khan-kakar 134

ظاہر جعفر ہماری اعلیٰ معاشرتی اقدار کا نمونہ ہے

میڈیا پر ظاہر جعفر نامی ایک بہت اچھے بچے کے متعلق منفی خبریں چل رہی ہیں۔ حالانکہ وہ ایک بہت فرمانبردار سا بچہ ہے اور اپنے والدین کی تربیت کا بہترین نمونہ۔ آپ کو ہماری بات پر یقین نہیں آئے تو ان پولیس والوں کی بات پر یقین کر لیں جو میڈیا پر گواہی دیتے سنے گئے ہیں کہ ”بہت قابل بچہ ہے“ اور اس سے اتنا زیادہ پیار کرتے ہیں کہ وہ گاڑی پر سوار ہوتے ہوئے لڑکھڑا گیا تو بے ساختہ ایک پولیس والا پکار اٹھا ”ظاہر آرام سے“ ۔ پولیس کا پالا دن رات برے لوگوں سے پڑتا ہے، ایک نظر میں پہچان لیتے ہیں کہ کون برا آدمی ہے کون اچھا۔ ظاہر ہے کہ انہوں نے ظاہر جعفر میں کچھ دیکھا ہے تو اس کے ایسے گرویدہ ہوئے پڑے ہیں۔

اس نیک بچے کے متعلق میڈیا میں جو غلط فہمیاں پھیلی ہیں، ان کا سدباب ضروری ہے۔ ایس پی سٹی رانا وہاب نے بتایا ہے کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ ظاہر برطانیہ میں موبائل چھیننے اور امریکہ میں منشیات کے استعمال پر جیل کاٹ چکا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ برطانیہ میں اپنی ماں کے خلاف پرتشدد رویے کی بنا پر رپورٹ ہوئے تھے۔

ہماری رائے میں تو اگر یہ سب کچھ سچ بھی ہو تو اس کا سبب غلط فہمی ہو گا۔ اتنے امیر شخص کو بھلا کسی سے موبائل چھیننے کی کیا ضرورت؟ زیادہ سے زیادہ بس کسی کو اپنی طاقت دکھانے کے لیے اس سے لے لیا ہو گا۔ اور منشیات کا کیا ہے، وہ تو ادھر کسی نے ویسے ہی اس معصوم کی بے خبری میں کھلا پلا دی ہوں گی۔

اب یہ نور مقدم کے قتل کا معاملہ ہی لے لیں۔ یہ بھی اس نیک فطرت نوجوان کے ہاتھوں غلطی سے ہو گیا ہو گا۔ وہ بچارہ تو لوگوں کی سائیکو تھراپی کیا کرتا تھا۔ ایک مشہور ادارے تھراپی ورکس سے کورس بھی کر رکھے تھے۔ بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ اس ادارے کی طرف سے مریضوں کو دیکھتا بھی تھا گو وہ ادارہ اس بات کی تردید کر رہا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اس کے دل میں لوگوں کی مدد کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور وہ لوگوں کی مدد کوٹ کوٹ کر کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: -   دے جا سخیا راہِ خدا

ہماری روایات کہتی ہیں کہ کسی نوجوان لڑکی پر جن بھوت کا سایہ ہو جائے، اسے ہسٹیریا ہو جائے یا ایسا کوئی دوسرا معاملہ پیش ہو تو اسے کسی پہنچے ہوئے بزرگ کے پاس لے جایا جاتا ہے جو لڑکی کو اس وقت تک مارتا رہتا ہے جب تک مان نہ جائے یا مر نہ جائے۔ دونوں صورتوں میں پیر کی تعریف ہی کی جاتی ہے۔

گمان کرنا چاہیے کہ ظاہر بھی یہی کر رہا تھا۔ اس نے نور مقدم پر کوئی سایہ دیکھ لیا ہو گا، اس لیے پہلے گھونسوں اور تھپڑوں سے اس کی مدد کرنے کی کوشش کی، پھر بھی کام نہیں چلا تو نوکدار آہنی مکے سے اسے مارا۔ نور کو شاید یہ علم نہیں تھا کہ ظاہر اس کی مدد کر رہا ہے۔ وہ یہی سمجھی ہو گی کہ اس پر انسانیت سوز اور بہیمانہ تشدد ہو رہا ہے، اس لیے کوئی ساڑھے چار بجے کے قریب اس نے دوسری منزل کے ٹیرس سے نیچے لان پر چھلانگ لگا کر بھاگنے کی بھی کوشش کی۔

گھریلو ملازمین کے لیے بھی یہ روٹین کی بات ہو گی۔ گمان یہی ہے کہ ظاہر جعفر پہلے بھی مریضاؤں کا ایسے ہی علاج کرتا رہا ہو گا۔ اس لیے انہوں نے نور کی بھاگنے میں مدد نہیں کی اور واپس ظاہر کے حوالے کر دیا۔

سوال یہ ہے کہ ظاہر نے گردن کیوں کاٹی؟ ممکن ہے کہ اس نے اپنے والدین سے یہ سن رکھا ہو کہ عید کے دن اپنی سب سے پیاری چیز کے گلے پر چھری پھیرنی ہوتی ہے۔ اس لیے اس نے نور کے گلے پر چھری پھیری ہے تو اس کی نیت بھی نیک ہو گی، اور اس بات سے یہ گمان بھی ہوتا ہے کہ وہ نور کو اپنی سب سے پیاری چیز سمجھتا تھا۔ اس میں والدین کی تربیت کا عنصر ہی دکھائی دیتا ہے کہ وہ ایک لڑکی اور بکری میں فرق نہیں کر پایا۔

اس گمان کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ جس وقت یہ سب معاملہ ہو رہا تھا اس وقت ظاہر کے والد ذاکر جعفر اپنے ملازمین سے مسلسل رابطے میں تھے۔ ذاکر جعفر نے ہی تھراپی ورکس نامی ادارے کو اس بات سے کوئی سات بجے کے قریب آگاہ کیا، یعنی نور مقدم کے بھاگنے کی کوشش کرنے کے ڈھائی گھنٹے بعد ۔ تھراپی ورکس سے منسوب کردہ ایک لیکڈ ریکارڈنگ میں جو ممتاز صحافی مہرین زہرہ ملک کے توسط سے ہمیں سننے کا اتفاق ہوا ہے، یہ علم ہوا کہ ذاکر جعفر نے ادارے کو بتایا تھا کہ ظاہر کے کمرے میں لڑکی ہے جسے وہ غالباً سالیسٹ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سالیسٹ ایک مشکل سا انگریزی لفظ ہے جس کا اس تناظر میں مطلب جنسی دست درازی ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: -   کیلاش کا سیاحتی نوحہ

یعنی ذاکر صاحب کا دل مطمئن تھا کہ یہ کوئی خاص سنجیدہ معاملہ نہیں اور ظاہر کے کمرے سے جو چیخ پکار اور مار دھاڑ کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں وہ محض اس وجہ سے ہے کہ ایک لڑکی پر جنسی حملہ کیا جا رہا ہے، جو ظاہر ہے کہ ان کی رائے میں پولیس کا نہیں نفسیات دان کا کیس ہے۔

ایس پی رانا وہاب نے یہ بھی بتایا کہ وقوعہ کی رات کو جب مقتولہ کے والد نے ذاکر جعفر کو فون کر کے اپنی بیٹی کے بارے میں پوچھا تھا تو اس وقت بھی ذاکر جعفر نے لاعلمی کا اظہار کیا تھا جبکہ انہیں اس بات کا علم تھا کہ نور مقدم اس وقت ان کے گھر پر موجود ہیں۔ یعنی پولیس اور نفسیاتی ادارے کے مبینہ بیان سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ذاکر جعفر کے نزدیک یہ واقعی روٹین کا معاملہ تھا اور وہ اس معاملے میں اپنے تربیت یافتہ فرمانبردار بیٹے کی بھرپور مدد کر رہے تھے۔

لڑکیوں کو مارنا اور قتل کرنا ویسے بھی ہمارے معاشرے کا رواج ہے۔ کبھی کسی دشمن کو مارنا ہو تو اسے مارنے کے بعد اپنے گھر کی لڑکی کو مار دیتے ہیں تاکہ غیرت کے نام پر قتل کی وجہ سے سزا کم ہو، اور اس کے بعد ماں باپ وارث بن کر قاتل کو معاف بھی کر دیتے ہیں، کبھی اپنی ٹینشن نکالنے کے لیے چار بچوں کو ماں کو بھی روٹین میں مارتے رہتے ہیں۔ اور برسوں جاری رہنے والی اس مار پیٹ میں پورا محلہ چیخنے چلانے کی آوازیں سن کر بھی یہی سوچتا ہے کہ لڑکی نے کچھ غلط کیا ہو گا جو مار پڑ رہی ہے یا شوہر کو غصہ آ گیا ہو گا، اور لڑکی کے گھر والے بھی یہی سمجھ کر اس کی مدد کرنے سے انکاری ہوتے ہوں گے۔ پھر ایک دن جب اتنی مار کھاتی ہے کہ مر جاتی ہے تو صبر شکر سے اسے دفنا آتے ہیں۔ غالباً دل میں یہی کہتے ہوں گے کہ قتل کرنے کی نیت نہیں ہو گی بچارے شوہر کی، بس لڑکی کی قسمت ہی خراب تھی جو مر گئی۔

یہ بھی پڑھیں: -   ٹنڈے پہلوان کی بیٹھک!

یعنی ایک نوجوان جو بعض پیروں فقیروں کی روایات پر عمل کرتے ہوئے ایک غیر لڑکی کو بری طرح مارتا پیٹتا ہے، اپنے والدین کی چشم پوشی بلکہ ان کی معاونت سے اس پر جنسی حملہ کرتا ہے، اور پھر عید کے موقعے پر اس کا گلا کاٹ دیتا ہے، تو پھر پولیس والے تک اس کے بارے میں یہی کہیں گے نا کہ ”بہت قابل بچہ ہے“ اور اس کا بھرپور خیال رکھیں گے کہ اسے تکلیف نہ پہنچے۔ پھر تو یہی کہنا پڑے گا کہ ظاہر جعفر ہماری اعلیٰ معاشرتی اقدار کا نمونہ ہے اور ہمیں ان اقدار سے محبت ہے۔ یہ محبت اسے سزا تو نہیں ہونے دے گی نا؟

جہاں تک ایسے قتل ہونے والی لڑکیوں کی بات ہے، تو ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ان کی قسمت میں یہی لکھا ہے اور قاتلوں کی کوئی غلطی نہیں، وہ معصوم ہیں۔ ہاں کبھی ہمارا معاشرہ لڑکیوں کو انسان سمجھنے لگا، اور تشدد کو ظلم تو پھر شاید ان لڑکیوں کے حالات بدل جائیں۔ جب تک والدین خود ہی اپنے بچوں کا خیال رکھیں کہ ابھی یہ معاشرہ حیوانوں کا ہے۔

adnan-khan-kakar
عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مزید کالم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں