Allama Ibtisam Ilahi Zaheer 141

عید کے بعد!

عید الاضحی کے موقع پر دنیا بھر کے مسلمان بڑے ذوق وشوق سے جانوروں کو قربان کرتے ہیں۔ انہی ایام میں حاجی بیت الحرام کا حج کرتے اور دنیا بھر سے مناسک حج کی ادائیگی کے لیے مکۃ المکرمہ پہنچتے ہیں۔ اسی طرح ذو الحج کے دس دنوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی عبادت بھی بڑے ذوق وشوق سے کی جاتی ہے۔ عید اور حج کے ایام گزر جانے کے بعد لوگ بالعموم اپنے دنیاوی معاملات کی انجام دہی میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے اس مشغولیت کے دوران ان دروس کو فراموش کر دیا جاتا ہے جو عید الاضحی اور ایامِ ذوالحج سے حاصل ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کو پوری زندگی عبادات کا تسلسل کے ساتھ اہتمام کرنا چاہیے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ ذاریات میں انسان اور جنات کی تخلیق کا مقصد بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ ذاریات کی آیت نمبر 56 میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اور میں نے نہیں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں‘‘۔ چنانچہ ہمیں ساری زندگی باقاعدگی سے اللہ تبارک وتعالیٰ کی عبادت کرنی چاہیے۔ عید کے بعد بھی نماز پنجگانہ، نفلی روزوں، دعاؤں اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی جانب رجوع کے لیے جس حد تک ممکن ہو‘ کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ جب ہم عید کے دروس پر غور کرتے ہیں تو ان میں سرفہرست تقویٰ نظر آتا ہے۔ رمضان میں جو روزے رکھے جاتے ہیں‘ ان کا مقصد بھی تقویٰ کا حصول ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 183میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! فرض کیے گئے ہیں تم پر روزے جیسا کہ فرض کیے گئے تھے ان لوگوں پر جو تم سے پہلے (تھے) تاکہ تم اختیار کرو تقویٰ (یعنی بچ جائوگناہوں سے)‘‘۔اسی طرح عید الاضحی پر قربانی کی بابت بھی قرآنِ مجید میں یہی بیان ہوا کہ اللہ کو جانوروں کا گوشت اور خون نہیں بلکہ وہ تقویٰ پہنچتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے۔ رمضان اور عید الاضحی سے متعلقہ آیات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کو حصولِ تقویٰ کے لیے ہمیشہ کوشاں رہنا چاہیے۔
تقویٰ کا شرعی مفہوم یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس کے اور رسولﷺ کے منع کردہ کاموں سے اجتناب کیا جائے۔ تقویٰ کے نتیجے میں انسان دنیا اور آخرت کی بہت سی کامیابیوں سے ہمکنار ہوتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 189میں ارشاد فرماتے ہیں:”اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پا جاؤ‘‘۔ حصولِ تقویٰ کے بہت سے روحانی اورمادی نتائج ہیں جن کا ذکر اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ کریم کے مختلف مقامات پر کیا ہے۔ جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
1۔ تنگیوں سے نجات او ررزق کا حصول: جب انسان متقی بن جاتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی تنگیوں کو دور فرما دیتے ہیں اور اس کو رزق وہاں سے عطا کرتے ہیں جہاں سے وہ گما ن بھی نہیں کر سکتا۔ سورہ طلاق کی آیات 1 تا 2میں ارشاد ہوا: ”اور جو اللہ سے ڈرتا ہے (تو) وہ بنا دیتا ہے اُس کے لیے (مشکلات سے ) نکلنے کا کوئی راستہ۔ اور وہ رزق دیتا ہے اُسے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کرتا‘‘۔
2۔ معاملات میں آسانی: ہر شخص مختلف معاملات میں اُلجھا ہوا ہے اور معاملات میں آسانی کا طلب گار ہے۔ تقویٰ اختیار کرنے کی وجہ سے اللہ تبارک وتعالیٰ انسان کے معاملات میں آسانی فرما دیتے ہیں۔ سورہ طلاق کی آیت نمبر 4میں ارشاد ہوا: ”اور جو اللہ سے ڈرے گا (تو) وہ کر دے گا اُس کے لیے اس کے کام میں آسانی‘‘۔
3۔ گناہوں کی معافی: بہت سے لوگ تقویٰ والی زندگی گزارنا چاہتے ہیں لیکن ان کے ذہن میں اس قسم کے خیالات بھی اُبھرتے ہیں کہ ماضی میں کیے جانے والے گناہوں کے بعد کیا عند اللہ ہماری تقویٰ والی زندگی مقبول ہو گی یا نہیں؟ اس حوالے سے ان کو اللہ تبارک وتعالیٰ کے فرامین کو مد نظر رکھنا چاہیے؛ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ طلاق کی آیت نمبر 5میں ارشاد فرماتے ہیں:” اور جو اللہ سے ڈرے گا (تو) وہ دور کر دے گا اس سے اس کی برائیاں اور وہ اس کو زیادہ اجر دے گا‘‘۔
4۔ نیکی اور بدی میں امتیاز کرنے کی صلاحیت: بہت سے لوگ زندگی کے مختلف مواقع پر حق و باطل اور اچھائی اور برائی کے درمیان امتیاز کرنے کے قابل نہیں رہتے، تقویٰ کی وجہ سے اللہ تبارک وتعالیٰ ان کے اندر یہ صلاحیت پیدا فرما دیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ انفال کی آیت نمبر 29میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ! اگر تم ڈرو اللہ سے (تو) وہ بنا دے گا تمہارے لیے (حق اور باطل میں) فرق کرنے کی (کسوٹی) اور دور کر دے گا تم سے تمہاری برائیاں اور بخش دے گا تمہیں اور اللہ بڑے فضل والا ہے‘‘۔
5۔ عزت کا حصول: ہر شخص دنیا میں عزت کا طلب گار ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ حجرات میں اس امر کو واضح کیا کہ اللہ کے نزدیک عزت والا وہ ہے جو صاحب ِ تقویٰ ہو۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ حجرات کی آیت نمبر 13 میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اے لوگو! بے شک ہم نے پیدا کیا تمہیں ایک مرد اور ایک عورت (سے) اور ہم نے بنا دیا تمہیں قومیں اور قبیلے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ عزت والا (وہ ہے جو) تم میں سے زیادہ تقویٰ والا ہے‘‘۔
6۔ خوف اور غم سے نجات: ہر شخص دنیا میں خوف اور غم سے نجات چاہتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے کلامِ حمید میں اس بات کا ذکر فرمایا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے اولیا ء خوف اور غم سے آزاد ہوں گے اور اللہ تبارک وتعالیٰ اس بات کو واضح فرماتے ہیں کہ اللہ کے ولی ایسے لوگ ہوں گے جن میں ایمان اور تقویٰ موجود ہو گا۔ سورہ یونس کی آیات 62 تا 63میںارشاد ہوا: ”خبردار بے شک اولیاء اللہ‘ نہ کوئی خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ لوگ جو ایمان لائے اور وہ ڈرتے تھے (اللہ سے)‘‘۔
7۔ آسمان اور زمین سے برکات کے دروازوں کا کھل جانا: اللہ نے سورہ اعراف میں ان مغضوب اقوام کا ذکر کیا جو اللہ کے غضب کا نشانہ بنیں، حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پر طوفان، قوم عاد پر آندھیوں، قوم ثمود پر چنگھاڑ، قوم لوط پر آسمان سے پتھروں کی بارش اور قوم مدین پر اللہ نے چیخ کو مسلط کیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن مجیدمیں اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ اگر ان بستیوں کے رہنے والے لوگ ایمان اور تقویٰ کو اختیار کر لیتے تو اللہ تبارک وتعالیٰ آسمان اور زمین سے ان کے لیے برکات کے دروازوں کو کھول دیتا۔ سورہ اعراف کی آیت نمبر 96میں ارشاد ہوا: ”اور اگر واقعی بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے (تو) ضرور ہم کھول دیتے اُن پر برکتیں آسمان سے اور زمین سے اور لیکن اُنہوں نے جھٹلایا تو ہم نے پکڑ لیا اُنہیں اس وجہ سے جو وہ کمایا کرتے تھے‘‘۔
عید قربان ہمیں دیگر دروس کے ساتھ ساتھ لوگوں کے کام آنے اور غریب، غرباء، یتامیٰ، مساکین کو کھانا کھلانے کا بھی سبق دیتی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل سے اس سبق پر بھی پورا سال عمل کیا جا سکتا ہے اور انفاق فی سبیل للہ، صدقہ اور خیرات کے ذریعے غربا، مساکین اور یتامیٰ کے کام آیا جا سکتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ دہر کی آیات 8 تا 9میں اہلِ ایمان کے طرزِ عمل کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ”وہ کھانا کھلاتے ہیں اس کی (یعنی اللہ کی) محبت پر (یا اپنی پسند اور ضرورت کے باوجود) مسکین اور یتیم اور قیدی کو۔ (کہتے ہیں) ہم تو صرف کھلاتے ہیں تمہیں اللہ کی رضا کے لیے نہیں ہم چاہتے تم سے کوئی بدلہ اورنہ کوئی شکریہ‘‘۔
ایامِ ذی الحجہ اور عید قربان کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ انسان کثرت سے اللہ تبارک وتعالیٰ کا ذکر کرتا رہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اہلِ ایمان کے طرزِ عمل کا ذکر کرتے ہیں وہ کائنات کی تخلیق پر غوروفکر کرنے کے ساتھ ساتھ کثرت سے اللہ تبارک وتعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔ سورہ آل عمران کی آیت نمبر 191میں ارشاد ہوا: ”وہ لوگ جو ذکر کرتے ہیں اللہ کا کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر اور اپنے پہلوؤں کے بل اور غور و فکر کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں (اور کہتے ہیں) اے ہمارے رب ! نہیں پیدا کیا تو نے یہ (سب کچھ) بیکار، تو پاک ہے (ہر عیب سے) پس بچا ہمیں آگ کے عذاب سے‘‘۔ ذکرِ الٰہی کے بہت سے فوائد ہیں جن کا اللہ تبارک وتعالیٰ نے متعدد مقامات پر ذکر کیا جن میں سے ایک اہم فائدہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 152میں یوں بیان کیا گیا: ”پس تم یاد رکھو مجھے میں یاد رکھوں گا تمہیں اور تم میرا شکر کرو اور میری ناشکری نہ کرو‘‘۔ قرآنِ مجیدکے مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کثرت سے ذکرِ الٰہی کرنے والوں کی زندگی کے اندھیرے دور ہو جاتے ہیں اور اللہ تبارک وتعالیٰ ان کو روشنیوں کے راستے پر چلا دیتے ہیں؛ چنانچہ ہمیں نیکیوں کے یہ تمام کام ایام ذی الحجہ اور عید کے بعد بھی جاری رکھنے چاہئیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو نیکیوں کے ان کاموں کو بکثرت کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم دنیا وآخرت میں سرخرو ہو سکیں، آمین !

یہ بھی پڑھیں: -   بلیک اسٹارٹ
Allama Ibtisam Elahi Zaheer
علامہ ابتسام الہی ظہیر

مصنف کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں