market rates 204

ملکی معیشت اور مہنگائی کی لہر

حکومت کی جانب سے تو قومی معیشت میں اپنی کامرانیوں کے دعوؤں کا سلسلہ بدستور جاری ہے،ملکی معیشت کے استحکام اور شرح نمو میں اضافہ بیان کیا جارہا ہے ، یہ نوید بھی سنائی جارہی ہے کہ کٹھن وقت ختم ہوچکا ہے ، حکومت کے باقی دوبرس میں اب ملک ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

حکومتی وزرا ومشیروں کے بیانات اور دعوے سن کر فطری طور پر عوام کی غربت اورمہنگائی میں ریلیف کے حوالے سے آنیوالے میزانیوں کے ساتھ توقعات وابستہ پیدا ہوئیں، جب کہ حکومتی دعوؤں نے ان توقعات کو مہمیز لگائی ، وفاقی بجٹ کو عوام دوست کہا گیا ، دوسری جانب وزیراعظم عمران خان اکثر وبیشتر اپنے بیانات میں مہنگائی پر قابو پانے اور ملکی معیشت کی بہتری کی نوید عوام کو سناتے رہتے ہیں ۔

حکومتی دعوے اپنی جگہ ، لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی داستان سنا رہے ہیں ،ملکی معاشی ترقی کے موجودہ مالی سال میں تقریباً چار فیصد کی رفتار سے بڑھنے کا دعویٰ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب تحریک انصاف کی حکومت کو اپنے سیاسی مخالفین کی جانب سے ملکی معیشت تباہ کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔
پاکستان میں بیورو کریسی کسی بھی حکومت کو خوش کرنے کے لیے اس قسم کی خدمات فراہم کرنے پر آمادہ رہتی ہے اور سیاسی لیڈر اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے لیے انھیں استعمال کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ اس بارے میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ پاکستان میں تمام شعبوں کی پیداواری صلاحیت کا سالانہ سروے نہیں کیا جاتا بلکہ بعض شعبوں میں تو دس سال سے کوئی سروے نہیں ہوا۔ اس صورت میں سرکاری اعداد و شمار تیار کرنے کے لیے متعلقہ شعبہ کی پیداواری صلاحیت میں سالانہ ممکنہ اضافے کا تخمینہ لگا کر اوسط نکالی جاتی ہے اور اسے اعداد و شمار میں شامل کرلیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے یہ طریقہ حقیقی نہیں بلکہ جعلی ہوتا ہے جس سے کسی ملک کی معاشی صحت کا درست اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔

مہنگائی کی شرح ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے ، پیٹرول ، بجلی ، گیس اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ، اب وفاقی بجٹ کے آفٹر شاکس آنا شروع ہوگئے ہیں ، اور موجودہ بجٹ سابقہ میزانیوں کی طرح اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ ہی نظر آرہا ہے ، آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق بجٹ میں مروجہ ٹیکس بڑھائے گئے ہیں اور نئے ٹیکسوں کی بھرمار نظر آ رہی ہے اور اس کے برعکس تنخواہ دار، تاجر اور مزدور طبقات کو اپنے لیے ریلیف کے بجائے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ عوام تو اس وقت بھی عملاً مہنگائی کے ہاتھوں زچ ہو چکے ہیں اور اب بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے جو عوامی اضطراب بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   ’ہمارا ریپ بند کرو ‘ کانز فلم فیسٹیول یوکرینی خاتون کے احتجاجی نعروں سے گونج اُٹھا

اسی طرح اسٹیٹ بینک کی سہ ماہی رپورٹ بھی اقتصادی ترقی کے معاملہ میں کوئی زیادہ حوصلہ افزا نہیں جس میں مہنگائی 9 فیصد اور بجٹ خسارہ سات اعشاریہ پانچ فیصد تک رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے جس کی بنیاد پر اسے عوام دوست بجٹ تو نہیں کہا جاسکتا جب کہ مہنگائی کے حوالے سے وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ بھی تشویشناک ہے جس کے بقول ملک میں ایک سال کے دوران مہنگائی کے طوفان اٹھے ہیںاور مہنگائی کی شرح دس اعشاریہ87 فیصد پر جا پہنچی ہے۔ انسانی حقوق کمیشن نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ’’کورونا وائرس نے ملک میں موجود عدم مساوات میں اضافہ کیا ہے جس کے باعث لاکھوں غیر محفوظ افراد پر روزگار سے محرومی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔‘‘

ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سبب جہاں بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں سماجی اور نفسیاتی مسائل اور جرائم کی شرح بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء جن میں آٹا، دالیں، چینی وغیرہ شامل ہیں لوگوں کی دسترس سے باہر ہوتی جارہی ہیں۔ بجلی اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث نہ صرف ملکی معیشت بری طرح متاثر ہورہی ہے بلکہ عام شہریوں کے ساتھ ساتھ اب تو تاجر اور صنعت کار برادری بھی صدائے احتجاج بلند کرتی نظر آتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جس طرح عوام کا مسئلہ صرف مہنگائی ہے اسی طرح حکومت کا مسئلہ صرف اپوزیشن نہیں بلکہ مہنگائی پر قابو پانا ہے۔

افراط زر کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے سامان اور خدمات کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ افراط زر کی پریشانی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہمیں غیر متوقع مہنگائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو لوگوں کی آمدنی سے مناسبت نہیں رکھتا ہے۔ معیشت کو آسانی سے چلانے کے لیے مرکزی بینک افراط زر کو محدود کرنے اور افراط سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ افراط زر وہ شرح ہے جس پر اشیا اور خدمات کی قیمتوں کی عمومی سطح میں اضافہ ہورہا ہے اور اس کے نتیجے میں، کرنسی کی قوت خرید کم ہورہی ہے۔ اگر سامان کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ آمدنی میں اضافہ نہیں ہوتا ہے تو، ہر ایک کی قوت خرید مؤثر طریقے سے کم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں معیشت سست یا مستحکم ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   2021ء میں پاکستان میں کاروبار کے طریقے"حصہ دوئم"

قومی بچت نے مختلف اسکیموں میں سرمایہ کاری میں حاصل ہونے والے منافع پر انکم ٹیکس کی شرح میں پچاس فی صد اضافہ کردیا ہے ، جس سے چھوٹی بچتیں جمع کرانے والوں کی مزید حوصلہ شکنی ہوگی اور منافع پر ٹیکس میں اضافے سے قومی بچت اسکیموں پر انتہائی برا اثر پڑے گا، جب کہ دوسری جانب وفاقی حکومت نے سبزیوں ، پھلوں ، ڈرائی فروٹ سمیت تقریبا چھ سواشیا کی درآمد پر 2سے 90 فی صد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی ہے ، ان میں اشیاء میں قدرتی شہد ، گندم ، آٹا ،مکئی ، دودھ ، کریم، مکھن، آلو سمیت دیگر تازہ فریز شدہ سبزیاں، ڈرائی فروٹ ، تازہ پھل شامل ہیں ۔یہ اقدام بھی مہنگائی بڑھنے کا بڑا سبب بنے گا ۔

اس وقت کراچی اور لاہور میں سادہ روٹی دس اور خمیری پندرہ روپے میں دستیاب ہے ، آٹا کی قیمتیں بڑھنے سے روٹی کی قیمت بھی بڑھتی جارہی ہے ، جب کہ حکومتی سطح پر مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کچھ نہیں کیا جارہا ہے ۔حکومت کو قیمتوں پر قابو پانے کے لیے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی بھی کرنا ہوگی، ان کے گوداموں پر چھاپے مارے جائیں جن کی وجہ سے مصنوعی قلت پیدا کی جاتی ہے، ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ مہنگائی کے ساتھ ساتھ عام عوام کی آمدن میں بھی اضافہ کیا جائے تاکہ اس پر مہنگائی کا بوجھ نہ پڑے لیکن فی الحال حکومت کے لیے ایسا کرنا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ اگر آمدن سے زیادہ اخراجات ہوں گے تو مزید مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

دولت کی غیر مساوی تقسیم بھی مہنگائی کو بڑھاوا دیتی ہے کیونکہ دولت مند افراد کم وسائل کے حامل لوگوں کو لوٹنے لگ جاتے ہیں جو مہنگائی کا باعث بنتے ہیں۔ حکومت جب تک ذاتی مفادات کے برعکس اقتصادی استحکام کو ترجیح نہیں دیتی معاشی عدم استحکام ختم نہیں ہو سکتا۔

لوگوں کے ذرایع آمدن پہلے ہی کورونا وائرس کے منفی اثرات کے باعث آدھے سے بھی کم ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر نچلا طبقہ ہے جو کرائے کے گھروں میں رہائش پذیر ہے گزشتہ دس سالوں سے مکانوں اور دکانوں کے بڑھتے ہوئے کرائے بھی مہنگائی میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں جن کو کسی بھی حکومت نے کنٹرول کرنے کی کبھی نہ تو کوشش کی نہ ہی اس ضمن میں کبھی کوئی قانون سازی عمل میں آئی۔حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ اپنے عوام کو ضروریات زندگی کی اشیا سستے داموں مہیا کرے لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے، کھانے پینے کی اشیا سے لے کر الیکٹرونکس و الیکٹریکل مصنوعات تک مہنگی ہوگئی ہیں۔عام آدمی کو یہ بتانا پڑے گا کہ جہاں مہنگائی کو قابو نہ کر سکنے کی ذمے دار حکو مت ہے، وہیں مصنوعی مہنگائی پیداکرنے والے عناصر بھی موجود ہیں اور اتنے ہی ذمے دار ہیں جتنی حکومت۔

یہ بھی پڑھیں: -   کوئی گالیاں دیکر مجھے جمہوری حق استعمال کرنے سے نہیں روک سکتا، مہوش حیات

عام آدمی کے مسائل کا حل صرف حکومت کے پاس ہی ہے، آج کے دور میں دو دو نوکریاں کرکے بھی لوگوں کا گزارہ مشکل ہوگیا ہے، پاکستانی کرنسی کی قدر میں گراوٹ بھی مہنگائی کا سبب بنتی ہے، اس لیے ایسے معاشی اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے جن سے روپے کی ساکھ مضبوط ہو سکے، اس کے علاوہ ملک میں کرپشن بھی اقتصادی مسائل میں اہم کردار ادا کرتی ہے، حکومت اسے کنٹرول کرنے کی ہر ممکن کوشش میں لگی ہوئی ہے۔

ہم امید کرتے ہیں کہ اس پر جلد قابو پالیا جائے گا کیونکہ جب تک معاشرہ کرپشن فری نہیں ہوتا، تب تک کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔ ہمیں بڑھتی آبادی کی ضروریات کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے، دولت کی غیر مساوی تقسیم پر قابو پانے کے لیے حکومت کو کوئی لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا، ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر عوامی اور اجتماعی مفادات کے حل کے لیے کوشش کرنا ہوگی۔ اس تناظر میں حکومت کو قومی معیشت کی ترقی کے دعوؤں پر ہی صاد کرکے نہیں بیٹھ جانا چاہیے بلکہ اسے بجٹ میں ریلیف کی صورت میں عوام کو مطمئن کرنے کے چیلنج سے عہدہ برآ ہونا ہے۔

express-News
ایکسپریس

یہ تحاریر ایکسپریس نیوز کی اجازت سے شائع کی جاتی ہیں. مزید پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں