Attaul-Haq-Qasmi 137

بکروں کا آخری اجتماع

بقر عید میں ابھی چند روزباقی ہیں مگر کل منڈی کے سامنے سے گزر ہوا تو میں نے دیکھا کہ سینکڑوں کی تعداد میں بکرے وہاں جمع ہیں، یوں لگتا تھا کہ بکروں کا سالانہ کنونشن ہو رہا ہے، اس پر میں نے سوچا اگر واقعی بکروں کا کنونشن منعقد ہوتا ہو تو وہاں کس قسم کی صورتحال ہوتی ہوگی؟ میرے خیال میں منظر نامہ کچھ یوں ہوتا!

اسٹیج پر تین چار بکرے بیٹھے ہیں۔ ایک نوجوان بکرا جو اسٹیج سیکرٹری ہے، مائیک پہ آتا ہے۔

اسٹیج سیکرٹری:شروع کرتا ہوں ساتھ نام اللہ کے جو بڑا مہربان اور رحم والا ہے۔ میرے پیارے بکرو اور بکریو! اسلام علیکم! ہماری آج کی سالانہ تقریب کی صدارت بکروں کے عظیم رہنما جناب مانڈو پتوکی والے فرما رہے ہیں۔ اُن کے ساتھ اسٹیج پر دوندا شکارپور والے، چوگا گھوٹکی والے اور کھیرا بھکر والے تشریف فرما ہیں۔ میں جناب کھیرا صاحب سے درخوراست کروں گا کہ وہ مائیک پر تشریف لائیں اور اپنی تازہ، آزاد اور غلام نظم ارشاد فرمائیں۔ کھیرا جو ایک کم عمر بکرا ہے مائیک پر آتا ہے:

میں قربانی کا بکرا ہوں، میرے آقا جو بھی چاہتے ہیں، وہ ہوتا ہے، کبھی نام عوام کا لیتے ہیں، کبھی نام اسلام کا لیتے ہیں، اور مجھ پر چھری چلاتے ہیں، میرا آقا ایک ہے لیکن وہ، بس نام بدلتا رہتا ہے، کبھی خاکی کپڑے پہنتا ہے، کبھی اچکن میں وہ آتا ہے، یہ خاکی اپنی فطرت میں، نہ نوری ہے نہ ناری ہے۔

اس نظم کے دوران تمام بکرے سبحان ﷲ اور ماشاء ﷲ کہتے ہوئے اسے بھرپور داد دیتے ہیں۔ اسٹیج سیکرٹری دوبارہ مائیک پر آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   عشق بیچارہ! نہ واعظ ہے، نہ ملا ،نہ حکیم

اسٹیج سیکرٹری:اب میں جناب چوگا بھکر والے سے درخواست کروں گا کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار فرمائیں۔

چوگا مائیک پر آتا ہے۔ میں سب سے پہلے محترم بکریوں سے درخواست کروں گا کہ وہ کم از کم اس کنونشن کے دوران ممیانا چھوڑیں کیونکہ ان کی ممیاہٹ سے دوسرے حاضرین ڈسٹرب ہو رہے ہیں۔ اپنی ان مائوں بہنوں سے ایک بات میں نے یہ بھی کہنی ہے کہ وہ خود کو چھری سے مستثنیٰ نہ سمجھیں کیونکہ جب وہ دودھ دینا بند کریں گی اور ان کے آقا کو ان کی ضرورت نہیں رہے گی تو چھری ان کے گلے پر چلا دی جائے گی، آج اگر ہماری باری ہے تو کل ان کی باری آئے گی۔

اس پر بکروں کی طرف سے نعرہ ہائے تحسین بلند ہوتے ہیں جبکہ بکریاں استہزائی ہنسی ہنستی رہیں۔

دوسری بات مجھے بکروں اور بکریوں سے یہ کرنی ہے کہ آج میرا گلا خراب ہے اور کمر میں درد ہے۔ میرے ونڈ میں کوئی چیز ملائی گئی ہے جس کی وجہ سے میں ٹھیک طرح بول نہیں سکتا۔ کمر میں درد کی وجہ آپ کچھ اور نہ سمجھیں۔ صرف یہ ہے کہ ان دنوں مجھ پر سواری کی کوشش بھی کی جارہی ہے، میں نے کئی دفعہ سواری کرنے والے کو بتایا کہ قربانی کے بکرے پر سواری جائز نہیں لیکن وہ کہتے ہیں انہیں یہی حکم ہے۔ لہٰذا آج آپ سے تقریر نہ کر سکنے پر معذرت خواہ ہوں۔ ان شاء ﷲ حالات بہتر ہونے پر حاضرِ خدمت ہوں گا۔ اسلام علیکم۔

یہ بھی پڑھیں: -   ایلنز کی حقیقت؟

کنونشن کے پنڈال سے کچھ فاصلے پر بکروں کے بیوپاریوں کے خیمے لگے ہوئے ہیں جن کے باہر چارپائیاں بچھی ہیں اور خرید و فروخت کا سلسلہ جاری ہے، ایک بدمعاش قسم کا خریدار جو گورے رنگ کا ہے اور بمشکل اردو بولتا ہے، ایک بیوپاری سے گفت و شنید میں مشغول ہے، بیوپاری اس کے لہجے سے خوفزدہ لگتا ہے۔

خریدار، تم اپنے پورے ریوڑ کا کیا لو گے؟

بیوپاری، تم کیا دے سکتے ہو؟

خریدار، تمہیں پتہ ہے کہ قیمت کی بات تو میں نے یونہی کی ہے بصورت دیگر جب تم صبح اٹھو گے تو تمہارا ریوڑ تمہارے سمیت یہاںسے غائب ہوگا۔

بیوپاری، ہاں یہ تو میں جانتا ہوں لیکن تمہیں پتہ ہے کہ میں اکیلا اس کاروبار کا مالک نہیں ہوں، اس میں میرے پارٹنر بھی ہیں جن میں سے کچھ زمینی حقیقتوں کو نہیں سمجھتے۔ مجھے انہیںبھی ساتھ رکھنا پڑتا ہے لہٰذا کوئی ایسی بات کرو کہ میں انہیں بھی منہ دکھا سکوں۔

خریدار، تم ٹھیک کہتے ہو لیکن مجھے اپنے مفاد سے غرض ہے، تم اور تمہارے ساتھی صرف اس وقت تک میرے لئے اہم ہیں جب تک حکم کی تعمیل کرتے ہیں، تم ہربقر عید پر بکروں کی خریداری کے نام پر مجھ سے لاکھوں روپے قرض لیتے رہے ہو، ان کاسود کروڑوں تک پہنچ گیا ہے یا وہ ساری رقم ابھی واپس کرو، آئندہ کے لئے قرض کی امید بھی نہ رکھو یا اس ریوڑ کا جو میں دیتا ہوں وہ آنکھیں بند کرکے قبول کرلو۔

دوسری طرف بکرا کنونشن اختتام کےقریب ہے۔ اسٹیج سیکرٹری مائیک سے اعلان کرتاہے ، پیارے بکرو اور بکریو کنونشن کے صدراور آج کے آخری مقرر جناب مانڈو پتوکی والے ہیں۔ ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنے خیالاتِ عالیہ کا اظہار فرمائیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   موروثیت کے خاتمے کے لیے چند تجاویز

چوگا اور دوندا آگے بڑھ کر مانڈو کو سہارا دیتے ہیں اور اسے مائیک تک پہنچاتے ہیں۔

مانڈو! محترم و معزز بکرو! آپ نے خود دیکھ لیا کہ حالات و واقعات سے میری کمر ٹوٹ چکی ہے میں آج کے کنونشن میں خرابی صحت کی بنا پر شرکت کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ گھوڑا اسپتال کے ڈاکٹروں نے مجھے شہر سے باہر قدم رکھنے سے منع کیا ہے، نوجوان جذبوں کے مالک عزیزی کھیرا کے مجبور کرنے پر حاضر ہوگیا ہوں۔ عزیزی کھیرا کو میں نے بتا دیا تھا کہ میں خطاب نہیں کر سکوں گا۔ صرف شرکت کاثواب حاصل کرنے کے لئے چلا آئوں گا اور میں نے اپنا وعدہ پورا کردیا ہے۔ ﷲ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ والسلام ۔

Attaul-Haq-Qasmi
عطاءالحق قاسمی

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں