adnan-khan-kakar 121

ایک ”پروفیسر ڈاکٹر“ کی سرقہ بازی

میں نے 25 فروری 2017 کو ایک مضمون لکھا تھا، ”افغانستان سلطنتوں کا قبرستان نہیں بلکہ ان کا غلام رہا ہے“ ۔ اس میں نقشوں کی مدد سے واضح کیا گیا تھا کہ گزشتہ ڈھائی ہزار برس میں ان علاقوں کی مالک کون کون سی سلطنت تھی جو آج موجودہ ریاست افغانستان کا حصہ ہیں۔ یہ مضمون کل 12 جولائی 2021 کو دوبارہ شائع کیا گیا۔ اس پر میری ٹویٹر وال پر اقبال حیدر بٹ صاحب نے ”ای گلوبل ٹاپ“ نامی ویب سائٹ کا لنک بھیجا جس میں وہی مضمون معمولی تبدیلیوں اور نقشوں کے بغیر ڈاکٹر ہارون چوہدری کے نام اور ”افغانستان۔ ہر طاقت کا غلام“ کے عنوان سے شائع کیا گیا تھا، اور پوچھا کہ ”کون سا مضمون پہلے شائع ہوا تھا“ یعنی سرقہ کس نے کیا ہے۔

انہیں مطلع کیا کہ میرا مضمون فروری 2017 کا شائع شدہ ہے اور ڈاکٹر ہارون کے مضمون کے پیج کی ایچ ٹی ایم ایل سے سکرین شاٹ بھی دے دیا کہ یہ مضمون پہلی مرتبہ 2020 اور پھر اب دس جون 2021 کو دوبارہ شائع ہوا ہے۔ میں نے اپنی فیس بک وال پر بھی اس کا ذکر کر دیا۔

کل وجاہت مسعود صاحب کو ڈاکٹر ایم اختر شاہین، جو بظاہر ”ای گلوبل ٹاپ“ نامی ویب سائٹ چلا رہے ہیں، کا مندرجہ ذیل پیغام موصول ہوا

”وجاہت مسعود بھائی، السلام علیکم۔ امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ بہت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ کاکڑ صاحب نے یہ مضمون چوری کیا ہے۔ اس کے اصل مصنف میرے دوست پروفیسر ڈاکٹر ہارون چودھری ہیں 😢 پورے فروری 2017 میں ایسا کوئی مضمون نہیں ہے“

انہوں نے ڈاکٹر ہارون چوہدری کی وال کا لنک بھی دیا جس پر 31 جنوری 2019 کی تاریخ درج ہے۔
https://www.facebook.com/haroon.chaudhary.376/posts/642079089582263

ساتھ فیس بک پر بھی انہوں نے اپنی وال پر پوسٹ لگا دی
25 / 02 / 2017 کو عدنان کاکڑ کا کوئی مضمون شائع نہیں ہوا
https://www.facebook.com/makhtarshaheen/posts/4344023732285855

اس ویب سائٹ پر ڈاکٹر ہارون چوہدری کا یہ تعارف درج ہے۔

Professor Haroon Chaudhry (Part One) Being a dual doctor I reached to the conclusion that history and philosophy is as important as medicine.Medicine heals of temporal wounds whereas philosophy heals our ideological and intellectual wounds.

نہایت دلچسپی سے پروفیسر ڈوئل ڈاکٹر ہارون چوہدری کی وال دیکھی۔ وہ جی سی کالج اور علامہ اقبال میڈیکل کالج کے تعلیم یافتہ ہیں اور بظاہر آج کل آسٹریلیا میں ہنسی خوشی زندگی گزار رہے ہیں۔ کوئی عام شخص اگر سرقہ بازی کرے تو اسے میں عام طور پر نظرانداز کرتا ہوں، لیکن اگر ایسے کسی شخص کے ہاتھوں میں لوگوں کی زندگیاں بھی ہوں تو پھر معاملے کو پبلک کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ہارون کی وال پر انگریزی کے چند مضامین کا جائزہ لیا، وہ بھی دلچسپ ہے لیکن اسے بعد میں دیکھتے ہیں، پہلے اپنے مضمون کی بات کرتے ہیں۔

پہلے تو ڈاکٹر اختر شاہین کا شکوہ دیکھ لیتے ہیں کہ ہم سب پر میرے پروفائل کے فروری کے مہینے میں یہ مضمون نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی وال پر یہ مضمون اکتوبر 2020 میں شائع کیا تھا، کیا وہ وہاں اسی تاریخ کے ساتھ موجود ہے یا پھر اس کی تاریخ دس جون 2021 دکھائی دے رہی ہے؟ ویب سائٹ چلانے والے کسی بھی شخص کو یہ علم ہونا چاہیے کہ کوئی مضمون اپ ڈیٹ کر دیا جائے تو اس کی نئی تاریخ دکھائی دیتی ہے، ہاں پڑھنے والے کی راہنمائی کے لیے بتا دیا جاتا ہے کہ مضمون سب سے پہلی مرتبہ کب شائع ہوا تھا اور اپ ڈیٹ کب ہوا ہے۔ اسی وجہ سے میرے مضمون کی تاریخ 2017 کی بجائے اب 2021 کی دکھائی دے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   تبدیلی کی ہوائیں

اچھا اس دعوے کو چیک کیسے کیا جا سکتا ہے کہ میرا مضمون پہلی مرتبہ فروری 2017 میں شائع ہوا تھا؟

ایک مرتبہ انٹرنیٹ پر کوئی تحریر آ جائے تو اس کا ٹریک ریکارڈ موجود رہتا ہے۔ سب سے پہلے تو میری اور سینکڑوں دوسرے لوگوں کی وال دیکھی جا سکتی ہے۔ ہم سب کے پیج پر یہ مضمون 25 فروری کی تاریخ کے ساتھ موجود ہے جس کے 341 شیئر ہیں۔ اس کے علاوہ یہ وجاہت مسعود اور میری وال پر بھی موجود ہے۔ فیس بک پر اس کا عنوان تلاش کر لیا جائے تو مل جائے گا۔

https://www.facebook.com/humsub.com.pk/posts/1006296036180741

سوال یہ ہے کیا یہ ممکن ہے کہ فیس بک پوسٹ کی تاریخ تبدیل کر دی جائے؟ یہ ممکن ہے لیکن فیس بک ایسی صورت میں وقت اور تاریخ کے ساتھ ایک گھڑی کی تصویر دکھا دیتی ہے جس میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ اصل تاریخ اشاعت کیا تھی اور تبدیل ہونے کے بعد کیا ہے۔ یعنی اسے چوری چھپے تبدیل کرنا ممکن نہیں۔

پھر ایک اور اہم شے ہے جسے گوگل کہتے ہیں۔ میرے مضامین صرف ہم سب پر ہی تقریباً 75 لاکھ ویو لے چکے ہیں اور لوگ انہیں چوری کر کے اپنے ناموں سے شائع کرتے رہتے ہیں۔ گوگل پر یہ مضمون تلاش کیا جائے تو کئی مصنفین کے نام سے دکھائی دے جائے گا، لیکن گوگل سرچ ریزلٹ میں تاریخ بھی دکھاتا ہے۔ اس سے پتہ چل جاتا ہے کہ مضمون پہلے کہاں شائع ہوا تھا۔

گوگل تو ایک سرچ انجن ہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ پر بہت سی سائٹس ایسی ہیں جن کا کام صرف یہ ہے کہ وہ گوگل ہی کی طرح ویب سائٹس کو کنگھالتی رہتی ہیں اور جو پیج بھی ملے اسے اپنی میموری میں محفوظ کر لیتی ہیں۔ کسی ویب سائٹ کی تاریخ کے مطابق اس کا متن دیکھا جا سکتا ہے۔ یوں ویب سائٹ کوئی تحریر ڈیلیٹ یا تبدیل بھی کر دے تو وہ اصل حالت میں تاریخ کے مطابق موجود رہتی ہے۔ ایسا کرنے والی سب سے مشہور سائٹ آرکائیو ڈاٹ آرگ کی ”وے بیک مشین“ ہے۔ اس کے ریکارڈ کو تبدیل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

میرا مضمون 25 فروری 2017 کو شائع ہوا اور 26 فروری 2017 کو وے بیک مشین نے اسے محفوظ کر لیا۔ اب پروفیسر ڈوئل ڈاکٹر ہارون چوہدری اسی طرح سے فیس بک یا وے بیک مشین پر اپنا مضمون دکھا دیں جو فروری 2017 سے پہلے شائع ہوا ہو، اور چاہیں تو ڈاکٹر ایم اختر شاہین کی مدد بھی حاصل کر لیں۔

wayback machine
https://web.archive.org/web/20170226061628/https://www.humsub.com.pk/45637/adnan-khan-kakar-389/

اچھا یہ تو تھی میرے مضمون کی بات۔ اب ایک بندہ اگر ایک مضمون چوری کرے تو شبہ ہوتا ہے کہ وہ ایسا کرنے کا عادی ہے۔ پروفیسر ڈوئل ڈاکٹر ہارون چوہدری کی وال پر ان کے تین مضامین کا جائزہ لیا۔ ان کے مختصر اقتباسات یہاں پیش ہیں مکمل مضامین آپ خود ملاحظہ کر لیں۔ چونکہ وہ انگریزی میں ہیں اس لیے اب انگریزی برداشت کریں۔ نوٹ کریں کہ مضامین کے ابتدائی اور آخری پیراگراف عموماً اوریجنل ہیں اور ادھر ادھر کچھ تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں، بعینہ ویسے ہی جیسے میرے مضمون میں بھی ”تاریخ میں ڈبکی لگاتے ہیں“ کو ”تاریخ کے اوراق کھولتے ہیں“ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   شیریں مزاری اور40 ہزار کنال زمین

ویسے میں ایک سوال ضرور پوچھنا چاہوں گا، یہ ڈاکٹر ایم اختر شاہین صاحب واقعی پروفیسر ڈوئل ڈاکٹر ہارون چوہدری کے دوست ہیں یا انہوں نے اس شد و مد سے اس سرقے کے معاملے کو اٹھا کر اور الٹا اصل مصنف پر سرقے کا الزام لگا کر پروفیسر ڈوئل ڈاکٹر ہارون چوہدری سے کوئی پرانا حساب چکتا کیا ہے؟

PHILOSOPHY OF HISTORY by Haroon Chaudhary
4 May 2021
https://www.facebook.com/haroon.chaudhary.376/posts/1274330339690465

Historians are interested in providing conceptualizations and factual descriptions of events and circumstances in the past. This effort is an answer to questions like these: “What happened? What was it like? What were some of the circumstances and happenings that took place during this period in the past?” Sometimes this means simply reconstructing a complicated story from scattered historical sources for example, in constructing a narrative of the Spanish Civil War.

Second, historians often want to answer “why” questions: “Why did this event occur? What were the conditions and forces that brought it about?” This body of questions invites the historian to provide an explanation of the event or pattern he or she describes: the rise of fascism in Spain, the collapse of the Ottoman Empire, the great global financial crisis of 2008. And providing an explanation requires, most basically, an account of the causal mechanisms, background circumstances, and human choices that brought the outcome about. We explain an historical outcome when we identify the social causes, forces, and actions that brought it about, or made it more likely.

================
Understanding Society: Innovative thinking about a global world by Dan Little
1st August, 2009
https://understandingsociety.blogspot.com/2009/08/historians-task.html

First, historians are interested in providing conceptualizations and factual descriptions of events and circumstances in the past. This effort is an answer to questions like these: “What happened? What was it like? What were some of the circumstances and happenings that took place during this period in the past?” Sometimes this means simply reconstructing a complicated story from scattered historical sources – for example, in constructing a narrative of the Spanish Civil War or attempting to sort out the series of events that culminated in the Detroit race riot / uprising of 1967. But sometimes it means engaging in substantial conceptual work in order to arrive at a vocabulary in terms of which to characterize “what happened.” Concerning the disorders of 1967 in Detroit: was this a riot or an uprising? How did participants and contemporaries think about it?

Second, historians often want to answer “why” questions: “Why did this event occur? What were the conditions and forces that brought it about?” This body of questions invites the historian to provide an explanation of the event or pattern he or she describes: the rise of fascism in Spain, the collapse of the Ottoman Empire, the great global financial crisis of 2008. And providing an explanation requires, most basically, an account of the causal mechanisms, background circumstances, and human choices that brought the outcome about. We explain an historical outcome when we identify the social causes, forces, and actions that brought it about, or made it more likely…

*************************

WHAT IS PHILOSOPHY? by Haroon Chaudhary
Date 23 Feb 2021
https://www.facebook.com/haroon.chaudhary.376/posts/1226152494508250

1,Metaphysics
Metaphysics is the branch of philosophy that considers the physical universe and the nature of ultimate reality. It asks questions like, What is real? What is the origin of the world? What is beyond the stars? Your consideration of reality as an external creation or an internal construct can influence your metaphysical beliefs and perspectives and your teaching. Regardless of your definition of reality, the exploration and categorization of the physical universe form the foundation of several school subjects.

یہ بھی پڑھیں: -   اگر تصویرخراب نہ ہوتی

WHAT YOU NEED TO KNOW AS AN EDUCATOR: UNDERSTANDING THE 4 MAIN BRANCHES OF PHILOSOPHY BY MATTHEW LYNCH
Dated AUGUST 5, 2016
https://www.theedadvocate.org/need-know-education-understanding-4-main-branches-philosophy/

Metaphysics

Metaphysics is the branch of philosophy that considers the physical universe and the nature of ultimate reality. It asks questions like, What is real? What is the origin of the world? What is beyond the stars? Your consideration of reality as an external creation or an internal construct can influence your metaphysical beliefs and perspectives and your teaching. Regardless of your definition of reality, the exploration and categorization of the physical universe form the foundation of several school subjects.

***********************************

DAYS OF AMERICAM EMPIRE ARE NUMBERED by Haroon Chaudhary
October 5, 2020
https://www.facebook.com/haroon.chaudhary.376/posts/1116070295516471

Trump and Biden barely tolerated each other exposing the raw hostility that plagued American society today and it would be impossible for them to come out this disaster.
The rancour engulfing US swamped the first debate which was full of spiteful,chaotic,abusive ,out of control and deep contempt for each other.

Trump came to this debate ready to interrupt,harass,abuse his opponent,the strength he consider formidable.But he found in Biden an opponent who could bounce back immediately.Trump never landed a political knock out blow though he surely energised his base.Biden falter from time to time but he emerged from the basement and showed he could fight.He tried to maintain civility and decency but I think it would be the story of past in american civil life.Although he has contracted Covid19 and wish him get well soon but the damage he has conflicted to his own society is irreparable and they have to pay heavy price in the years to come.To remove rust from the society and to shine again is a laborious process.

Who won the Trump-Biden debateour experts’ verdict – THE AUSTRALIAN
SEPTEMBER 30, 2020
https://www.theaustralian.com.au/world/who-won-the-trumpbiden-debate-our-experts-verdict/news-story/634ba086d3156cb935fd4b595276c7be

The rancour engulfing America swamped the first Trump-Biden debate. This was a spiteful, chaotic, abusive, often out-of-control brawling encounter with both candidates revealing their contempt for each other.

On display was the reckless deterioration of American political life and the collapse of respect for civic life. Donald Trump and Joe Biden could barely tolerate each other exposing the raw hostility that plagues America today. There is one certainty from this debate ֠the Trump and Biden partisans will claim vindication and the divisions in America will only deepen.

Trump came to this debate ready to interrupt, harass, abuse and play the man. But he found in Biden an opponent ready to punch back ֠to brand and denigrate him, play the man in turn, and denounce Trump and all his works.

adnan-khan-kakar
عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مزید کالم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں