Attaul-Haq-Qasmi 139

آپ نے گھبرانا نہیں!

کورونا جیسے گھٹیا نسل کے مرض کی وجہ سے میں نے ڈیڑھ دو برس سے بیرون ملک اور مہینہ پندرہ دنوں سے اندرونِ ملک کوئی سفر نہیں کیا اور ٹرین کے سفر کے لئے تو بالکل ترس کر رہ گیا ہوں ۔ چنانچہ اس دوران جہاز یا ٹرین کے سفر کی کوئی روداد بھی نہیں لکھی، سو آپ ایک منٹ کے لئے یہ فرض کریں کہ میں ابھی ابھی لاہور سے وزیر آباد روانہ ہونے لگا ہوںاور بائی ٹرین جا رہا ہوں ۔بس یوں ہی سمجھیں کہ روانہ ہو چکا ہوں چنانچہ میرے گلے میں بیگ ہے اور میں اس وقت لاہور ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر کھڑاہوں اور میرے چاروں طرف انسانوں کاسمندر ہے، یہ سب لوگ کراچی سے آنے والی گاڑی کے انتظار میں کھڑے ہیں ۔یہ گاڑی وزیر آباد، جہلم اور راولپنڈی وغیرہ سے ہوتی ہوئی پشاور جائے گی ۔اس گاڑی میں کچھ مسافر کوئٹہ کے بھی ہوں گے جو روہڑی سے سوار ہوئے ہوں گے۔اسٹیشن پر جو لوگ موجود ہیں ان میں سے بیشتر تو مسافر ہیں، باقی یا تو اپنے عزیزوں کو الوداع کہنے کے لئے آئے ہیں یا اپنے کسی مہمان کو ریسیو کرنے کے لئے یہاں موجود ہیں ۔

ان لوگوں کے علاوہ پلیٹ فارم پر کتابوں، گھریلو مصنوعات اور چائے وغیرہ کے اسٹال ہیں۔ نیز یہاں پھل اور روٹی کباب بیچنے والوں کی ریڑھیاں ہیں ۔سرخ قمیضوں میں ملبوس قلی بھی اپنے کاندھوں یا ٹھیلوں پر سامان لاد کر پلیٹ فارم کے خالی کونے پُر کرنے میں مشغول ہیں۔گاڑی لیٹ ہے نہ ابھی سگنل ڈائون ہوا ہے اور نہ انائونسمنٹ کے ذریعے یہ بتایا گیا ہے کہ گاڑی کتنی لیٹ ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: -   میں اور عبداللّٰہ سائیں!

مسافروں، ان کو الوداع کہنے والوں اور اپنے عزیزوں کے استقبال کے لئے پلیٹ فارم پر موجود لوگوں کی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ بار بار اپنی کلائی پر بندھی گھڑی دیکھتے ہیں اور پھر اپنا شک دور کرنے کے لئے پلیٹ فارم کے درمیان نصب سرکاری گھڑی پر نظر ڈالتے ہیں ۔کچھ کی گھڑیاں اس گھڑی کے عین مطابق ہیں اور کچھ کی آگے پیچھے ہیں لیکن بے چینی سب کی یکساں ہے جنہوں نے اپنے عزیزوں کا استقبال کرنا ہے وہ چاہتے ہیں کہ جلدی اس کام سے فارغ ہوں تاکہ جو کام وہ چھوڑ کر ا ٓئے ہیں واپس جاکر جلدی سے نمٹائیں، اسی طرح اپنے مہمانوں کو الوداع کہنے کے لئے یہاں آئے ہوئے لوگ بھی اپنے گھروں کو لوٹنے کے لئے بے چین ہیں اور جو مسافر اسٹیشن پر موجود ہیں وہ بھی جلد از جلد منزل مقصود تک پہنچنا چاہتے ہیں تاہم ان لوگوں کی بے چینی سب سے زیادہ ہے جو کراچی سے آنے والے اس گاڑی میں کل صبح سے سوار ہیں۔ انہوں نے سارا دن سفر کیا ہے، ساری رات سفر کیا ہے اور اب وہ رت جگے سے بے حال اور تھکن سے نڈھال اس منزل تک پہنچنے کے لئے بے تاب ہیں جس کے لئے انہوں نے اس قدر صعوبتیں اٹھائی ہیں، بے چین صرف یہ اصلی مسافر یا نقلی مسافر ہی نہیں بلکہ ان کے درمیان موجود خوانچہ فروش ، قلی اور اسٹالوں والے بھی ہیں ۔ان سب کو گاڑی کا انتظار ہے، گاڑی آئے گی تو یہ رزق حلال کمائیں گے مگر گاڑی نہیں آ رہی۔ انائونسمنٹ کسی کی سمجھ میں نہیں آتی، پلیٹ فارم پر انسانوں کا ہجوم ہے اور وہ ایڑیاں اٹھا اٹھا کر اس سمت دیکھ رہے ہیں جدھر سے گاڑی آنی ہے ۔کچھ دیر پہلے لوگوں میں ہلچل سی ہوئی تھی اور وہ اپنا اپنا سامان اٹھا کر ذرا آگے کو سرک آئے تھے کیونکہ انہیں انجن کی وسل سنائی دی تھی مگر اب ان کے چہرے پھر لٹک گئے ہیں کیونکہ وہ گاڑی نہیں تھی کالے دیو جیسا انجن تھا جو دھواں اگلتااور آگ برساتا ان کے قریب سےگزر گیا۔ایک بار گاڑی بھی دکھائی دی تھی مگر وہ پٹری بدل کر دوسرے پلیٹ فارم پر جاکر کھڑی ہوگئی۔وہ گاڑی بھی اپنی منزل کو روانہ ہو چکی ہے اس کے بعد بھی کئی گاڑیاں ہیں مگر وہ سب دوسرے پلیٹ فارموں پر جاکر رکی گئیں اور پھر اپنی اگلی منزل کے لئے روانہ ہو ۔کالے دیو جیسا انجن بھی اس دوران کئی دفعہ چیختا چلاتا ادھر سے گزرا مگر اس پلیٹ فارم کے مسافروں کو انجن کا نہیں گاڑی کا انتظار ہے ،اپنی اس گاڑی کا جس کے لئے وہ اپنےاپنے گھروں کو چھوڑ کر یہاں آئے ہیں گاڑی ابھی تک نہیں آئی !

یہ بھی پڑھیں: -   تبدیلی کی ہوائیں

میں پلیٹ فارم پر گلے میں بیگ لٹکائے کھڑا ہوں۔میرے سامنے دھواں چھوڑتے ہوئے انجن ہیں یا اس پلیٹ فارم کے ’’اطراف‘‘ میں واقع دوسرے ’’پلیٹ فارم‘‘ ہیں جہاں میں ہوں وہاں لوگ ایڑیاں اٹھا اٹھا کر اس گاڑی کی راہ تک رہے ہیں جو انہیں ان کی منزل مقصود تک پہنچائے گی میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوں اور مجھے یقین ہے یہ گاڑی ضرور آئے گی۔

گاڑی ضرور آئےگی مگر اس گاڑی کے آنے سےپہلے میں نےسفر کی روداد لکھ دی ہے اس سفر کی جو میں نے نہیں کیا ۔اگر اس روداد میں کوئی خامی ہے کسی جگہ کوئی تضاد نظر آتا ہے واقعات میں ہم آہنگی نہیںہے ،کردار گڈمڈ ہو گئے ہیں یا کہیں صورتحال پوری طرح واضح نہیں ہو ئی تو اس پر کسی کو رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ جوسفر نہ کیا ہو اس کی روداد ایسی ہی ہوتی ہے اور ہاں اس بدترین صورتحال کے باوجود آپ نےگھبرانا نہیں!

Attaul-Haq-Qasmi
عطاءالحق قاسمی

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں