adnan-khan-kakar 140

ایک سرکاری شودر لڑکی اور ہائی کورٹ کے فیصلے کی اوقات

”میں ایک ایسی شخصیت ہوں جس نے اپنے سکول کی فیس دینے کی خاطر وہاں بطور خاکروب کام کیا۔ میں نے اپنے تعلیمی اخراجات اٹھانے کے لیے فٹ بال سیے۔ میں نے ٹیوشنیں پڑھائیں۔ اور پنجاب یونیورسٹی کے لا کالج جیسے اعلیٰ ادارے سے گریجویشن کی۔ میں نے مقابلہ کیا اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ کے طور پر منتخب ہوئی۔ ازراہ کرم نوٹ کریں کہ بورڈ آف ریونیو نے یہ اسامی مشتہر کی تھی اور میں نے خود کو بورڈ پر مسلط نہیں کیا تھا۔ اب جبکہ میں سات برس سے سروس کر رہی ہوں اور دوسری کسی جاب کے لیے اوور ایج ہو چکی ہوں، تو میں نے اس حقیقت کو جانا کہ صوبائی انتظامیہ میں اور خاص طور پر میرے محکمے میں میری حیثیت ایک شودر سے بھی بدتر ہے۔ اس لیے میں سسٹم کا اعتبار کھونے کے بعد استعفیٰ دے رہی ہوں جو فوری طور پر نافذ العمل ہے۔ میں درخواست کرتی ہوں کہ میرا استعفیٰ منظور کیا جائے اور مجھے ایکسپرینس لیٹر جاری کیا جائے“ ۔

آج سوشل میڈیا پر ایک ایسی خاتون کا استعفیٰ دکھائی دیا جو شدید مشکلات کا سامنا کر کے لینڈ ریکارڈ کے محکمے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے تک پہنچی تھیں، پھر دو برس کے انتظار اور جدوجہد کے بعد بھی ریگولر نہیں ہوئیں، تو پچھلے پانچ برس سے وہ اعلیٰ سرکاری افسران کے دفاتر میں دھکے کھانے اور لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ اپنے حق میں ہونے کے باوجود مایوس ہو کر استعفیٰ دے بیٹھیں۔

وہ استعفے میں لکھتی ہیں کہ انہوں نے 2014 میں بورڈ آف ریونیو میں ملازمت شروع کی، 2016 میں ریگولر ہونے کی درخواست دی، لاہور ہائی کورٹ کا دروازہ 2017 میں کھٹکھٹایا، حال ہی میں ہائی کورٹ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا اور حکم دیا کہ انہیں ایک ماہ کے اندر اندر ریگولر کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: -   الیکشن کمیشن یا غریب کی جورو

وہ لکھتی ہیں کہ جس بات نے انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا وہ صوبے کی اعلیٰ انتظامیہ کی جانب سے صوبے کی سب سے بڑی عدالت کے احکامات کی حکم عدولی اور اسے خاطر میں نہ لانا تھی۔

اس استعفے پر اب افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ ایک لڑکی جو ایک طویل جدوجہد کے بعد زندگی سنوارنے میں کامیاب ہوئی تھی، اب خود کو سرکاری شودر سمجھ کر سسٹم سے نکل رہی ہے۔ یہ وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے تو لمحہ فکریہ ہے ہی، لاہور ہائی کورٹ کے لیے بھی سوچنے کا مقام ہے کہ کیا وجہ ہے کہ اس کے احکامات کو کسی خوف کے بغیر اک بے نیازی سے یوں خاک میں اڑایا جا رہا ہے۔ کیا انتظامیہ کی نظر میں اس کے فیصلے کی اب یہ اوقات رہ گئی ہے کہ اسے قابل توجہ  ہی نہ  سمجھا جائے؟

یوں سخت جدوجہد کر کے اپنی زندگی بدلنے والے افراد، خاص طور پر خواتین کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے، نہ کہ انہیں سسٹم سے مایوس کر کے واپس اندھیروں میں دھکیل دیا جائے۔ مناسب ہو گا کہ بورڈ آف ریونیو کے حکام، وزیراعلیٰ پنجاب، اور لاہور ہائی کورٹ اس معاملے کی تحقیق کریں اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔

ashi-asif
adnan-khan-kakar
عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مزید کالم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں.

یہ بھی پڑھیں: -   چلو چلو کابل چلو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں