columns of Javed Chaudhary 135

ایک صفت پانچ اختیارات

میرے ایک دوست کل وقتی یوتھیا ہیں‘ یہ 1980 کی دہائی سے عمران خان کے شیدائی ہیں‘ یہ وزیراعظم کی ہر تقریر ایاک نعبد وایاک نستعین سے لے کر آخر تک سنتے ہیں۔

میں جب بھی حکومت کے بارے میں لکھتا ہوں مجھے سب سے پہلے ان کا فون آتا ہے اور یہ کسی قسم کی رو رعایت کے بغیر میری کلاس لے لیتے ہیں‘ یہ اکثر مجھ سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں‘ یہ کل میرے پاس آئے اور سیدھا سادا سوال کیا ’’تم کیوں یہ سمجھتے ہو ہم کسی بڑے حادثے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور دوسرا تم عمران خان کو متکبر کیوں کہتے ہو‘ مجھے یہ شخص ہر لحاظ سے سیدھا‘ سادا اور سچا محسوس ہوتا ہے‘‘۔

میں نے عرض کیا ’’میں نے آج تک عمران خان کو جھوٹا‘ دوغلہ یا پیچیدہ انسان نہیں سمجھا‘ میں کسی کے جھوٹ یا سچ کا فیصلہ کرنے والا کون ہوتا ہوں‘ یہ فیصلہ صرف اﷲ کی ذات نے کرنا ہے‘ خدا نے انھیں عزت دی‘ یہ انھیں مزید دے‘ میں ان کی عزت کے راستے میں رکاوٹ بننے والا کون ہوتا ہوں؟‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’پھر مجھے آپ کے ایشو کی سمجھ نہیں آتی‘ آپ پتا نہیں میرے لیڈر کے اتنے خلاف کیوں ہیں؟‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا ’’توبہ توبہ میری کیا مجال ہے۔

کیا آپ اﷲ کے سسٹم کو نہیں جانتے؟‘‘ وہ بولے ’’کیا سسٹم ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’دنیا میں ہر بااختیار شخص اپنے اختیارات لوگوں میں تقسیم کرتا ہے‘ مثلاً آپ امریکا کے صدر کو لے لیجیے‘ یہ دنیا کا موسٹ پاور فل پرسن ہے‘ امریکی قوم اسے منتخب کرتی ہے اور ملک کے سارے اختیارات اس کے حوالے کر دیتی ہے‘ صدر حلف لینے کے بعد اپنی کابینہ بناتا ہے اور اپنے اختیارات کابینہ میں تقسیم کر دیتا ہے‘ یہ ملک کا بجٹ بنانے کا اختیار وزیر خزانہ (سیکریٹری فنانس) ‘دفاع کا اختیار وزیر دفاع‘ خارجہ امور کاا ختیار سیکریٹری اسٹیٹ‘داخلی امور کا اختیار سیکریٹری آف انٹیریئر‘زرعی امور کا اختیار سیکریٹری ایگری کلچر‘ کامرس کا اختیار سیکریٹری آف کامرس اور ہیلتھ کا اختیار سیکریٹری ہیلتھ کو دے دیتا ہے اور یہ لوگ صدر کے ’’بی ہاف‘‘ پر اپنے اپنے محکمے چلاتے ہیں لیکن صدر اس تقسیم کے دوران کچھ اختیارات اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔

یہ وہ اختیارات کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرتا مثلاً یہ کسی بھی وزیر کو کسی بھی وقت فارغ کر سکتا ہے‘ یہ ان کے پورٹ فولیو تبدیل کر سکتا ہے‘یہ بل کلنٹن یا جارج بش کی طرح عراق اور افغانستان پر حملے کا فیصلہ کر سکتا ہے اور یہ جوبائیڈن کی طرح افغانستان سے اپنی فوجیں واپس لانے کا حکم بھی دے سکتا ہے‘‘ میں خاموش ہو گیا‘ میرے دوست کرسی پر کروٹ لے کر بولے ’’ لیکن امریکی صدر کا اﷲ کے سسٹم کے ساتھ کیا تعلق ہے؟‘‘ میں نے مسکرا کر جواب دیا ’’بھائی جان بڑا گہرا تعلق ہے‘ اﷲ تعالیٰ نے جب انسان کو اپنا نائب نامزد کیا تھا تو اسے ہزاروں اختیارات دے دیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: -   انتیسویں پارے کا خلاصہ

ہم انسان پاتال میں بھی جھانک سکتے ہیں اور کہکشائیں اور ستارے بھی گن سکتے ہیں‘ ہم نے دنیا کے 95 فیصد امراض کے علاج بھی دریافت کر لیے ہیں اور ہم مریخ پر بھی اترنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں‘ یہ ساری صلاحیتیں ہمیں اﷲ نے بخشی تھیں لیکن اﷲ تعالیٰ نے ہمیں اختیارات بانٹتے وقت پانچ اختیار اپنے پاس رکھ لیے تھے‘ اس نے یہ اختیار ات کسی انسان کو نہیں دیے اور یہ پانچ اختیار ہیں‘ زندگی‘ موت‘ رزق‘ عزت اور ذلت کا اختیار‘ یہ اختیارات صرف اور صرف اﷲ کے پاس ہیں‘‘ میں رکا‘ لمبا سانس لیا اور عرض کیا ’’حضرت موسیٰ ؑنے ایک دن اﷲ تعالیٰ سے پوچھا تھا یا باری تعالیٰ کیا آپ کو کبھی ہنسی بھی آتی ہے۔

اﷲ تعالیٰ نے فرمایا‘ ہاں مجھے دو وقتوں میں بہت ہنسی آتی ہے‘ میں جب کسی کو کچھ دینا چاہوں اور دنیا اس کو روکنا چاہے تو مجھے بہت ہنسی آتی ہے اور دوسرا میں جب کسی سے کچھ چھیننا چاہوں اور دنیا وہ اس کے پاس رکھنا چاہے تو بھی مجھے بہت ہنسی آتی ہے‘‘ میں نے سانس لیا اور عرض کیا ’’ ہم میں سے کوئی شخص‘ کسی شخص کو اس وقت تک نہیں مار سکتا جب تک اﷲ نہ چاہے‘ ہم کسی کو اس وقت تک بچا بھی نہیں سکتے جب تک اﷲ نہ چاہے‘ رزق کا اختیار بھی صرف اور صرف اﷲ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور یہ جب کسی کو عزت دیتا ہے تو پھر کوئی اس کو بے عزت نہیں کر سکتا ہے اور یہ جب کسی کو ذلیل کرتا ہے تو پھر کوئی اسے عزت نہیں دے سکتا‘ اﷲ نے یہ پانچوں اختیار اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں‘‘ میں خاموش ہو گیا۔

وہ حیرت سے میری طرف دیکھتے رہے اور پھر آہستہ سے بولے ’’تم ٹھیک کہہ رہے ہو‘ یہ واقعی اﷲ کے اختیارات ہیں‘‘ میں نے عرض کیا ’’اور میرے اﷲ میں لاکھوں‘ کروڑوں‘ کھربوں خوبیاں ہیں لیکن اس نے ان کھربوں خوبیوں کو ہماری سہولت کے لیے 99 کے ہندسے میں تبدیل کر دیا ‘ یہ اﷲ کی 99 صفات ہیں‘ اﷲ تعالیٰ نے یہ صفات بھی انسانوں کو دے دیں‘ ہم سب میں اﷲ کی 99 صفات تھوڑی تھوڑی موجود ہیں، بس ایک صفت ایسی ہے جو اﷲ نے صرف اپنے پاس رکھی اور وہ صفت ہے تکبر‘یہ وہ واحد صفت ہے جو اﷲ تعالیٰ نے کسی انسان کو نہیں دی چناں چہ ہم جتنے بھی بلند‘ بڑے اور مضبوط ہو جائیں عاجزی ہم انسانوں پر فرض ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   پندرھویں پارے کا خلاصہ

ہم اﷲکی اس کائنات میں جھک کر ہی سلامت رہ سکتے ہیں‘‘ میں خاموش ہو گیا‘ وہ تھوڑی دیر میری طرف دیکھتے رہے اور پھر بولے ’’میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں‘ ‘ میں نے عرض کیا ’’میں آپ کو حضرت موسیٰ ؑ کا ایک اور واقعہ سناتا ہوں‘قارون حضرت موسیٰ ؑکے حکم سے جب زمین میں دھنسنے لگا تو اس نے حضرت موسیٰ ؑسے معافی مانگنا شروع کر دی لیکن حضرت موسیٰ ؑاس کی فنا کے احکامات جاری کرتے رہے‘ وہ جب زمین میں غائب ہو گیا تو وحی اتری اور اﷲ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑسے فرمایا‘ یہ بے وقوف تھا‘ یہ آخری وقت میں بھی تم سے معافی مانگتا رہا‘ مجھے میری ستاریت کی قسم یہ اگر ایک بار مجھ سے معافی مانگ لیتا تو میں اسے کبھی زمین میں نہ دھنسنے دیتا‘ ہمارا اﷲ اتنا بڑا ہے۔

یہ قارون کے عجز کو بھی مان لیتا ہے لیکن یہ تکبر کسی کا برداشت نہیں کرتا‘ یہ اکڑ اور تنی ہوئی گردن کسی کی پسند نہیں کرتا‘‘ میں پھر خاموش ہو گیا‘ وہ فوراً کرسی پر پہلو بدل کر بولے ’’میں نے لیکچر سن لیا‘ تم اب مطلب کی طرف آؤ‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا ’’عمران خان بہت اچھے ہوں گے لیکن ان میں رعونت ہے‘ یہ جمعرات یکم جولائی کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس تک میں شریک نہیں ہوئے‘ یہ اپنی نفرت کو اس لیول پر لے گئے ہیں جہاں یہ مخالفوں کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں‘ اﷲ کی اس کائنات میں اﷲ ڈوبتے ہوئے فرعون اور دھنستے ہوئے قارون کے بارے میں بھی اچھا سوچتا ہے۔

ریاست مدینہ میں ابوسفیان حالت کفر میں بھی جب مدینہ آتے ہیں اور اپنی صاحب زادی اُمِ حبیبہؓ سے ملاقات کے لیے رسول اللہ ﷺ کے گھر جاتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ انھیں منع نہیں کرتے‘ نبی اکرمؐ اپنے عزیز ترین چچا حضرت امیر حمزہؓ کے قاتل وحشی کو بھی معاف کر کے مکہ میں قیام کی اجازت دے دیتے ہیں‘ یہ عبداللہ بن ابی جیسے منافق کی نماز جنازہ بھی پڑھاتے ہیں‘ اسے تدفین کے لیے اپنا کرتا مبارک بھی دیتے ہیں اور اس کے لیے مغفرت کی دعا بھی کرتے ہیں جب کہ ہمارے وزیراعظم کشمیر کا ایشو ہو‘ کورونا کا ایشو ہو‘ گلگت بلتستان کا ایشو ہو یا پھر اب قومی سلامتی کا ایشو تھا‘ یہ اپنے سیاسی مخالفوں کے ساتھ بیٹھنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: -   دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام رہ گیا

کیا یہ تکبر‘کیا یہ رعونت نہیں؟‘‘ میں خاموش ہوا اور پھر عرض کیا ’’او رآپ باقی معاملات میں بھی دیکھ لیں ‘اﷲ نے اگر عمران خان کو عزت دی تودوسروں کو بھی اسی خدا نے عزت کے قابل سمجھا لیکن یہ ان سے مسلسل عزت کھینچنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ یہ اپنے سیاسی مخالفوں کو بے عزت کرنے کا کوئی موقع ضایع نہیں کرتے‘ یہ پانچ پانچ ہزار لوگوں کو لٹکا بھی دینا چاہتے ہیں اور یہ جس سے چاہتے ہیں اس سے اس کا روزگار اور رزق بھی چھین لیتے ہیں‘ اللہ نے ان کو وزیراعظم بنا دیا کیا یہ اب مزید کیا بننا چاہتے ہیں۔‘‘

میرے دوست بے تاب ہو کر کرسی پر کروٹیں بدلنے لگے‘ میں نے انھیں ہاتھ کے اشارے سے روکا اور عرض کیا ’’اپوزیشن کے سارے لیڈر مجرم ہو سکتے ہیں‘ آپ عدالتوں میں ان کے جرم ثابت کریں اور سزائیں دیں لیکن آپ کو انھیں بے عزت کرنے کاحق کس نے دیا ہے؟ آپ اگر نریندر مودی کو خط لکھ سکتے ہیں‘ اسے فون کر سکتے ہیں اور آپ اگر پانچ پانچ ماہ جوبائیڈن کی کال کا انتظار کر سکتے ہیں تو آپ ان لوگوں سے ہاتھ کیوں نہیں ملانا چاہتے جنھوں نے آپ سے زیادہ ووٹ بھی لیے اور جو ازلی سیاسی مخالف ہونے کے باوجود ملک اور جمہوریت کے لیے اکٹھے بھی بیٹھ جاتے ہیں۔

میں دل سے سمجھتا ہوں یہ رویہ‘ یہ رعونت کسی شخص‘ ملک اور پارٹی تینوں کے لیے خطرناک ہوتی ہے اور تینوں کو اس کی سزا بھگتنا پڑتی ہے لہٰذا میری درخواست ہے ہم اگر انسان ہیں تو پھر ہمیں شرف انسانیت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے کیوں کہ دنیا میں ہر شخص مرنے کے بعد مٹ جاتا ہے لیکن اﷲ تعالیٰ کسی فرعون کو مرنے کے بعد بھی مرنے نہیں دیتا‘ یہ اسے عبرت بنا کر عجائب گھروں میں سجا دیتا ہے۔‘‘

columns of Javed Chaudhary
جاوید چودھری

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں