Allama Ibtisam Ilahi Zaheer 178

اسلام ایک مکمل ضابطہ ٔ حیات!

راجا منور صاحب چکوال سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے ایک سینئر سیاسی رہنما ہیں۔ آپ ماضی میں پنجاب کی صوبائی کابینہ کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ راجا صاحب اپنی عمر کے 84 برس گزار چکے ہیں اور حالیہ ایام میں اپنی یادداشتوں پر مبنی ایک مفصل کتاب لکھنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ چند روز قبل راجا صاحب نے مجھ سے رابطہ کیا اور بعض اہم اُمور پر تبادلہ ٔ خیال کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ میں نے راجا صاحب کو خوش آمدید کہا۔ راجا صاحب کل دوپہر کو میرے گھر تشریف فرما ہوئے۔ خوبصورت باوقار لباس میں ملبوس، پُروقار چہرے کے مالک راجا منور کی شخصیت میں غیر معمولی جاذبیت اورکشش محسوس ہو رہی تھی۔ آپ کی گفتگو سے آپ کا ذوقِ مطالعہ بالکل واضح تھا۔ آپ جہاں پر اپنی سیاسی یادداشتوں کو قلمبند کرنا چاہتے تھے وہیں پر دینِ اسلام کے حوالے سے بھی بعض اہم اُمور پر لکھنے کے خواہش مند تھے۔ اس موقع پر اسلامی تعلیمات کے دائرہ کار کے حوالے سے ان کے ساتھ تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ جسے میں قارئین کے سامنے بھی رکھنا چاہتا ہوں:
عصری معاشروں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسلام کے حوالے سے اس بات کا گمان رکھتی ہے کہ اسلام عقائد، اعمال اور اخلاقیات کے حوالے سے انسانوں کی انفرادی اصلاح کا فریضہ انجام دیتا ہے جبکہ اس کے مدمقابل ایک دوسری رائے یہ ہے کہ اسلام انفرادی اصلاح کے ساتھ ساتھ اجتماعی سطح پر بھی انسانوں کی رہنمائی کا فریضہ بطریق احسن انجام دیتا ہے۔ اس حوالے سے جب ہم قرآنِ مجید کی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یقینا قرآنِ مجید نے انسانوں کے عقائد،اعمال اور اخلاق کی انفرادی اصلاح پر بھی زور دیا ہے اور اس بارے میں قرآنِ مجید میں مختلف مقامات پر بڑی واضح آیات موجود ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ انعام کی آیات 151 سے 153میں ارشاد فرماتے ہیں: ”کہہ دیجئے آؤ ! میں پڑھتاہوں جو حرام کیا ہے تمہارے رب نے تم پر‘ یہ کہ نہ شریک ٹھہراؤ اس کے ساتھ کسی چیز کو، اور والدین کے ساتھ احسان کرو اور نہ قتل کرو اپنی اولاد کو مفلسی (کے ڈر) سے۔ ہم (ہی) رزق دیتے ہیں تمہیں اور اُن کو بھی۔ اور مت قریب جاؤ بے حیائی کے (کاموں کے) جو ظاہر ہیں اُن میں سے اور جو چھپے ہیں۔ اور نہ قتل کرو اس جان کو جسے حرام کیا اللہ نے مگر حق کے ساتھ، یہ (سب باتیں) اس نے وصیت کی ہے تمہیں تاکہ تم سمجھ لو۔ اور مت قریب جاؤ یتیم کے مال کے مگر اس (طریقے) سے جو (کہ) سب سے اچھا ہو یہاں تک کہ وہ پہنچ جائے اپنی پختگی کو اور تم پورا کرو ماپ اور تول انصاف کے ساتھ۔ نہیں ہم تکلیف دیتے کسی نفس کو مگر اس کی طاقت کے مطابق۔ اور جب تم بات کرو تو انصاف کرو (خواہ) اس حال میں (کہ) اگرچہ ہو (مدمقابل)قرابت والا اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ یہ (اللہ نے) وصیت کی ہے تمہیں تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ اور بے شک یہ میرا راستہ ہے سیدھا تو تم پیروی کرو اس کی، اور مت پیروی کرو (اور) راستوں کی، پس الگ کر دیں گے تم کو اُس کے راستے سے، یہ (اللہ نے) وصیت کی ہے تمہیں تاکہ تم بچ جاؤ‘‘۔
ان آیاتِ مبارکہ پر غور کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ان آیات میں دیے گئے احکامات کا تعلق فرد کے ساتھ ہے۔ اسی طرح جب ہم سورہ بنی اسرائیل کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہاں پر بھی انسانوں کی اصلاح والی خوبصورت اور پُر حکمت آیات موجود ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ بنی اسرائیل کی آیات 26سے 37میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اور دو قرابت والے کو اس کا حق اور مسکین کو اور مسافر کو (بھی) اور نہ فضول خرچی کرو (اضافی)۔ بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔ اور شیطان اپنے رب کا بہت ناشکرا ہے۔ اور اگر تو ضرور اعراض کرے ان (مساکین، رشتہ داروں، مسافروں وغیرہ) سے تلاش کرتے ہوئے اپنے رب کی رحمت (کہ) تو امید رکھتا ہو اس کی، تو کہہ ان سے آسان (نرم) بات۔ اور نہ کر اپنے ہاتھ کو بندھا ہوا اپنی گردن سے اور نہ کھول دے اسے پوری طرح کہ بیٹھ رہے گا تو ملامت کیا ہوا تھکا ماندہ۔ بے شک تیرا رب (ہی) فراخ کرتا ہے رزق کو جس کے لیے وہ چاہتا ہے اور وہی تنگ کرتا ہے بلاشبہ وہ ہے اپنے بندوں کو خوب خبر رکھنے والا (اور ان کو) خوب دیکھنے والا۔ اور تم مت قتل کرو اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے‘ ہم ہی رزق دیتے ہیں انہیں اور تمہیں بھی، بے شک ان کا قتل بہت بڑاگناہ ہے۔ اور تم مت قریب جاؤ زنا کے بے شک وہ بے حیائی اور برا راستہ ہے۔ اور مت قتل کرو اس جان کو جسے حرام کر دیا اللہ نے مگر حق کے ساتھ، اور جو قتل کیا گیا مظلومی کی حالت میں تو یقینا ہم نے کر دیا اس کے ولی کے لیے غلبہ۔تو نہ وہ زیادتی کرے قتل کرنے میں بے شک وہ مدد دیا ہوا ہے۔ اور مت قریب جاؤ یتیم کے مال کے مگر (اس طریقے) سے جو بہت ہی بہتر ہو یہاں تک کہ وہ پہنچ جائے اپنی جوانی کو۔ اور پورا کرو (اپنے) عہد کو‘ بے شک عہد (کے بارے میں) باز پرس ہو گی۔ اور تم پورا کرو ماپ کو جب تم ماپو۔ اور تم وزن کرو سیدھے ترازو کے ساتھ‘ یہی بہتر ہے اور بہت اچھا ہے انجام کے لحاظ سے۔ اور نہ آپ پیچھا کریں (اس کا ) جس کا نہیں آپ کو کوئی علم، بے شک کان اور آنکھ اور دل‘ ہر ایک ان میں سے ہو گی اس کے بارے میں باز پرس۔ اور مت چلو زمین میں اکڑ کر بے شک تو ہرگز نہیں پھاڑ سکے گا زمین کو اور ہر گز نہیں تو پہنچ سکے گا پہاڑوں (کی چوٹی) تک لمبا ہو کر‘‘۔
اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجید میں نماز، روزے، زکوٰۃ اور حج سے متعلقہ احکامات کا بھی نزول فرمایا جن پر بطورِ فرد عمل کرنا چنداں مشکل نہیں۔اس کے ساتھ ساتھ قرآنِ مجید نے اجتماعی حوالے سے بھی انسانوں کی کامل رہنمائی کی ہے۔ قرآنِ مجید میں اُمور ریاست کو چلانے کے اصول اور ضابطے بھی واضح کر دیے گئے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ حج کی آیت 41میں ارشاد فرماتے ہیں: ”وہ لوگ جنہیں اگر ہم اقتدار دیں زمین میں (تو) وہ نماز قائم کریں اور ادا کریں زکوٰۃ اور حکم دیں نیکی کا اور وہ رکیں برائی سے اور اللہ ہی کے اختیار میں ہے تمام اُمور کا انجام دینا‘‘ ۔ اسی طرح قرآن میں بہت سے اہم قوانین کے حوالے سے بھی آیات کا نزول ہوا۔ جن کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان آیات پر عمل کرنے کے لیے ایک نظم اجتماعی یا ریاست کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ قتل کی سزا کے حوالے سے سورہ بقرہ کی آیت 178میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو‘ فرض کر دیا گیا ہے تم پر قصاص لینا مقتولین (کے بارے) میں آزاد (قاتل) کے بدلے آزاد (ہی قتل ہو گا) اور غلام (قاتل) کے بدلے غلام (ہی قتل ہوگا) اور عورت کے بدلے عورت (ہی قتل کی جائے گی) پس جو (کہ) معاف کر دیا جائے اس کو اپنے بھائی کی طرف سے کچھ بھی تو (لازم ہے اس پر) پیروی کرنا دستور کے مطابق اور ادائیگی کرے اس کو اچھے طریقے سے یہ (دیت کی ادائیگی) تخفیف ہے تمہارے رب کی طرف سے اور رحمت ہے‘ پس جو زیادتی کرے اس کے بعد (بھی) تو اس کے لیے دردناک عذاب ہے‘‘۔
اسی طرح غیر شادی شدہ زانیوں کی سزا کے حوالے سے سورہ نور کی آیت 2میں ارشاد ہوا: ”زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد پس کوڑے مارو ان دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے اور نہ پکڑے تمہیں ان دونوں سے متعلق نرمی اللہ کے دین میں اگر ہو تم ایمان لاتے اللہ اور یوم آخرت پر اور چاہیے کہ حاضر ہو ان دونوں کی سزا کے وقت مومنوں میں سے ایک گروہ‘‘۔ اسی طرح سورہ نور ہی کی آیت 4میں پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے والوں کے حوالے سے ارشاد ہوا: ”اور وہ لوگ جو تہمت لگائیں پاکدامن عورتوں پر پھر نہ لائیں چار گواہوں کو تو کوڑے مارو انہیں اسّی کوڑے اور نہ قبول کرو ان کی گواہی کو کبھی بھی اور وہی لوگ نافرمان ہیں‘‘۔ جب ہم سورہ مائدہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں چور کے ہاتھ کاٹنے کی سزا کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ مائدہ کی آیت نمبر 38میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اور چور مرد اور چور عورت پس کاٹ دو ان دونوں کے ہاتھ بدلہ ہے اس کا جو ان دونوں نے کیا (اور) عبرت ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ غالب، حکمت والا ہے‘‘۔
قتل، زنا، قذف اور چوری سے متعلق ان آیاتِ مبارکہ پر غور کرنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان سزاؤں کے اطلاق کے لیے ایک نظم اجتماعی یا ریاست کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اگر ریاست موجود نہ ہوتو ان احکامات کو انفرادی طور پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح جب ہم آیاتِ جہاد پر غور کرتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جہاد کرنے کے لیے بھی ایک ریاست یا نظم اجتماعی کا ہونا بہت ضروری ہے۔ چنانچہ قرآن مجیدکے بغور مطالعہ کے بعد یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اس پر چل کر ہی ہم دنیا وآخرت کی کامیابیوں سے ہمکنار ہو سکتے ہیں۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر دین پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم دنیا وآخرت میں سربلند ہوسکیں، آمین!

یہ بھی پڑھیں: -   کنٹی نیوٹی
Allama Ibtisam Elahi Zaheer
علامہ ابتسام الہی ظہیر

مصنف کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں