adnan-khan-kakar 147

برطانیہ کہیں ڈرون حملے کی اجازت ہی نہ دے دے

ہمارے ہینڈسم وزیراعظم نے جو کرپٹ نہیں اور اسی وجہ سے دیگر اقوام کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتے ہیں، قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ”ہمارا تیس سال سے بیٹھا ہوا ہے لندن میں ایک دہشت گرد۔ اس کو ڈرون ماریں گے تو کیا وہ اجازت دے دیں گے ہمیں؟ اب سوچیں اگر انگلینڈ میں ہم ڈرون اٹیک کر دیں اس کے اوپر تو کیا وہ اجازت دیں گے ہمیں؟ اگر وہ نہیں اجازت دیں گے تو ہم نے کیوں اجازت دی؟“ مطالبہ تو بالکل جائز ہے۔ اگر برطانیہ نے باری لی ہے تو ہمیں بھی باری دے، باری لے کر بھاگ جانا تو انگریزی محاورے کے مطابق کرکٹ نہیں ہے۔

عمران خان سے زیادہ مغرب کو کوئی نہیں جانتا، انہیں علم ہے کہ پارلیمان میں کی گئی تقاریر کو مغرب بہت سنجیدگی سے لیتا ہے۔ مثال کے طور پر وزیر ہوابازی غلام سرور خان ہی کی تقریر دیکھ لیں جسے سن کر یورپ نے پاکستانی ہوابازوں اور پی آئی اے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ کپتان کی ڈرون تقریر کو بھی مغرب سنجیدگی سے لے گا اور اس مطالبے پر سنجیدگی سے غور کرے گا۔
ik-drone
لیکن ایک وسوسہ دل میں کھٹکتا ہے۔ برطانیہ نے ہاں کہہ دیا تو مصیبت پڑ جائے گی کہ کراچی سے لندن جانے والا ڈرون ہم کہاں سے لائیں؟ ایسا تو شاید امریکہ کے پاس بھی نہیں ہو گا کہ ساڑھے چھے ہزار کلومیٹر دور جا کر حملہ کرے اور واپس آ جائے۔ ورنہ وہ آدھے سے بھی کم راستے میں موجود اپنے عربی یا قطری ائر بیس سے ہی ڈرون اڑا کر حملے کر دیتا ہم سے ائر بیس نہ لیتا۔

یہ بھی پڑھیں: -   رسوائی کا سفر

ایک ضمنی سا معاملہ یہ بھی ہے کہ پاکستان اور برطانیہ ہمسائے نہیں ہیں، بیچ میں درجن بھر ممالک پڑتے ہیں۔ اب اگر ہم نے پاکستان سے ڈرون اڑا کر برطانیہ میں موجود دہشت گرد مارنا ہے تو ان درجن بھر ممالک کا تعاون درکار ہو گا کہ ہمیں اپنی فضائی حدود استعمال کرنے دیں اور برطانیہ پر حملے میں ہم سے تعاون کریں۔ ویسے تو ان میں سے آدھے ہمارے برادر اسلامی ممالک ہیں مگر وہ ہمیں ادھار تیل تک نہیں دیتے تو مفت ہوا کہاں دیں گے۔

آگے جا کر پھر ہالینڈ، بیلجیم، جرمنی اور فرانس سے پالا پڑے گا۔ جرمنی وغیرہ کا تو ہم کہہ نہیں سکتے مگر فرانس کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ اس کی نظر میں کپتان کی بہت قدر ہے۔ کپتان کے تخت سنبھالتے ہی فرانسیسی صدر میکرون نے فون کیا تھا مگر کپتان نے سننے سے انکار کر دیا کہ میں ابھی اینکروں سے بات کر رہا ہوں۔ فرانس ویسے بھی لبیک کے دھرنے کے بعد سے خوفزدہ ہے اور ان دنوں ویسے ہی پاکستان کا بہت زیادہ خیال کر رہا ہے، خاص طور پر فیٹف اور جی ایس پی پلس وغیرہ کے معاملات میں۔ کپتان نے حکم دیا تو وہ اپنی فضائی حدود کیا اپنے فضائی اڈے تک ہمارے حوالے کر دے گا کہ لو میاں یہاں سے جہاز اڑا لو اور برطانیہ میں موجود دہشت گرد مار دو جو وہاں کا شہری ہے۔

دوسری صورت میں زمینی راستہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ادھر منڈی بہا الدین اور گجرات وغیرہ کے علاقے میں بہترین ماہرین موجود ہیں جو محض چند لاکھ روپے لیتے ہیں اور ڈنکی لگا کر بندہ یورپ پہنچا دیتے ہیں۔ گورے ان سے عاجز ہیں اور ازراہ تحقیر انہیں ہیومن سمگلر کہتے ہیں۔ ڈنکی لگانا ان ماہرین کی تکنیکی اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے کہ کسی کاغذی کارروائی میں پڑے بغیر سفر تمام کر دیا جائے۔ اگر وہ بندہ یورپ پہنچا سکتے ہیں تو ڈرون پہنچانا ان کے لیے قطعاً مشکل نہیں ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں: -   ایک صفت پانچ اختیارات

یہ مسئلہ تو حل ہو گیا۔ لندن کا فاصلہ ساڑھے چھے ہزار کلومیٹر سے گھٹ کر ڈھائی سو کلومیٹر رہ گیا۔ اب ایک نیا مسئلہ درپیش ہو گا۔

چلیں مطلوبہ دہشت گرد کو تو کپتان کے جہاز نے نشانہ بنا لیا مگر اس کے بعد یہ ریت ہی پڑ جائے گی۔ برطانیہ نے ظاہر ہے کہ کسی معاہدے کے بعد ہی پاکستان کو یہ اجازت دینی ہے۔ اس کے بعد اگر کپتان نے کرپٹ عناصر کو بھی دہشت گرد قرار دے کر نشانہ بنانے کا ارادہ کر لیا تو بہت گڑبڑ ہو جائے گی۔ پھر اگلی حکومتوں کو بھی برطانیہ میں موجود دہشت گردوں اور کرپٹ عناصر کو نشانہ بنانے کا لائسنس مل جائے گا۔ اور پاکستان میں کرپٹ ظاہر ہے کہ وہی ہوتا ہے جو اپوزیشن میں ہو۔

اب کپتان کی حکومت جانے کے بعد اگر نئی حکومت نے بھی کرپٹ عناصر کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا تو کیا ہو گا؟ کپتان کے نہ صرف بہت سے مشیر اور سپورٹر، بلکہ بچے بھی برطانیہ میں مقیم ہیں۔ ادھر اگر کپتان کی مخالف حکومت نے ڈرون چلا دیا تو غضب ہی ہو جائے گا۔ جمائمہ گولڈ اسمتھ بہت خفا ہوں گی کہ کپتانی ڈرون میں میرا لان خراب کر دیا۔ ریحام خان اپنی کتاب میں بتا چکی ہیں کہ کپتان کے دل میں جمائمہ گولڈ اسمتھ کی کتنی عزت اور دہشت ہے۔ جمائمہ کی ٹویٹ کا مقابلہ ڈرون کے لیے کرنا مشکل ہے۔

یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن اور معاملہ پریشان کر رہا ہے۔ ایک بندہ کہہ رہا ہے کہ برطانیہ نے کبھی پاکستان پر ڈرون حملہ نہیں کیا، ایسا امریکی کرتے ہیں۔ ہم نے برطانیہ کو کبھی ڈرون حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی تو پھر پارلیمان میں کھڑے ہو کر وزیراعظم کیوں پوچھ رہے ہیں کہ ہم نے برطانیہ کو کیوں اجازت دی؟ لگتا ہے کہ ہمیں بائیڈن سے بات کرنی پڑے گی کہ اجازت دو کہ ہم امریکہ پر حملہ کریں اور یوں لندن میں موجود دہشت گرد کو ماریں۔

یہ بھی پڑھیں: -   چھٹے پارے کا خلاصہ
adnan-khan-kakar
عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مزید کالم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں