columns of Javed Chaudhary 157

یہ میرے ساتھ نہیں ہو سکتا

اصفہانی خاندان کا تعلق کلکتہ سے تھا‘ یہ لوگ کلکتہ کے انتہائی متمول خاندانوں میں شمار ہوتے تھے‘ ابو الحسن کا تعلق اسی اصفہانی خاندان سے تھا‘ یہ کیمبرج میں پڑھتے تھے‘ وہاں قائداعظم کی تقریر سنی‘ قائداعظم کے عاشق ہو ئے اور باقی زندگی قائداعظم اور آل انڈیا مسلم لیگ کی خدمت میں گزار دی۔

پاکستان بنا تو ابو الحسن اصفہانی کروڑوں روپے کے اثاثوں کے ساتھ پاکستان شفٹ ہو گئے‘ ڈھاکا اور کراچی دونوںان کے کاروباری مرکز تھے‘ ان دونوں شہروں میں ان کے کارخانے‘ کوٹھیاں‘ پلازے ‘ فارم ہائوسز اور زمینیں تھیں‘ امریکا میں سفیر کی تعیناتی کا مرحلہ آیا تو قائداعظم نے اصفہانی صاحب کوپہلا سفیر بنا کر امریکا بھجوا دیا‘ یہ وہاں پانچ سال سفیر رہے‘ پھر دو سال برطانیہ میں ہائی کمشنر رہے‘ پھر ایک سال صنعت اور تجارت کے وفاقی وزیر بنے۔

بھٹو صاحب کا دور آیا تو انھیں افغانستان میں سفیر بنا کر بھیج دیا گیا‘ یہ اصفہانی صاحب کا سفارتی اور سیاسی پروفائل تھا جب کہ دوسری طرف یہ معاشی اور تجارتی میدانوں میں بھی دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرتے رہے‘ یہ صدر ایوب خان دور میں ان 22 خاندانوں میں شامل تھے جو ملک کے زیادہ تر وسائل کے مالک تھے‘ اصفہانیوں کے بارے میں کہا جاتا تھا‘ آپ پاکستان کے کسی حصے سے کوئی چیز خریدیں منافع کا ایک حصہ کسی نہ کسی ذریعے سے ہوتا ہواس اصفہانی گروپ تک پہنچ جائے گا۔
ابوالحسن اصفہانی کے تین بچے تھے‘ سکندر اصفہانی ان کے بڑے صاحبزادے تھے‘ اصفہانی صاحب سفارت اور سیاست میں مصروف رہتے تھے چنانچہ کاروبار کی ذمے داری سکندر اصفہانی کے کندھوں پر تھی‘ یہ خاندان ایوب خان اور بھٹو کے زمانے میں کھرب پتی ہو گیا‘ بھٹو صاحب نے صنعتیں قومیا لیںلیکن اس کے باوجود اصفہانی خاندان کے پاس کراچی میں اربوں روپے کی پراپرٹی تھی‘ سکندر اصفہانی نے دو شادیاں کیں‘ پہلی اہلیہ سے چار بچے ٗ دوسری اہلیہ بے اولاد تھیں۔1990کی دہائی میں جائیداد کا جھگڑا شروع ہوا۔

عدالتوں اور کچہریوں کا معاملہ چلا تو نوبت یہاں تک آ گئی وہ کراچی شہر جو کبھی اصفہانی خاندان کا گھر کہلاتا تھا اس شہر میں سکندر اصفہانی کے رہنے کے لیے کوئی چھت نہ بچی‘ سکندر اصفہانی سندھ کلب میں شفٹ ہو گئے‘ یہ دو سال کلب میں رہے اور دسمبر 2013 میں سندھ کلب میں انتقال کرگئے‘ کلب سے ان کا جنازہ اٹھا‘ جنازے میں چند لوگ شامل تھے اور ان لوگوں میں ان کے خاندان کا کوئی شخص شامل نہیں تھا‘ سکندر اصفہانی فرح ناز اصفہانی کے والد اور حسین حقانی کے سسر تھے۔

یہ دولت کی بے وفائی اور دنیا کی بے ثبانی کا ایک واقعہ ہے‘ آپ اب پاکستان کے پانچ بڑے صنعتی گروپوں میں شامل ایک دوسرے خاندان کی کہانی بھی ملاحظہ کیجیے ‘سہگل خاندان ایوب خان دور کے 22 خاندانوں میں پہلے پانچ خاندانوں میں شمار ہوتا تھا‘ یہ لوگ چکوال کے رہنے والے تھے‘ یہ دوسری جنگ عظیم سے قبل کلکتہ گئے‘ وہاں چمڑے کا کاروبار شروع کیا اور اس کاروبار پر مناپلی قائم کرلی‘ یہ لوگ قیام پاکستان کے بعد کراچی آ گئے۔

یہ بھی پڑھیں: -   مکلی میں مرگ

سہگل خاندان نے پچاس کی دہائی میں کوہ نور ٹیکسٹائل کے نام سے فیصل آباد اور راولپنڈی میں دو کارخانے لگائے‘ یہ کارخانے اتنے بڑے اور کامیاب تھے کہ آج بھی ان علاقوں کو کوہ نور کہا جاتا ہے‘ ایوب خان کا دور سہگل خاندان کے عروج کازمانہ تھا ٗسہگلوںنے یو بی ایل بنایا‘ یہ پاکستان کا تیسرا بڑا بینک تھا‘ یہ گھی کی صنعت میں آئے‘ ریان کپڑا شروع کیا‘ کیمیکل اور مشینری کے شعبے میں آئے اور عروج کو ہاتھوں میں تھام لیا‘ محمد یوسف سہگل اس خاندان کے سربراہ تھے‘ یہ 1993 میں فوت ہوئے‘ ان کا جنازہ جا رہا تھا۔

قبرستان کے قریب پہنچ کر یوسف سہگل کے ایک بیٹے نے دوسرے بیٹے پر وصیت میں ہیرا پھیری کا الزام لگا دیا‘ دوسرے نے انکار کر دیا اور یوں والد کی تدفین سے قبل خاندان میں پھوٹ پڑ گئی‘ بچے دولت اور جائیداد کے لیے لڑنے لگے ‘ آج اس خاندان کا صرف نام بچا ہے اور شاید اگلے دس بیس برسوں میں لوگ سہگل خاندان کا نام ہی بھول جائیں۔

آپ اب لاہور کے ایک فلم ساز کی کہانی بھی سنیے‘ آغا جی اے گل پاکستان کے چوٹی کے فلم ساز تھے‘ یہ پشاور کے رہنے والے تھے‘ یہ 21 سال کی عمر میں فلمی لائین میں آئے‘ صوبہ سرحد میں فلموں کے ڈسٹری بیوٹر بنے‘ جگت ٹاکیز اس وقت ہندوستان کی سب سے بڑی فلم کمپنی تھی‘ آغا گل اس کمپنی کی فلمیں ریلیز کرنے لگے‘ ایک وقت آیا جب آغا گل جگت ٹاکیز کی تمام فلمیں ریلیز کرنے لگے‘ آغا گل نے صوبہ سرحد میں ذاتی سینما بنالیے‘ یہ قیام پاکستان کے بعد لاہور شفٹ ہوئے۔

انھوں نے 1950میں ’’مندری‘‘ فلم بنائی‘ فلم کام یاب ہو گئی تو انھوں نے ایورنیو پکچرز کے نام سے فلمی کمپنی بنا لی‘ یہ بعدازاں پاکستان کے سب سے بڑے اسٹوڈیو ’’ایورنیو‘‘ میں تبدیل ہو گئی‘ملک کے درجنوں سپراسٹارزنے اس اسٹوڈیو میں آنکھ کھولی‘ آغا گل لاہور کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہونے لگے‘ گلبرگ مین بلیو وارڈ پر ان کی آٹھ کنال کی کوٹھی تھی‘ یہ 1974 میں بیمار ہوئے اور گھر تک محدود ہو کر رہ گئے‘ نعیم بخاری صاحب نے ان دنوں نئی نئی پریکٹس شروع کی تھی‘ یہ آغا گل کے صاحبزادے رفیق گل کے وکیل تھے۔

رفیق گل نے ایک دن نعیم بخاری کو ساتھ لیا اور آغا گل کے گھر پہنچ گیا‘ اداکار محمد علی بھی وہاں موجود تھے‘ بیٹے نے باپ سے جائیداد کا مطالبہ کر دیا‘ رفیق گل والد سے 8 کنال کی کوٹھی لینا چاہتا تھا‘ باپ نے بیٹے کی منت کی ’’ میں بیمار ہوں‘ میں اس حالت میں کہاں جائوں گا‘ میں آپ کو یہ کوٹھی لکھ دیتا ہوں‘ میرے مرنے کے بعد کوٹھی کا قبضہ لے لینا‘‘ بیٹے نے انکار کر دیا‘ رفیق گل کا کہنا تھا ’’ ابا جی آپ کو یہ گھر ابھی خالی کرنا ہوگا‘‘ آغا گل کے حال پر محمد علی اور نعیم بخاری دونوں کو ترس آ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: -   مولانا وحید الدین خان

محمد علی نے رفیق گل کو پیش کش کی‘ زیبا بیگم کے پاس ڈیڑھ کروڑ کے زیورات ہیں‘ آپ یہ زیورات اپنے پاس رکھ لیںلیکن آغا صاحب کو اس گھر میں رہنے دیں‘ آپ کو جب یہ گھر مل جائے گا تو آپ میرے زیورات مجھے واپس کر دینا مگرصاحبزادہ نہ مانا‘یہ معاملہ طول پکڑ گیا تو صاحبزادے نے بریف کیس سے پستول نکال لیا اور والد پر تان دیا‘ آغا گل کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ وہ اٹھ کر اندر گئے‘ چیک بک لے کر آئے‘ ساٹھ ستر لاکھ روپے کا چیک کاٹا‘ یہ چیک رفیق گل کے حوالے کیا اور بولے‘ آپ یہ رقم لو اور مجھے اس کے بعد کبھی اپنی شکل نہ دکھانا‘ رفیق گل نے وہ چیک جیب میں ڈالا اور نعیم بخاری کے ساتھ واپس چلا گیا۔

آغا جی اے گل 1983 میں انتقال کر گئے‘ انتقال کے وقت ان کا کوئی اپنا وہاں موجودنہیں تھا‘ آج دنیا میں گل فیملی بچی ہے ‘ ایور نیو اسٹوڈیو اور نہ ہی آٹھ کنال کی وہ کوٹھی جس کے لیے بیٹے نے باپ پر پستول تان لی تھی‘ نعیم بخاری صاحب کے بقول ’’یہ منظر دیکھنے کے بعد میرے دل میں پوری زندگی کے لیے دولت کی خواہش ختم ہو گئی‘‘۔

یہ صرف تین واقعات ہیں‘ آپ اگر چند لمحوں کیل۷ے آنکھیں کھول کر دائیں بائیں دیکھیں تو آپ کو اپنے اردگرد سیکڑوں ایسی مثالیں ملیں گی‘ ہم سے زندگی میں صرف دس چیزیں بے وفائی کرتی ہیں‘ ہم اگر ان دس بیوفائوں کی فہرست بنائیں تو عہدہ ٗ دولت اور اولاد پہلے تین نمبروں پر آئے گی‘ میں نے زندگی میں بیشمار لوگوں کو عہدے کے لیے دوسروں کے کتوں کو نہلاتے اور اپنی پگڑی سے صاحب کی گاڑی کا شیشہ صاف کرتے دیکھا لیکن عہدہ اس کے باوجود ان کے نیچے سے نکل گیا۔

میں نے کرسی پر بیٹھے لوگوں کو فرعون اور نمرود بنتے بھی دیکھا اور ’’نسلیں ختم کردو‘‘ جیسے احکامات جاری کرتے بھی لیکن پھر جب عہدے نے بیوفائی کی تو میں نے اپنی آنکھوں سے محترمہ بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف جیسے با اختیار لوگوں کو بھی عدالتوں کے باہر گندی اینٹوں اور قلعوں کی حبس زدہ کوٹھڑیوں میں محبوس دیکھا۔ میں نے بیشمار ارب اور کھرب پتی لوگوں کو پیسے پیسے کا محتاج ہوتے بھی دیکھا۔

یہ بھی پڑھیں: -   عورتیں اور مرد: سلیقے کی جنگ

میں روز اسلام آباد شہر میں نکلتا اور ساتھ ساتھ سوچتا ہوں آج جہاں مارکیٹیں‘ گرائونڈز اور سڑکیں بنی ہیں وہاں آج سے چالیس سال قبل گائوں ہوتے ہونگے اور ان گائوں کے چوہدری بھی ہوتے تھے اور ان چوہدریوں کی انا بھی بانس کے آخری سرے کو چھوتی ہو گی لیکن آج وہ چوہدری‘ ان کی زمینیں اور ان کے گائوں کہاں ہیں؟ شاید سپر مارکیٹ کے نیچے دفن ہوں یا پھر مارگلہ روڈ کی گولائیوں میں گم ہوں اور یہ صرف چالیس سال پرانا قصہ ہے۔

چار دہائیوں میں زمین کی شکل ہی تبدیل ہوگئی چنانچہ پھر دولت سے بڑی بے وفا چیز کیا ہوگی اور رہ گئی اولاد! میں نے بیشمار لوگوں کو اپنی اولاد سے محبت کرتے دیکھا‘ یہ لوگ پوری زندگی اپنی اولاد کے سکھ کے لیے دکھوں کے بیلنے سے گزرتے رہے لیکن پھر کیا ہوا؟

وہ اولاد زمین جائیداد کے لیے اپنے والدین کے انتقال کا انتظار کرنے لگی‘ میں نے اپنے منہ سے بچوں کو یہ کہتے سنا ’’اباجی بہت بیمار ہیں‘ دعا کریں اللہ تعالیٰ ان کی مشکل آسان کر دے‘‘ اور یہ وہ باپ تھا جو بچوں کے نوالوں کے لیے اپنا ضمیر تک بیچ آتا تھا‘ میں نے ایسے مناظر بھی دیکھے‘ باباجی کے سارے بچے ملک سے باہر چلے گئے۔ بابا جی نے تنہائی کی چادر بُن بُن کر زندگی کے آخری دن گزارے۔

انتقال ہوا تو بچوں کو وقت پر سیٹ نہ مل سکی چنانچہ تدفین کی ذمے داری ایدھی فائونڈیشن نے نبھائی یا پھر محلے داروں نے! یہ ہے کُل زندگی! اولاد‘ دولت اور عہدے کی بیوفائی‘ ان بیوفائیوں کے داغ اور آخر میں قبر کا اندھیرا ۔ یہ وہ حقیقت ہے جس سے ہر شخص واقف ہے لیکن اس کے باوجود انسان کا کمال ہے‘ یہ دیکھتا ہے لیکن اسے نظر نہیں آتا‘ یہ سنتا ہے لیکن اسے سنائی نہیں دیتا اور یہ سمجھتا ہے لیکن اسے سمجھایا نہیں جا سکتا‘یہ ہر روز لوگوں کو تباہ ہوتا ٗ مرتا ٗ ذلیل ہوتا دیکھتا ہے مگر یہ ہر بار خود کو یقین دلاتا ہے ’’ یہ میرے ساتھ نہیں ہوگا‘‘ کیوں؟ کیوںکہ ’’میں دوسروں سے مختلف ہوں‘‘۔

نوٹ: میرا یہ کالم دو مارچ 2014کو روزنامہ ایکسپریس میں شایع ہوا تھا‘ یہ کالم آج کل سوشل میڈیا اور مختلف فورمز پر وائرل ہو رہا ہے لہٰذا میں ریکارڈ کی درستگی کے لیے اس کالم کو دوبارہ شایع کر رہا ہوں‘ ہو سکتا ہے اس سے کوئی عبرت بھی حاصل کر لے۔

columns of Javed Chaudhary
جاوید چودھری

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں