hassanaliisb 153

اسلام آباد یونائٹیڈکی فتوحات ٹیم ورک کا نتیجہ قرار

حسن علی نے  پی ایس ایل 6میں اسلام آباد یونائٹیڈکی فتوحات کو ٹیم ورک کا نتیجہ قرار دے دیا۔

پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pkکے پروگرام ’’کرکٹ کارنر ود سلیم خالق‘‘ میں گفتگوکرتے ہوئے حسن علی نے کہاکہ ابوظبی کی کنڈیشنز مشکل اور یہاں سخت گرمی ہے مگر بولرز کو سیم اور سوئنگ کرنے میں مدد بھی مل رہی ہے،آپ گرمی یا سردی کو تو کنٹرول نہیں کرسکتے تاہم بطور پروفیشنل کنڈیشنز کے مطابق بہتر بولنگ کرنا ممکن ہے،میں بطور سینئر پلیئر ذمہ داری لیتے ہوئے ٹیم کیلیے بہتر پرفارم کرنے کی کوشش کررہا ہوں،اچھی بات یہ ہے کہ دیگر بولرز بھی ساتھ دے رہے ہیں، وسیم جونیئر ایک میچ کے سوا بہتر کارکردگی میں کامیاب رہے،انجری سے کم بیک کے بعد عاکف جاوید نے بھی عمدہ پرفارم کیا،سب سے اچھی بات یہ ہے کہ بولرز ٹیم کی ضرورت کے مطابق اچھی کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہو رہے ہیں، ٹی ٹوئنٹی میں بولنگ مشکل مگر اچھی لائن و لینتھ اور ویری ایشن کے ساتھ بولنگ کریں تو وکٹیں اڑانے میں لطف بھی آتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پشاور زلمی کیخلاف میچ میں قائم مقام کپتان عثمان خواجہ نے سنچری بنائی، کولن منرو اور آصف علی کے ساتھ برینڈن کنگ نے بھی جارحانہ اننگز کھیلیں،اسلام آباد یونائیٹڈ کی مینجمنٹ بھرپور سپورٹ کرتی ہے اور کھلاڑی بھی ایک ٹیم کے طور پر کھیلتے ہیں،اس لیے کامیابیاں بھی حاصل ہورہی ہیں۔

حسن علی نے کہا کہ شاداب خان کم عمر ہونے کے باوجود بہترین انداز میں قیادت کررہے ہیں، وہ دباؤ میں بھی بہتر فیصلے کرتے ہیں،اسلام آباد یونائیٹڈ کی مینجمنٹ کو بھی کریڈٹ دینا چاہیے جس نے گذشتہ ایونٹ میں ٹیم کی کارکردگی بہتر نہ ہونے کے باوجود شاداب خان کی صلاحیتوں پر اعتماد برقرار رکھا۔

یہ بھی پڑھیں: -   خوش آمدید راجہ صاحب

کسی کوباؤنسر لگ جائے توخیریت پوچھ سکتا ہوں،گلے نہیں لگاؤں گا

حسن علی نے کہا کہ کھیل کے دوران کوئی بولر نہیں چاہے گا کہ اسے چوکے، چھکے لگیں،اگر کسی کو باؤنسر لگ جائے تو میں خیریت پوچھ سکتا ہوں، یہ نہیں کہ جاکر گلے لگاؤں،آپ کے پوچھنے کے بعد میڈیکل ٹیم کا کام ہے کہ جاکر چیک کرے کہ کوئی کنکشن  وغیرہ تو نہیں ہوا۔

میدان میں ہنسی مذاق کے سوال پر انھوں نے کہا کہ فاسٹ بولر میں جارحیت ہونا چاہیے،اس کا مظاہرہ میں بھی کرتا ہوں لیکن اس کے ساتھ زندگی اور کرکٹ سے لطف اندوز ہوتا ہوں،اگر کسی کا دل نہ ٹوٹے تو اس طرح کی سرگرمیاں ہونا چاہئیں۔

میں اورشاداب اشاروں میں ایک دوسرے کی بات سمجھ جاتے ہیں

حسن علی نے کہا ہے کہ شاداب خان کے ساتھ دوستی کی وجہ سے میدان میں رابطہ رکھنے میں آسانی ہوتی ہے،ہم اشاروں میں ایک دوسرے کی بات سمجھ جاتے ہیں،آل راؤنڈر میچ کے دوران بعض اوقات ضرورت ہوتو سختی بھی کرتے ہیں،کھبی کبھار پاکستانیوں کو اس کی ضرورت بھی ہوتی ہے، انھوں نے خود کو بہترین کپتان ثابت کیا ہے۔

لیگز اپنی جگہ لیکن پاکستان کیلیے کھیلنا فخر کی بات ہے

حسن علی نے کہا ہے کہ لیگز اپنی جگہ مگر سب سے زیادہ فخر کی بات پاکستان کیلیے کھیلنا ہے،ٹیسٹ ہی اصل کرکٹ اور مجھے بھی اس سے حقیقی خوشی حاصل ہوتی ہے،طویل فارمیٹ میں فٹنس، مہارت اور ٹمپرامنٹ کا امتحان ہوتا ہے،میں ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ پرفارمنس کی بدولت کم بیک کرنے میں کامیاب ہوا،نوجوانوں کو بھی یہی راستہ اپنانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: -   شہابِ ثاقب اور لاحق خطرات
Saleem Khaliq
سلیم خالق

سلیم خالق کی تمام تحاریر ایکسپریس بلا گ سے لی جاتی ہیں. مزید پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں