adnan-khan-kakar 179

یونیورسٹیوں میں سیکس سکینڈل پر ویسا شور کیوں نہیں جیسا مدرسے پر؟

دینی طبقے سے تعلق رکھنے والے بعض افراد یہ کہہ رہے ہیں کہ یونیورسٹیوں میں بھی تو سیکس سکینڈل بنتے ہیں، ان کے معاملے پر ویسا شور کیوں نہیں جیسا مفتی عزیز الرحمان کے معاملے میں دیکھنے میں آیا ہے؟

یونیورسٹی میں ایسا سکینڈل پکڑا جائے تو اساتذہ کی تنظیموں کی ہمت نہیں ہوتی ہے کہ اسے برحق ثابت کرتے ہوئے ملزم کے حق میں کوئی مہم چلائیں۔ نہ ہی وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ استاد پیغمبروں کے جانشین ہوتے ہیں اس لیے ان کے ایسے غلط کاموں سے چشم پوشی کی جائے۔ نہ ہی وہ یہ کہتے ہیں کہ استاد روحانی باپ ہوتا ہے اس پر مقدمہ نہ کرو۔ نہ ہی ان کا یہ بیان سامنے آتا ہے کہ یونیورسٹی میں ایسا ہوا تو کیا ہوا، مدرسوں میں یا دفتروں میں بھی تو ایسا ہوتا ہے۔ نہ ہی وہ اس پر بات کرنے والوں کی تکفیر کرتے ہیں۔

ایسا ہی ایک سکینڈل کچھ عرصہ قبل لاہور گرائمر سکول میں سامنے آیا تھا۔ اس وقت کتنے اساتذہ اس مجرم کی حمایت میں اور بچوں کے خلاف کھڑے دکھائی دیے تھے؟ اور اس سکینڈل پر بھی خوب تھو تھو ہوئی تھی کہ استاد بچوں کے ساتھ ایسا کرنے کی جرات کیسے کرتے ہیں۔ اس سکینڈل میں طالبات سے صرف ذومعنی گفتگو پر جنسی ہراسانی کا کیس بنا تھا اور یہاں مدرسے میں تو باقاعدہ کئی برس تک انجام دیے جانے والے جنسی فعل کا معاملہ ہے۔

جبکہ کسی عالم یا مدرسے کے استاد کا کوئی قبیح فعل سامنے آئے تو اسے سزا دینے کے مطالبے پر دینی طبقے کا ایک بڑا حصہ اسے اسلام پر حملہ قرار دے دیتا ہے۔ وہی گھسا پٹا بیان سامنے آتا ہے کہ جو اسلام کے خلاف نہیں بول سکتا، وہ مولوی کے خلاف بولتا ہے حالانکہ یہاں جرم اور کٹھ ملائیت کے خلاف بات ہو رہی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   اخلاقیات کی چند ٹپس

ابھی گزشتہ دنوں ہی جامعہ اسلامیہ العالمیہ میں ایک نوجوان کے ریپ کا واقعہ پیش آیا۔ اس سے پہلے ڈیرہ اسماعیل خان کی گومل یونیورسٹی میں چیئرمین شعبہ اسلامیات پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین کا ایسا سکینڈل سامنے آیا تھا۔ پنجاب یونیورسٹی اور کراچی یونیورسٹی کے معاملات بھی تھے۔ ان پر کتنے اساتذہ نے مجرم کے حق میں بات کی؟ کس کے حق میں جرم سے چشم پوشی کی نیت سے مہم چلائی گئی؟

یونیورسٹی استاد کا اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے طالب یا طالبہ کا جنسی استحصال تو ایک بڑا اخلاقی جرم ہے ہی، لیکن مدارس یا سکول کی بات کی جائے تو وہاں معاملہ سنگین تر ہوتا ہے۔ یونیورسٹی میں طلبا و طالبات کم از کم بالغ تو ہوتے ہیں، مدارس اور سکولوں میں یہ سلوک چھوٹے بچوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

جس مغرب کی جنسی آزادی پر منبر و محراب سے تبرے بھیجے جاتے ہیں کہ وہ مرد و زن کے درمیان جنسی اختلاط کی اجازت دینے کے علاوہ ہم جنس پرستی کا بھی داعی ہے، وہاں پیڈو فیلیا یعنی بچوں سے جنسی اختلاط کی کوشش کرنے والے کو نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے۔ مغرب بالغ افراد کے درمیان تو جنسی اختلاط کی اجازت دیتا ہے لیکن نابالغ سے صرف ایسی گفتگو کرنے پر بھی مجرم کو زندگی بھر کے لے بلیک لسٹ کر دیا جاتا ہے۔

ہمارے ہاں زبانی کلامی بھاشن تو بہت دیے جاتے ہیں کہ ہم جنسی بری بات ہے، مگر عملی طور پر ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ مدارس میں بچوں کے ساتھ بھی ایسا قبیح فعل کیا جائے تو مجرم کا ساتھ دیا جاتا ہے۔ مفتی عزیز الرحمان ویڈیو وائرل ہونے پر اس مدرسے سے فرار ہونے کے بعد مختلف مساجد اور مدارس میں ہی پناہ لیتے رہے تھے۔ ان کی ویڈیو سے صاف ظاہر ہے کہ ان کا چائے میں نشے والا بیان جھوٹا ہے، بلکہ اگلی ویڈیوز میں تو وہ مقدس کتب ہاتھ میں لیے اس فعل میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی حمایت کو کیا سمجھا جائے؟ اور یہ وہی مفتی صاحب ہیں جو اداکارہ صبا قمر کے ایک مسجد میں بغیر کسی آڈیو کے فوٹو شوٹ پر اسے شعائر اللہ اور مسجد کی توہین قرار دیتے ہوئے سنگین سزا کا مطالبہ کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: -   یہ ملک ہے ٹشو پیپر نہیں

اس معاملے کی انتہا آج سوشل میڈیا پر چلنے والے ویڈیو کی ہے۔ ایک عالم صورت شخص جن کا نام مفتی اسماعیل طورو بتایا جا رہا ہے، نصف درجن علما کے ساتھ ویڈیو میں دکھائی دے رہے ہیں۔ ویڈیو میں یہ الفاظ سنائی دیتے ہیں جنہیں سن کر ہم سن ہو گئے، اسماعیل طورو کہتے ہیں ”کوئی غلطی ہو گئی تو عوام نے ان سے کٹنا نہیں ہے۔ کیوں؟ انسان ہیں وہ۔ حضور اکرم ﷺ کے زمانے میں، پاک زمانے میں، کیا ایسے واقعات، بہت محفوظ علی الخطا لوگوں سے نہیں ہوئے؟ ایک بہت مشہور عالم دین ہیں۔ اس کی ساری چیزیں صبح شام مفتی صاحب کے ہمارے اوپر واضح ہیں۔ اور ان کو چائے میں نشہ دیا گیا۔ ویڈیو میں صاف موجود ہے کہ اس کی حرکتیں بے قصد ہیں۔ ہم کو ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ لیکن ان کو وائرل کرنا، ایک عالم کو، مفتی کو ذلیل کرنا، یہ کام علما کا نہیں ہے۔ نیک لوگوں کا نہیں ہے۔ مسلمانوں کا نہیں ہے۔“ ہم یہی دعا کر سکتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی یہ ویڈیو فیک ہو۔

ابھی تک صف اول کے علما اور دینی سیاسی قیادت کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی بیان ہماری نظر سے نہیں گزرا ہے۔ جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ یا تو وہ مدارس کے بچوں کے تحفظ کی پروا نہیں کرتے یا پھر اس سے چشم پوشی برتتے ہیں۔ انہوں نے اس معاملے میں دین اور انصاف پر مبنی ردعمل نہ دیا تو ان کا حال بھی وہی ہو گا جو مغرب میں چرچ کا ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   سیکورٹی اسٹیٹ یا جمہوری ریاست؟
adnan-khan-kakar
عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے مزید کالم پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں