Attaul-Haq-Qasmi 147

ایک تھا غلام حسین!

(گزشتہ سے پیوستہ)

کمشنر صاحب نے مجھے خود فون کیا اور معذرت کی کہ اتنے شارٹ نوٹس پر آپ کو بلایا جارہا ہے، میں نے انہیں بتایا کہ میں نے قلوں میں شرکت کرنی ہے بلکہ میں نے انہیں مرحوم کی انسان دوستی کی صفات سے بھی آگاہ کیا اور اس کے لواحقین کی کسمپرسی کے بارے میں بھی بتایا، جس پر کمشنر صاحب نے مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ لاہور کی انتظامیہ سے بات کر کے مرحوم کے لواحقین کی مالی مدد کا انتظام کردیں گے۔ اس پر میں نے سوچا کہ مرحوم کے قل میں شرکت سے بہتر اس کے لواحقین کی مالی امداد ہے چنانچہ میں مشاعرے میں چلا گیا۔ ویسے بھی دل کو یہ اطمینان تھا کہ ابھی مرحوم کا چہلم ہونا ہے، میں اس میں شریک ہو کر ضمیر کی خلش رفع کرلوں گا۔مگر ہوا یوں کہ اس دوران مجھے امریکہ میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے دعوت نامہ موصول ہوا اور یوں مجھے چھ ہفتے کے لئے ملک سے باہر جانا پڑ گیا۔ میں نے سوچا کہ کانفرنس کی بجائے غلام حسین کے چہلم میں شرکت کروں مگر پھر ملکی وقار کا مسئلہ سامنے آگیا۔ اس کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی بہت ضروری تھی۔ چنانچہ بادل نخواستہ امریکہ کے لئے روانہ ہوگیا۔

دو دن پہلے اشفاق گوجر سے میری سرراہے ملاقات ہوگئی، مجھے دیکھ کر اس نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ وہ مجھے سے بے حد ناراض تھا کہ میں غلام حسین کی عیادت کے لئے نہیں گیا بلکہ اس کے جنازے، قلوں اور چہلم میں بھی شرکت نہیں کی، میں نے اسے بتایا کہ میں اس پر بے حد شرمندہ ہوں مگر ایسا سخت مجبوریوں کی وجہ سے ہوا تاہم اب میں اپنی اس کوتاہی کی تلافی کروں گا۔ اشفاق نے پوچھا وہ کیسے؟ میں نے کہا وہ ایسے کہ میں غلام حسین پر ایک کالم لکھوں گا جو اخبار کے بارہ ایڈیشنوں میں شائع ہوگا اور یوں مرحوم کی شہرت دور دور تک پھیل جائے گی۔ میرا خیال تھا کہ اشفاق میری اس بات سے خوش ہوگا مگر اس کی موٹی عقل میں کالم کی بات نہیں آئی کہ اسے اس کی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں۔چنانچہ اس نے مجھے خشمگیں نظروں سے دیکھا اور پھر جیب میں ہاتھ ڈال کر ہزار ہزار کے کچھ نوٹ نکالے اور انہیں میری جیب میں ٹھونستے ہوئے کہا تمہیں اس کالم کے جتنے پیسے ملنے ہیں وہ میں تمہیں دے رہا ہوں، میری درخواست ہے کہ غلام حسین پر کالم نہ لکھنا، وہ بہت غیور شخص تھا اور پھر وہ دھوتی کو سنبھالتے ہوئے پیڈل پر پائوں رکھ کر سائیکل کی گدی پر بیٹھا اور میری نظروں سے اوجھل ہوگیا اور میں اس وقت سے خود پر حرفِ نفرین بھیج رہا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: -   یااللہ تیرا شکر ہے

آخر میں خانہ پُری کے لئے ایک غزل:

میں کڑی رات کی کمان میں ہوں
ایک دنیائے بے امان میں ہوں
اپنا کردار تو نبھانا ہے
میں محبت کی داستان میں ہوں
لوگ اپنے ہی عشق میں پاگل
میں مریضوں کے درمیان میں ہوں
کوئی کیسے مجھے پڑھے، سمجھے
میں کسی اور ہی زبان میں ہوں
اور اسی میں اماں ملی ہے مجھے
میں ترے حسن بے امان میں ہوں
کیسے بے دخل کر سکوں گے مجھے
میں تو کب سے اسی مکان میں ہوں
کٹ گیا ہوں زمین والوں سے
جب سے میں تیرے آسمان میں ہوں
اپنے ہونے کا کب یقیں ہے مجھے
اپنے ہونے کے میں گمان میں ہوں
میں کہاں ڈھونڈتا پھروں گا تجھے
میں تو گم سم ترے جہان میں ہوں
میں کہ ہوں خوش گمانیوں کا اسیر
اور خود چشم بدگمان میں ہوں
دھوپ میں بھی مجھے ملے راحت
اس کی رحمت کے سائبان میں ہوں
جس کے ہاتھوں میں کچھ نہیں ہے عطاء
وہ سمجھتا ہے کن فکان میں ہوں

Attaul-Haq-Qasmi
عطاءالحق قاسمی

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں