Allama Ibtisam Ilahi Zaheer 145

موت کے سودا گر

پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کی معروف شاہراہوں پر بہت سے خستہ حال اورالجھے ہوئے بالوں والے نوجوان ایسے نظر آتے ہیں جن کی حالت دیکھ کر انسان کے دل میں رحم کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اُن کے چہرے‘ مہرے اور آنکھوں کو دیکھ کر پہچانا جاسکتا ہے کہ معاشرے کی تمناؤں اور اُمیدوں کے یہ مراکز موت کے سوداگروں کے شکنجوں میں پھنس جانے کی وجہ سے معاشرے کے کام آنا تو بڑی دور کی بات‘ اپنے آپ کو سنبھالنے سے بھی قاصر ہو چکے ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ معاشرے میں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی ایک تعداد منشیات کی عادی ہو کر معاشرے اور دھرتی پر بوجھ بن چکی ہے۔ منشیات کا شکار ان نوجوانوں کے والدین نے یقینا انہیں بڑی اُمیدوں اور تمناؤں کے ساتھ پالا ہو گا لیکن ان کے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہ ہو گی کہ ان کی اولاد کسی وقت منشیات کی دلدل میں اُتر جائے گی۔ معاشرے کے غریب اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوان مختلف چوکوں اور چوراہوں پر لوگوں سے بھیک مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اپنے حقیقی مسائل کو بیان کرنے کے بجائے اپنی غر بت، گھریلو پریشانیوں،بیماریوں اور مشکلات کا رونا رو رہے ہوتے ہیں۔ ان کی بیٹھی ہوئی آوازیں، دھنسی ہوئی آنکھیں، پراگندہ بال، اکتائے ہوئے چہروں اور وضع قطع کو دیکھ کر انسان بہ آسانی پہچان جاتا ہے کہ نشے کی لت میں مبتلا ان لوگوں کو حقیقت میں پیسوں کی ضرورت فقط منشیات کے سوداگروں کی تجوریاں بھرنے کے لیے ہے‘ اس کے علاوہ ان کوکوئی دوسرا مسئلہ درپیش نہیں۔ کئی مرتبہ میں نے ایسے نوجوانوں کو سڑک کے کناروں اور میلی کچیلی جگہوں پر دنیا وما فیہا سے بے خبر پڑے دیکھا ہے۔ ان کی قابلِ رحم حالت دیکھ کر انسان کے دل میں موت کے سوداگرو ں کے خلاف شدید نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔
المیے کی بات یہ ہے کہ بہت سے پڑھے لکھے نوجوان لڑکے اورلڑکیاں‘ جن کا تعلق خوشحال گھرانوں سے ہے‘ بھی اس لت کا شکار ہو چکے ہیں اور یونیورسٹیز اور کالجز میں تعلیم حاصل کرنے والے یہ نوجوان معاشرے کی تعمیر وترقی کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنے کے بجائے تاریک راستوں کے مسافر بن چکے ہیں۔ اس حوالے سے معاشرے کے تمام طبقات پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان نوجوانوں کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں اس قسم کی برائیوں کو فروغ دینے والے عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے منظم منصوبہ بندی کی جائے۔ اگر اس المیے پر صحیح طور پر توجہ نہ دی گئی تو آنے والے برسوں میں معاشرے کے نوجوانوں کی مزید بڑی تعداد اس لت کا شکار ہو کر معاشرے اور دھرتی پر بوجھ بن سکتی ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اس حوالے سے کتاب وسنت کی تعلیمات پر غورکرنا چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں شراب اور جوئے کی سخت انداز میں مذمت کی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سور ہ مائدہ کی آیات 90 تا 91میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! درحقیقت شراب اور جوا اور بت اورقرعہ کے تیر (سب) ناپاک (اور) شیطان کے عمل سے ہیں‘ پس بچو ان سے تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔ درحقیقت شیطان تو چاہتا ہے کہ وہ ڈال دے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض شراب اور جوئے میں (ڈال کر) اور وہ روک دے تمہیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے تو کیا تم (ان چیزوں سے ) باز آنے والے ہو؟‘‘۔ ان آیاتِ مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ شراب اور جوا شیطانی اعمال ہیں اوریہ انسان کو ذکرِ الٰہی سے دور کرتے اور باہمی عداوت کے راستے پر چلاتے ہیں۔ جب ہم احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان میں بھی نشہ آور اشیا کی بڑے شدید انداز میں مذمت کی گئی ہے۔ اس حوالے سے چند اہم احادیث درج ذیل ہیں:
1۔صحیح بخاری میں حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا کہ پینے کی ہر وہ چیز جو نشہ لانے والی ہو‘ حرام ہے۔
2۔صحیح بخاری میں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺنے انہیں (ابوموسیٰ اشعریؓ) اور معاذ بن جبل ؓکو (یمن) بھیجا تو ان سے فرمایا کہ (لوگوں کے لیے) آسانیاں پیدا کرنا، تنگی میں نہ ڈالنا، انہیں خوشخبری سنانا، دین سے نفرت نہ دلانا اور تم دونوں آپس میں اتفاق سے کام کرنا۔ حضرت ابوموسیٰ ؓنے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! ہم ایسی سر زمین میں جا رہے ہیں جہاں شہد سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے ”بتع ‘‘کہا جاتا ہے اور جَو سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے ”مزر‘‘کہا جاتا ہے؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔
3۔صحیح مسلم میں حضرت ابن عمر ؓسے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرما یا : ہر نشہ آور چیز خمرہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس شخص نے دنیا میں شراب پی اور اس حالت میں مر گیا کہ وہ شراب کا عادی تھا اور اس نے تو بہ نہیں کی تھی تو وہ آخرت میں اسے نہیں پئے گا۔
4۔سنن ابی داؤدمیں حضرت نعمانؓ بن بشیرسے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو کہتے ہوئے سنا: شراب انگور کے رس، کشمش، کھجور، گیہوں، جو اور مکئی سے بنتی ہے، اور میں تمہیں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں۔
5۔سنن نسائی میں حضرت جابر ؓسے مروی ہے کہ ایک آدمی جیشان سے آیا، (جیشان یمن میں ہے) اور رسول اللہﷺسے پوچھنے لگا کہ ہمارے علاقے میں لوگ ایک مشروب پیتے ہیں جو وہ مکئی سے تیار کرتے ہیں۔ اسے مزر کہا جاتا ہے۔ نبی اکرمﷺنے پوچھا: ”کیا وہ نشہ آور ہوتا ہے؟‘‘ اس نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہﷺنے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ یقینا اللہ تعالیٰ نے قسم کھا رکھی ہے کہ جو شخص نشہ آور مشروب پئے گا، اللہ تعالیٰ اسے طینۃ الخبال پلائے گا۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسولﷺ! طینۃ الخبال کیا چیز ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ”جہنمیوں کا پسینہ‘‘، یا فرمایا: ”جہنمیوں کا خون اور پیپ‘‘ (جو ان کے زخموں سے نکلے گا)۔
6۔سنن ابی داؤد میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: شراب کے پینے اور پلانے والے، اس کے بیچنے اور خریدنے والے، اس کے نچوڑنے اور نچڑوانے والے، اسے لے جانے والے اور جس کے لیے لے جائی جائے سب پر اللہ کی لعنت ہو۔
احادیث مبارکہ سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جس چیز کی کثیر مقدار سے نشہ ہو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے۔
1۔جامع ترمذی میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے، جس چیز کا ایک فرق (سولہ رطل یا لگ بھگ آٹھ سیر) کی مقدار نشہ پیدا کر دے تو اس کی مٹھی بھر مقدار بھی حرام ہے
2۔سنن ابی داؤد میں حضرت جابرؓ بن عبداللہ روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔
ان احادیث پر غوروفکر سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اہل ِاسلام کو منشیات سے سختی سے اجتناب کرنا چاہیے اور اس کے لیے بعض اہم تدابیر کا اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔ جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
1۔ نوجوانوں کی تعلیم وتربیت کا اہتمام: نوجوانوں کی تعلیم وتربیت کا اہتمام کرنا اور ان کو شراب اور نشہ آور اشیا کی حرمت سے آگاہ کرنا علماء اور والدین کی ذمہ داری ہے۔ احادیث مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب شراب کو حرام کیا گیا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے فوراً سے پہلے اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھا۔ اس حوالے سے اہم حدیث درج ذیل ہے:
صحیح بخاری میں حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ میں ابوطلحہ ؓکے مکان میں لوگوں کو شراب پلا رہا تھا۔ ان دنوں کھجور ہی کی شراب پیا کرتے تھے۔ (پھر جونہی شراب کی حرمت پر آیتِ قرآنی اتری) تو رسول اللہﷺنے ایک منادی سے ندا کرائی کہ شراب حرام ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا (یہ سنتے ہی) ابوطلحہ ؓنے کہا کہ باہر لے جا کر اس شراب کو بہا دے؛ چنانچہ میں نے باہر نکل کر ساری شراب بہا دی۔ شراب مدینہ کی گلیوں میں بہنے لگی، تو بعض لوگوں نے کہا، یوں معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ اس حالت میں قتل کر دیے گئے ہیں کہ شراب ان کے پیٹ میں موجود تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ”وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل صالح کئے، ان پر ان چیزوں کا کوئی گناہ نہیں ہے‘ جو پہلے کر چکے ہیں‘‘۔
2۔ بچو ں کی صحبت اور معمولات پر نظر رکھنا: جہاں پر نوجوانوں کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے والدین، اساتذہ اور علماء کو انہیں منشیات کی حرمت سے آگاہ کرنا چاہیے وہیں پر والدین کو اپنے بچوں کی صحبت اور معمولات پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔ اگر ان کی صحبت اور معمولات میں کوئی تبدیلی نظر آئے تو فوراً سے پہلے ان کا احتساب کرنا چاہیے۔ اس طریقے سے انہیں بری صحبت اورعادات سے بچایا جا سکتا ہے۔
3۔ منشیات فروشوں کے خلاف سخت کاروائی: حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروںپر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ منشیات فروشوں اور اس کی تجارت میں شریک لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کریں اور اس حوالے سے ان کے ساتھ کسی قسم کی رو رعایت کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ اس حوالے سے سعودی عرب کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں پرمنشیات فروشوں کا کڑا احتساب کیا جاتا ہے اور اُن کو سزائے موت تک دے دی جاتی ہے۔ اگر ہمارے ملک میں قانون کو سختی سے نافذ کیا جائے تو ہمارے معاشرے میں منشیات کی تجارت اور اس کے پھیلاؤ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ہمارے معاشرے کے نوجوانوں کو اس بری عادت اور لت سے محفوظ فرمائے اور ان کو سماج میں اپنی ذمہ داریوں کو اچھے طریقے سے نبھانے کی توفیق دے، آمین !

یہ بھی پڑھیں: -   شین وارن اور راڈنی مارش
Allama Ibtisam Elahi Zaheer
علامہ ابتسام الہی ظہیر

مصنف کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں