Allama Ibtisam Ilahi Zaheer 132

خوشگوار گھریلو زندگی

ہر انسان‘ خواہ وہ معاشرے میں کتنی بھی ممتاز حیثیت کا حامل کیوں نہ ہو‘کی زندگی کا ایک بڑا حصہ اپنے گھر میں گزرتا ہے۔ خوشگوار گھریلو زندگی کی تمنا ہر انسان کے دل میں ہوتی ہے اور وہ اس کے لیے حتی المقدور کوشاں بھی رہتا ہے۔ انسانوں کی معاشی جستجو اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا بڑا مقصد اپنے گھر میں سہولتیں جمع کرنا اور آرام کو یقینی بنانا ہے۔ ہر شخص اپنے بچوں کے رزق، ان کے اچھے لباس اور تعلیم وتربیت کے بارے میں متفکر رہتا ہے اور اس کے لیے اپنی حیثیت کے مطابق کوشاں بھی رہتا ہے لیکن بہت سے لوگ اس کوشش کے باوجود اپنے گھریلو معاملات کو سنوارنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے اور معاشرے میں اچھی حیثیت کے حامل ہونے کے باوجود گھریلو اعتبار سے بے سکونی اور بدامنی کا شکار رہتے ہیں۔ گھروں کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے انسان اہلِ علم ودانش سے مشورہ بھی کرتا رہتا ہے۔ اس حوالے سے جب ہم کتاب وسنت کا مطالعہ کرتے ہیں تو بہت سی خوبصورت باتیں سامنے آتی ہیں۔ جن پر عمل پیرا ہو کر گھریلو ماحول کو خوشگوار بنایا جا سکتا اور خاندانوں میں مضبوطی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے چند اہم اُمور پر توجہ دینا ضروری ہے۔
1۔ دین اور اخلاق کی بنیاد پر رشتہ داری: ہمارے معاشرے میں عام طور پر بچوں کے رشتوں کے حوالے سے دین اور اخلاق کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی جبکہ حسب،نسب، دولت اور جمال کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اگر رشتہ داری کے وقت دین اور اخلاق کو صحیح طریقے سے اہمیت دی جائے تو گھروں میں امن وسکون پیدا ہونے کے امکانات روشن ہو جاتے ہیں۔ احادیث مبارکہ میں بھی اس حوالے سے احسن انداز میں رہنمائی کی گئی ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم حدیث ہے: جامع ترمذی میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ”جب تمہیں کوئی ایسا شخص شادی کا پیغام دے، جس کی دین داری اور اخلاق سے تمہیں اطمینان ہو تو اس سے شادی کر دو۔ اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور فسادِ عظیم برپا ہو گا‘‘۔ اگر دین اور اخلاق کی بنیاد پر رشتہ داری کا اہتمام کیا جائے تو شوہر اور بیوی کے درمیان خودبخود ایک دوسرے کے بارے میں اچھے جذبات اور احساسات پیدا ہو جاتے ہیں۔
2۔ استخارہ اور مشورہ: شادی کے بندھن میں بندھنے سے پہلے انسان کو سمجھ دار لوگوں سے اپنی اولاد کے رشتوں کے حوالے سے مشاورت کرنی چاہیے اور مشاورت کے عمل کو مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ سے استخارہ کرنا چاہیے۔ جب دل ا س حوالے سے مطمئن ہو جائے تو اس کے بعد ہی رشتے کے بارے میں اپنے ارادے کو پختہ کرنا چاہیے۔
3۔ صالح اولاد کے لیے دعا: انسان کو شادی کے بعد صالح اولاد کے لیے دُعا بھی مانگنی چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ صافات کی آیات 100 تا101میںحضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے حوالے سے ارشاد فرماتے ہیں: ”(ابراہیم علیہ السلام نے کہا) اے میرے رب تو عطا فرما مجھے (ایک لڑکا) نیکوں میں سے، تو ہم نے خوشخبری دی اُسے ایک بردبار لڑکے کی‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ آل عمران میں حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا کو بیان فرماتے ہیں کہ انہوں نے اللہ تبارک وتعالیٰ سے طیب اولاد کی دعا مانگی تو اللہ نے انہیں حضرت یحییٰ جیسے بیٹے سے نوازا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ آل عمران کی آیات38 تا 39میںارشاد فرماتے ہیں: ”اور (زکریا نے کہا) اے میرے رب ! عطا کر مجھے اپنی طرف سے پاکیزہ (صالح) اولاد‘ بلاشبہ تو دعا کو سننے (اور قبول کرنے) والا ہے۔ تو آواز دی اسے فرشتوں نے اس حال میں کہ وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے عبادت گاہ میں کہ بے شک اللہ خوشخبری دیتا ہے آپ کو یحییٰ کی (جو) تصدیق کرنے والے ہیں اللہ کے ایک کلمہ (عیسیٰ علیہ السلام) کی اور (وہ) سردار اور عورتوں سے بے رغبت ہوں گے اور نبی ہوں گے نیک لوگوں میں سے‘‘۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ صالح اولاد کی دعا مانگنا انبیاء کرام علیہم السلام کا طریقہ ہے۔
4۔ تعلیم وتربیت کے لیے مناسب وقت کا اہتمام: گھروں میں بہتری لانے کے لیے والدین کو اپنی اولاد کے لیے مناسب وقت نکالنا چاہیے۔ بعض والدین پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں اس حد تک جذب ہو جاتے ہیں کہ اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت کے لیے مناسب وقت دینے سے قاصر ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً ان کی اولاد دینی اور دنیاوی اعتبار سے بگڑ جاتی ہے۔ فقط سرمایے کی فراوانی سے اولاد میں بہتری نہیں آتی بلکہ ہمیں اس حوالے سے حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت لقمان کی سیرت سے سبق سیکھنا چاہیے جنہوں نے اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت کے لیے بیش قیمت نصیحتیں کیں اور اپنی اولاد کو دینی اور دنیاوی اہم اُمور میں اپنے ہمراہ رکھا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں تعمیر ِ کعبہ کے حوالے سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کردار کا ذکر کیا کہ جس وقت آپؑ نے بیت اللہ شریف کی تعمیر کی تو اس میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بھی اپنے ہمراہ رکھا۔
5۔ معروف کا حکم اور منکر سے روکنا : اپنے گھروں کی اصلاح کے لیے یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ اپنے گھر والوں کو معروف کا حکم دیا جائے اور منکرات سے روکا جائے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجید میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر کیا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا کرتے تھے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ مریم کی آیت 55میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اور وہ حکم کرتاتھا اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا اور تھا وہ اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ طہٰ میں اس بات کی نصیحت کی ہے کہ اپنے اہلِ خانہ کو نماز کا حکم دینا چاہیے اور خود بھی اس پر مداومت کو اختیار کرنا چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ طہٰ کی آیت 132میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اور حکم دیں اپنے گھر والوں کو نماز کا اور آپ (خودبھی) پابند رہیں اس پر‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ تحریم اپنی ذات کے ساتھ اپنے اہلِ خانہ کو بھی آگ سے بچانے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ تحریم کی آیت 6میں ارشاد فرماتے ہیں:” اے (وہ لوگو) جو ایمان لائے ہو! بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو (اُس) آگ سے (کہ) جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں‘‘۔
اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ لقمان میں حضرت لقمان کی بہت سی اچھی نصیحتوں کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو دین اور دنیا کے حوالے سے کی تھیں۔ ان نصیحتوں میں عقیدے کی اصلاح سے لے کر معاشرے میں خوش اخلاقی کے فروغ تک کی نصیحتیں شامل ہیں۔ قرآنِ مجید کی ان آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ گھریلو اصلاح کے لیے والدین کو ہمہ وقت کوشاں رہنا چاہیے اور اپنی اولاد کو معروف کا حکم دینا چاہیے اور اُن کو منکرات سے روکنا چاہیے۔
6۔حسنِ معاشرت: اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ معاشرت کا بھی حکم دیا یعنی ان کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آیا جائے اور اُن کے ساتھ معاشرتی اور گھریلو معاملات میں اچھا برتاؤ کیا جائے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ نساء کی آیت 19میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اور زندگی بسر کر و اُن کے ساتھ اچھے طریقے سے‘ پھر اگر تم ناپسند کرو اُن کو تو ہو سکتا ہے کہ تم نا پسند کرو کسی (ایک) چیز کو اور رکھ دی ہو اللہ نے اُس میں (اور)بہت (سی) بھلائی‘‘۔
7۔بڑوں کا ادب اور چھوٹوں سے شفقت: گھر میں سکون اور محبت کے فروغ کے لیے بڑوں کا ادب کرنا اور چھوٹو ں سے شفقت کرنا انتہائی ضروری ہے۔ بعض گھرانوں میں بچوں پر اضافی سختی کی جاتی ہے جس سے بچوں کی شخصیت مسخ ہو جاتی ہے اور بعض گھرانوں میں اضافی لاڈ پیار کے ذریعے انہیں اس حد تک بگاڑ دیا جاتا ہے کہ وہ والدین اور بڑے بہن بھائیوں کی بے ادبی پر آمادہ وتیار ہو جاتے ہیں اور کئی مرتبہ بات گستاخی سے بڑھتے بڑھتے گالی گلوچ اور تشدد تک بھی جا پہنچتی ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے گھروں میں ابتدا ہی سے بڑوں کے ساتھ ادب اور چھوٹوں سے حسنِ سلوک اور شفقت کی تلقین کرنی چاہیے۔ اس حوالے سے ایک حدیث درج ذیل ہے: مسند احمد میں روایت ہے کہ سیدنا عباد ہؓ بن صامت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: وہ آدمی میری امت میں سے نہیں ہے، جو ہمارے بڑوں کی تعظیم اور چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا۔
8۔ بری صحبت سے بچانا: گھروں کو بگاڑ اور تباہی سے بچانے کے لیے گھر کے بڑوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولادوں کو بری صحت سے بچائیں۔ انسان کئی مرتبہ اپنی صحبت کی وجہ سے تباہی کے گڑھے میں گر جاتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس حقیقت کا ذکر سورہ فرقان کی آیات 27 تا 29میں کچھ یوں فرماتے ہیں: ”اور جس دن دانتوں سے کاٹے گا ظالم اپنے ہاتھوں کو اور کہے گا: اے کاش! میں اختیار کرتا (ہدایت کا راستہ) رسول کے ساتھ۔ ہائے بربادی! کاش میں نہ بناتا فلاں کو ولی دوست۔ یقینا اس نے مجھے گمراہ کر دیا (اس) ذکر (یعنی قرآن مجید) سے اس کے بعد کہ جب وہ آیا میرے پاس اور ہے شیطان انسان کو (عین موقع پر ) چھوڑ جانے والا (یعنی دغا دینے والا) ‘‘۔ ان آیات سے یہ بات معلوم ہے کہ بری صحبت انسان کو جہنم کی آگ تک پہنچا دیتی ہے۔
اگر مذکورہ بالا اُمور کو مدنظر رکھا جائے تو یقینا ہمارے گھر مثالی گھرانوں کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے گھرانوں کی اصلاح فرما کر انہیں مثالی گھرانوں میں تبدیل فرمائے، آمین !

یہ بھی پڑھیں: -   وہ ترک ناداں کون تھا جس نے خلافت کی قبا چاک کی؟
Allama Ibtisam Elahi Zaheer
علامہ ابتسام الہی ظہیر

مصنف کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں