columns of Javed Chaudhary 130

شہباز شریف کیا سوچ رہے ہیں؟

میں نے ایک بار میاں شہباز شریف سے پوچھا تھا’’ چوہدری نثار آپ دونوں بھائیوں کے سب سے قریبی اور پرانے دوست کیوں ہیں؟‘‘ مجھے آج بھی یاد ہے میاں شہباز شریف نے فوری طور پر جواب دیا تھا ’’چوہدری صاحب میں تین خوبیاں ہیں‘ یہ ایمان دار ہیں‘ ایک پیسے کے روادار نہیں ہیں‘ دوسرا یہ ذہنی طور پر بہت طاقتور ہیں‘ آپ ان کے سامنے کوئی بھی مسئلہ رکھ دیں یہ چند لمحوں میں اس کا حل تجویز کر دیں گے‘ لوگوں کی شکل دیکھ کر ان کا اندر جان جاتے ہیں اور تیسری خوبی یہ منافق نہیں ہیں‘ یہ سامنے بھی وہی ہیں جو یہ پیٹھ پیچھے ہیں اور میاں نواز شریف اور میں دونوں ان کی ان خوبیوں کے فین ہیں‘‘۔

میاں شہباز شریف نے یہ تجزیہ چوہدری نثار کی میاں نواز شریف سے ناراضگی سے پہلے دیا تھا اور میں بڑی حد تک اس سے اتفاق کرتا ہوں تاہم چوہدری صاحب میں ایک چوتھی خوبی بھی ہے‘یہ ضد کے بہت پکے ہیں‘ یہ جب تک میاں نواز شریف کے ساتھ تھے تو یہ ان کے ساتھ تھے‘ انھیں کوئی ان سے الگ نہیں کر سکا لیکن یہ جب الگ ہوئے تو پھر یہ بیگم کلثوم کے انتقال پر بھی تعزیت کے لیے میاں نواز شریف کے پاس نہیں گئے۔

میاں شہباز شریف نے انھیں قائل کرنے کی کوشش کی ‘ ان کو سمجھایا آپ کو بھابھی کلثوم کی تعزیت ضرور کرنی چاہیے لیکن ان کا جواب تھا ’’میں گیا اور اگر اس کے بعد پرویز رشید نے میرے خلاف بیان دے دیا تو؟‘‘ میاں شہباز شریف نے سینے پر ہاتھ رکھ کر جواب دیا تھا ’’پرویز رشید ایک لفظ نہیں بولیں گے‘ میں گارنٹی دیتا ہوں‘‘ چوہدری صاحب نے ’’ٹھیک ہے‘‘ کہا لیکن اس کے باوجود انھوں نے میاں نواز شریف سے تعزیت نہیں کی‘ یہ اس قدر ضدی ہیں۔ میاں نواز شریف کے ساتھ ان کے اختلافات 12 اکتوبر 1999 کو اسٹارٹ ہو گئے تھے۔
حسین نواز نے چوہدری نثار کو فوجی جیپ میں بیٹھ کر وزیراعظم ہاؤس سے جاتے دیکھا تھا جب کہ باقی تمام لوگ حراست میں تھے‘ یہ منظر حسین نواز کے ذہن میں بیٹھ گیا اور اس کے بعد انھوں نے کبھی چوہدری نثار کو قبول نہیں کیا تاہم میاں نواز شریف اپنے بچوں کے دباؤ کے باوجود چوہدری نثار کے ساتھ چلتے رہے لیکن یہ دوستی پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد ٹوٹ گئی‘ چوہدری نثار کے بقول میں نے میاں صاحب سے پوچھا تھا آپ یا آپ کے بچوں نے کوئی گڑ بڑ تو نہیں کی‘ اگر کوئی گڑ بڑ ہے تو آپ ہمیں بتا دیں‘ ہم سب مل کر آپ کو بحران سے نکال لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: -   ایک ’’دُکھی‘‘ بابا!

میاں صاحب نے جواب دیا تھا‘ ہم مکمل طور پر کلیئر ہیں اور میرے بچے یہ ایشو ہینڈل کر لیں گے لیکن آخر میں میاں صاحب کے بچے اپنے آپ کو کلیئر نہ کر سکے‘ یہ میرے لیے قابل قبول نہیں تھا‘ چوہدری نثار میاں نواز شریف دور کے آخری مہینوں میں خود کو فاصلے پر بھی محسوس کرتے تھے‘ میاں صاحب صرف اسحاق ڈار تک محدود ہو گئے تھے‘ خواجہ آصف کے ساتھ ان کے اختلافات 2012 سے چلے آ رہے تھے‘ یہ اپوزیشن لیڈر تھے اور انھوں نے ایک تقریر کی وجہ سے خواجہ آصف کو سب کے سامنے جھاڑ دیا تھا اور خواجہ آصف نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دے دیا۔

لہٰذا دونوں کے درمیان آج تک بول چال بند ہے جب کہ پرویز رشید یہ سمجھتے ہیں ’’ڈان لیکس‘‘ کے بعد چوہدری نثار نے انھیں وزارت سے ہٹوایا تھا‘ یہ بھی ان کے خلاف بیان دینے سے نہیں چوکتے‘ بہرحال پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد چوہدری نثار نے کابینہ کے اجلاس میں سب کے سامنے میاں نواز شریف کو اس بحران کا ذمے دار قرار دیا اور تعلقات کا دھاگا ٹوٹ گیا‘ چوہدری نثار کے پاس اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے کا چانس تھا‘ یہ اگر ایک قدم اٹھا لیتے تو یہ آج وزیراعلیٰ پنجاب ہوتے یا ڈپٹی پرائم منسٹر ہوتے لیکن یہ کردار کے پکے ہیں لہٰذا انھوں نے تمام آفرز ٹھکرا دیں۔

ہم اب ان کے پنجاب اسمبلی کے حلف کی طرف آتے ہیں‘ میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار سیاسی مفاہمت کے پرانے داعی ہیں‘ یہ فوج کو ملک کی سب سے بڑی حقیقت مانتے ہیں اور ان کا خیال ہے پاکستان میں کوئی پارٹی اور کوئی لیڈر فوج کو ناراض کر کے حکومت نہیں کر سکتا خواہ وہ ذوالفقار علی بھٹو ہی کیوں نہ ہو‘ یہ دونوں اب مفاہمت کی آخری کوشش کے لیے میدان میں آئے ہیں‘ میاں شہباز شریف لندن جا کر میاں نواز شریف کے سامنے اپنا آخری ’’مفاہمتی ایجنڈا‘‘ رکھنا چاہتے ہیں‘ اس ایجنڈے کے تین نکتے ہیں‘ میاں نواز شریف اور مریم نواز دونوں اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ بند کر دیں۔

یہ خاموشی کا روزہ رکھ لیں اور کسی قسم کی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہ لیں‘ دوسری طرف حمزہ شہباز بھی پس پردہ چلے جائیں گے‘ پارٹی کا اگلا سربراہ کون ہوگا یہ فیصلہ وقت پر چھوڑ دیا جائے‘ دو‘ہم احتجاجی سیاست چھوڑ کر صرف اور صرف 2023 کے الیکشنز پر توجہ دیں‘ ہم کسی نہ کسی طرح یہ ضمانت لے لیں اگلے الیکشنز غیر جانب دار اور شفاف ہوں گے‘ ہم اگر اسٹیبلشمنٹ کو اس کے لیے راضی کر لیتے ہیں تو ہم میچ جیت جائیں گے ورنہ 2023 کا الیکشن ہمارے لیے آخری ثابت ہو گا‘ 2028 میں کون زندہ رہتا ہے اور ملک اور خطے کی کیا صورت حال ہوتی ہے یہ پیشن گوئی آسان نہیں اور تین ملک بحران کا شکار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: -   عمران خان نے کہاں سب کو پیچھے چھوڑا

کوئی ایک پارٹی اکیلی اس بحران سے نہیں نبٹ سکتی چناں چہ ہمیں 2023 میں قومی حکومت بنانی چاہیے‘ صوبوں میں جو پارٹی اکثریت حاصل کر لے اسے حکومت بنانے کا موقع دے دیا جائے اور وفاق میں بھی تمام پارٹیوں کو اقتدار میں شریک کر کے ملک کو بحران سے نکالا جائے‘ ہم اگر آپس میں لڑتے رہے تو ملک کو بچانا اور چلانا مشکل ہو گا‘ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی نیا عمرانی معاہدہ کیا جائے‘ ہم ان کی ڈومین میں نہ جائیں اور انھیں اپنی ڈومین میں نہ آنے دیں‘ یہ معاہدہ ملک کی بقاء کے لیے ضروری ہے۔

میاں شہاز شریف کا خیال ہے یہ ان کی بڑے بھائی کے ساتھ آخری سیاسی گفتگو ہو گی‘ میاں نواز شریف اگر مان جاتے ہیں‘ یہ انھیں ’’فل چارج‘‘ دے دیتے ہیں اور مریم نواز کو ’’سائیڈ ٹریک‘‘ کر دیتے ہیں تو پھر یہ اپوزیشن اور فیصلہ ساز قوتوں کے ساتھ ڈائیلاگ کریں گے لیکن اگر میاں صاحب نہیں مانتے تو یہ سیاست کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیں گے‘ یہ پارٹی میں رہیں گے لیکن اپنی باقی زندگی شریف ٹرسٹ کے لیے وقف کر دیں گے‘ ویلفیئر کا کام کریں گے‘ کتابیں پڑھیں گے اور اپنی صحت پر توجہ دیں گے۔

پارٹی کے سینئر قائدین بھی میاں شہباز شریف سے متفق ہیں‘ یہ اب برملا کہتے ہیں ہم نے ووٹ کو عزت دے کر دیکھ لیا اور ہم نے احتجاجی تحریک بھی چلا کر دیکھ لی‘ کیا نتیجہ نکلا لہٰذا ہمیں اب مفاہمت کی طرف بڑھنا چاہیے ورنہ پارٹی اور ملک دونوں خطرے کا شکار ہو جائیں گے‘ میاں شہباز شریف بڑے بھائی کے مشیروں سے بھی خوش نہیں ہیں‘ یہ انھیں مارکسی ذہن کے خوش فہم لوگ کہتے ہیں‘ ان کا کہنا ہے یہ لوگ 1917کے روس سے باہر نہیں نکلے‘ یہ لوگ بھول جاتے ہیں لینن کو بھی انقلاب سے پہلے جان بچانے کے لیے فن لینڈ میں پناہ لینا پڑ گئی تھی۔

یہ آج بھی اس دن کو یاد کرتے ہیں جب میاں نواز شریف جی ٹی روڈ مارچ کے بعد لاہور پہنچے تھے‘ چھوٹے بھائی نے بڑے بھائی سے ملاقات کا وقت مانگا‘میاں نواز شریف اگلے دن چھوٹے بھائی کی رہائش گاہ پہنچ گئے‘ ملاقات میں صرف تین لوگ شامل تھے‘دونوں بھائی اور سلیمان شہباز‘ یہ اڑھائی گھنٹے طویل ملاقات تھی اور دونوں بھائیوں کے درمیان پہلی بار لمبی سیاسی نشست ہوئی تھی‘ چھوٹا بھائی بولتا رہا اور بڑا سنتا رہا‘ میاں شہباز شریف نے آخر میں میاں نواز شریف کے پاؤں کو ہاتھ لگا کر کہا ‘آپ لڑنے کی غلطی نہ کریں‘ یہ لوگ اس بار جدہ کی غلطی نہیں دہرائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: -   عمران خان کی ’’گڈ گورننس‘‘

یہ ہمارا کاروبار بھی تباہ کر دیں گے اور پارٹی بھی پھیتی پھیتی (ٹکڑے ٹکڑے) کر دیں گے‘ چھوٹے بھائی کا کہنا تھا ہمارے ووٹرز صرف ووٹرز ہیں‘ یہ انقلابی نہیں ہیں‘ یہ ہمیں دل کھول کر ووٹ دے دیں گے لیکن آپ اگر یہ توقع کرتے ہیں یہ ہمارے لیے خون دیں گے تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے‘ ہمیں حالات کو سمجھنا ہو گا‘ میاں نواز شریف اپنے چھوٹے بھائی کی بات مان گئے‘ یہ خاموش رہنے اور 2018 کے الیکشنز پر فوکس کرنے کا وعدہ کر کے رائے ونڈ چلے گئے لیکن رائے ونڈ پہنچتے ہی انھوں نے ایک بار پھر ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگا دیا۔

شہباز شریف سمجھتے ہیں ہم نے 2018کا الیکشن اس دن ہار دیا تھا‘یہ مانتے ہیں عمران خان کو لیڈر ہم نے بنایا تھا‘ یہ ن لیگ تھی جس نے عمران خان کو اقتدار تھالی میں رکھ کر پیش کیا تھا‘ ہم اگر غلطیاں نہ کرتے‘ ہم اگر درمیان کا راستہ اختیار کرتے تو عمران خان کبھی ایوان اقتدار میں قدم نہ رکھ سکتے‘ یہ اب بھی یہ سمجھتے بیر زمین پر گرے ہوئے ہیں اور یہ انھیں چن کر واپس ٹوکری میں رکھ سکتے ہیں لیکن اگر 2023کا موقع بھی ضایع ہو گیا تو شاید واپسی کا کوئی راستہ نہ بچے لہٰذا یہ اپنے بھائی سے اکیلے میں آخری سیاسی ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔

ایک ایسی ملاقات جس میں فیملی کا کوئی شخص موجود نہ ہو اور اس ملاقات میں جو طے ہو میاں نواز شریف اس بار اس پر من وعن عمل کریں‘ یہ کسی مارکسی ساتھی یا نسیم حجازی کو اس فیصلے کو سبوتاژ کرنے کا موقع نہ دیں‘ ملک‘ پارٹی اور خاندان تینوں بچ جائیں گے ورنہ دوسری صورت میں سب کچھ برباد ہو جائے گا۔

columns of Javed Chaudhary
جاوید چودھری

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں