Columns of Attaul-Haq Qasmi 165

پاکستان سے سچی محبت کرنے والے دو پاکستانی!

’’میں ان دنوں بہت ڈرا ڈرا اور سہما سہما سا رہتا ہوں‘‘

’’میں نے تمہیں کئی دفعہ سمجھایا ہے۔ ہر دس منٹ بعد آئینے میں اپنی شکل نہ دیکھا کرو‘‘

’’ویری فنی! (VERY FUNNY)‘‘

’’اس میں فنی ہونے کی کون سی بات ہے۔ میں تو تمہارے خوف کا علاج بتا رہا ہوں!‘‘

’’دیکھو یار، ملک اور قوم پر جو برا وقت آیا ہے اس کا حل ہمیں سنجیدگی سے سوچنا چاہئے۔ غربت، افلاس، مہنگائی، بدامنی اور دہشت گردی کے ستائے ہوئے لوگ پاکستان کے مستقبل سے مایوس ہونے لگے ہیں‘‘۔

’’یہ تم کن لوگوں کی بات کر رہے ہو؟‘‘

’’میں اپنی بات کر رہا ہوں۔ میں تمہاری بات کر رہا ہوں‘‘

’’تم اپنی بات کرو۔ اس ’’حافظ جی‘‘ کو خواہ مخواہ درمیان میں نہ لاؤ!‘‘

’’کیا تم پاکستانی نہیں ہو؟‘‘

’’میں تم سے زیادہ پاکستانی ہوں۔ میں نے اپنی کار پر آئی لو پاکستان (I Love Pakistan) کا اسٹکر لگوایا ہوا ہے، تم نے تو اپنی کار پر یہ اسٹکر نہیں لگوایا!‘‘

’’یہ اسٹکر میرے دل پر چسپاں ہے، لیکن کیا اپنی ڈیڑھ کروڑ کی کار پر دس بیس کا اسٹکر لگانے سے تم نے حب الوطنی کا حق ادا کر دیا ہے؟‘‘

’’کمال ہے تم میری حب الوطنی پر شک کرتے ہو۔ میں ہر پانچ چھ مہینے کے بعد پاکستان کا چکر لگاتا ہوں، اپنے حلقے کے لوگوں سے ملتا ہوں، ان کے مسائل سنتا ہوں انہیں حل کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور پھر واپس امریکہ چلا جاتا ہوں۔ اس سے زیادہ حب الوطنی کیا ہو سکتی ہے کہ دہری شہریت ہونے کے باوجود میں الیکشن پاکستان کی کسی سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر لڑتا ہوں!‘‘

یہ بھی پڑھیں: -   محرم الحرام اور قومی سلامتی

’’اور پھر ایم این اے منتخب ہو کر خریدی ہوئی ٹکٹ اور الیکشن کے دوسرے اخراجات پورے کرنے کے علاوہ کروڑوں اربوں کی لوٹ مار کر کے واپس اپنے وطن لوٹ جاتے ہو!‘‘

’’یار، یہ تم کیسی بیہودہ باتیں کر رہے ہو، میرا وطن صرف امریکہ نہیں، پاکستان بھی ہے۔ میرے پاس ان دونوں ملکوں کی دہری شہریت ہے!‘‘

’’اسے دہری شہریت نہیں، دوغلی شہریت کہتے ہیں! ایک شخص بیک وقت دو ایسے ملکوں کا وفادار کیسے ہو سکتا ہے جن کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہوں۔میری باتوں سے تمہاری دل شکنی ہوگئی۔ تم واقعی سینکڑوں بلکہ ہزاروں سے بہتر ہو۔ تبھی تو میں تمہارے سامنے ملک و قوم کو درپیش خطرات کے حوالے سے اپنی پریشانی ڈسکس کر رہا تھا!‘‘

’’تو چلو پھر دوبارہ شروع ہو جاؤ!‘‘

’’میں کہہ رہا تھا کہ غربت، افلاس، مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی اور دہشت گردی نے عوام کے دماغ ماؤف کر دیئے ہیں۔ ہمیں ان کا اعتماد بحال کرنے کے لئے کچھ کرنا چاہئے!‘‘

’’جب کوئی ملک اس درجہ شدید بحران سے دوچار ہو تا ہے۔ اسے اس بحران سے نکالنے کے لئے نہایت اعلیٰ درجے کی قیادت درکار ہوتی ہے۔ ایسی قیادت جسے اپنے نہیں ملک و قوم کے مفادات عزیز ہوں، جو دیانت دار ہو، کرپشن سے پاک ہو، جس کی کریڈیبلٹی ہو، جسے عوام کا بھرپور اعتماد حاصل ہو۔ کیا تمہارے پاس ایسی انقلابی قیادت موجود ہے؟‘‘

’’میں نے تمہیں سوالات پوچھنے کے لئے نہیں، صورتحال کا کوئی حل سوچنے کے لئے کہا ہے!‘‘

’’حل تو پھر یہی ہے کہ ہم سب لوگ اپنی اپنی جان بچائیں۔ میں نے ایک ایک کر کے اپنے پورے خاندان کو امریکہ سیٹل کر دیا ہے۔ تم اگر چاہو تو میں تمہارے لئے بھی کوشش کر سکتا ہوں!‘‘

یہ بھی پڑھیں: -   آسانیاں

’’میں اس وقت مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں۔ مجھے تمہاری سنجیدگی کی ضرورت ہے!‘‘

’’تم ایک طرف میری حب الوطنی کا مذاق بھی اڑاتے ہو اور مجھ سے پاکستان کے مسائل کا حل بھی پوچھتے ہو!‘‘

’’دراصل جس کام میں تمہارا کوئی ذاتی نقصان نہ ہو، تم اسی معاملے میں صحیح مشورہ دیتے ہو۔ ویسے بھی تمہیں امریکہ میں رہتے ہوئے بیس سال ہو چکے ہیں، تم ان کی حکومت کے طریق کار اور ان سے معاملات طے کرنے کی تکنیک سے واقف ہو چنانچہ تمہارے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں ان مسائل کے حوالے سے تمہارا مشورہ چاہتا ہوں جن مسائل کا بالواسطہ یا بلا واسطہ تعلق امریکہ سے ہے!‘‘

’’اب تم صحیح ٹریک پر آئے ہو۔ میرے نزدیک مسئلے کا حل امریکہ کے پاس نہیں خود ہمارے اپنے پاس ہے۔ ہم امریکہ کی مکمل طور پر چھٹی کرا دیں یا خلیجی ملکوں کی طرح ان کی مکمل غلامی قبول کریں۔‘‘

’’تمہارے بتائے ہوئے دونوں حل کی زد میں غریب عوام ہی آئیں گے وہ تو پہلے ہی بمشکل زندگی گزار رہے ہیں۔دونوں صورتوں میں ملک بہت خطرات کا شکار ہو گا۔‘‘

’’تم صحیح سمجھے ہو۔ مگر خطرات کے دانشمندانہ مقابلہ سے ملک بچ سکتا ہے، مگر ان دو صورتوں میں تم سب کو بہت بڑی بڑی قربانیاں دینا ہوں گی‘‘

’’تو کیا مجھے بھی؟‘‘

’’ہاں‘‘

’’مجھے اپنے بچے، ایچی سن کالج سے اٹھا کر کارپوریشن کے اسکول میں داخل کرانا پڑیں گے؟‘‘

’’ہاں، یہ تو کرنا پڑے گا!‘‘

’’تو کیا موسم گرما ہمیں پاکستان ہی میں گزارنا پڑے گا؟‘‘

یہ بھی پڑھیں: -   کہانی ایک لفظ کی

’’ظاہر ہے!‘‘

’’تمہارے مشورے پر عمل کرنے سے مجھے اپنے گھر کے اے سی بھی اتارنا ہوں گے اوردوسرے عوام کی طرح لوڈ شیڈنگ کا عذاب سہنا ہو گا؟‘‘

’’ہاں، ان دونوں صورتوں میں یہ سب کچھ کرنا ہو گا اور اس وقت تک کرنا ہو گا جب تک ہم مسائل پر قابو نہیں پا لیتے!‘‘

’’اگر ہم یہ سب کچھ نہیں کرتے تو کیا ہو گا؟‘‘

’’وہی ہو گا جو اب ہو رہا ہے اور آگے چل کر اس نے مزید ہولناک صورت اختیار کرنا ہے!‘‘ ’’واقعی؟‘‘

’’ہاں، میں صحیح کہہ رہا ہوں!‘‘

’’یار وہ تم کچھ دیر پہلے میرے لئے امریکی شہریت کے حصول کی بابت کچھ کہہ رہے تھے۔ میں پاکستان سے شدید محبت کرتا ہوں مگر یہ محبت پاکستان سے باہر رہ کر بھی تو کی جا سکتی ہے۔ میں اس مسئلے پر کل تمہاری طرف آ کر تفصیل سے بات کروں گا!‘‘

Attaul-Haq-Qasmi
عطاءالحق قاسمی

کالم نگار کے مزید کالمز پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں