Khursheed Nadeem 97

اسلامی نظریاتی کونسل اور خطبہ جمعہ

اسلامی نظریاتی کونسل ایک بار پھر اعتراضات کی زد میں ہے مگر ایک مختلف عنوان سے۔
علما کے ایک طبقے کا کہنا ہے کہ تمام قوانین کی اسلامی تشکیل کے لیے کونسل اپنی سفارشات دے چکی‘ اس کا کام تمام ہوا، اس لیے اس کی صف کو اب لپیٹ دینا چاہیے۔ ان علما کی فوری ناراضی کا سبب یہ خبر ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل ماڈل جمعہ خطبات مرتب کر رہی ہے تاکہ خطبا کو یہ بتایا جا سکے کہ کون کون سے سماجی مسائل ان کی توجہ کے مستحق ہیں اور کن امور پر معاشرے کو تعلیم کی ضرورت ہے۔ بین السطور یہ کہا جا رہا ہے کہ چونکہ کونسل کے پاس کرنے کو کچھ باقی نہیں ہے، اس لیے اب وہ اس طرح کے غیر ضروری امور کو زیرِ بحث لا رہی ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل ایک قومی اور آئینی ادارہ ہے جو تنقید سے ماورا نہیں۔ جب یہ قوم کا ادارہ ہے تو ہر شہری یہ حق رکھتا ہے کہ اس کی کارکردگی کو زیرِ بحث لائے اور اس پر تنقید کرے‘ تاہم یہ کام اگر علما کریں تو اس میں زیادہ سنجیدگی کی توقع کی جاتی ہے اور یہ حسنِ ظن غالب رہتا ہے کہ ان کی تنقید اصلاح کیلئے ہے اور اس پر کان دھرے جائیں تو بہتری کے مزید دروازے وا ہو سکتے ہیں۔ مجھے زیرِ نظر تنقید اس معیار پر پورا اترتی محسوس نہیں ہوئی۔ خطبات کے باب میں اس بات کو نظرانداز کیا گیا کہ اس کی نوعیت ایک تجویز کی ہے نہ کہ حکم کی۔ کونسل کی پریس ریلیز اور خود ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب نے‘ جو چیئرمین ادارہ ہیں، اس بات کو بغیر کسی ابہام کے واضح کر دیا ہے۔ کونسل کی یہ مشقت اس لیے ہے کہ نہ صرف علما کو انکی سماجی ذمہ داری کی طرف متوجہ کیا جائے بلکہ ماڈل جمعہ خطبات کی صورت میں ان کو علمی معاونت بھی فراہم کی جائے۔
یہ واقعہ ہے کہ خطباتِ جمعہ اپنی افادیت کھوتے جا رہے ہیں۔ عوام الناس کی اکثریت کو ان سے کوئی دلچسپی نہیں۔ لوگ دوسری اذان کے ساتھ آتے، بلا سمجھے عربی خطبہ سنتے، نماز پڑھتے اور مسجد سے بھاگ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ عوام کی اس بیزاری کا سبب کیا ہے؟ کیا ہمارے علما نے کبھی اس سوال پرغور کیا ہے؟
اس سوال کا جواب مشکل نہیں۔ خطباتِ جمعہ کے موضوعات کا سماج سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں تمام خطبا، الا ما شااللہ، مدارس کے فارغ التحصیل ہیں جو اسلام کے نام پر ایک خاص مسلکی تعلیم کے حصول کے بعد، خطیب بن جاتے ہیں۔ وہ اب منبر پر وہی کچھ بیان کرتے ہیں جو انہوں نے پڑھا ہوتا ہے۔ مدارس کی نصاب میں سماجی علوم نہیں پڑھائے جاتے۔ مذہب معاشرے سے کیسے متعلق ہوتا ہے اور اس کی بہتری میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے، یہ سوال کبھی زیرِ بحث نہیں آتا۔ یوں خطبا کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ محراب و منبر کا سماجی کردار کیا ہے اور انہیں کیسی بڑی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
قرآن مجید نے بتایا ہے کہ پوری قوم دینی علوم کی ماہر نہیں ہو سکتی اس لیے لازم ہے کہ ان میں ایک طبقہ ایسا ضرور ہو جو تفقہ فی الدین پیدا کرے اور اس کے بعد اپنی قوم میں انذار کی ذمہ داری ادا کرے (سورہ توبہ 9:122)۔ انذار کا مطلب یہ ہے کہ قوم کو آخرت کے بارے میں خبردار کیا جائے اوریاد دلایا جاتا رہے کہ انہیں مرنا اور خدا کے حضور میں جوابدہ ہونا ہے۔ خدا کے حوالے سے ان کی ذمہ داری کیا ہے اورعوام کے ساتھ ان کے تعلق کی نوعیت کیاہے؟ اسے ہم عام طور پر عبادات اور معاملات کے عناوین کے تحت بیان کرتے ہیں۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ علما و خطبا کو اس ذمہ داری کی طرف متوجہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی کیا کہ چند اہم سماجی معاملات کے بارے میں خطابت مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ خطیب حضرات کو بتایا جا سکے کہ ان امور میں دین کیا حکم دیتا ہے۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ علما اور خطیب، کونسل کا شکریہ ادا کرتے اور اس یاددہانی پر اس کے لیے دعاگو ہوتے مگر جو ہوا، وہ ا س کے برعکس تھا۔ اظہار ناراضی اور مداخلت فی الدین کا الزام۔
ہمارے ہاں دینی تعلیم کی تشکیل جن خطوط پر ہوئی ہے، ان میں دعوت کا پہلو پیشِ نظر نہیں رکھا گیا۔ اس نے صرف مسلکی مبلغ پیدا کیے اور انہوں نے اگر کوئی خدمت سرانجام دی تو یہی کہ اپنے مسلک کے حق میں دلائل فراہم کیے۔ علم کی دنیا میں اس کی بھی کوئی اہمیت ہوگی لیکن یہ سماج کی ضرورت نہیں۔ سماجی ضرورت تو عام آدمی کی مذہبی تعلیم ہے۔ اسے معلوم ہوکہ مسلم شناخت کا مطلب کیا ہے؟ مسلمان ایک اسمِ صفت ہے اوراس کا اطلاق ایک خاص کردار کی حامل شخصیت ہی پر ہو سکتا ہے۔ اللہ کے آخری رسولﷺ جب یہ فرماتے ہیں کہ جس کا عہد نہیں، اس کا ایمان نہیں تو اس کا مطلب کیا ہے؟ یہ فقہی یا قانونی بحث کہ مسلمان کون ہوتا ہے، علمی حلقوں اور عدالتوں کے لیے موزوں ہے، سماج کے لیے نہیں۔
اب سماج کو کیا دین سکھانا چاہیے، اس کی تعلیم کا کوئی اہتمام مدارس میں نہیں کیا جاتا ہے۔ اس لیے میرا یہ خیال رہا ہے کہ عالم کی طرح دینی خطبا اور واعظین کی تیاری کا الگ نصاب ہونا چاہیے۔ اس کے نصاب میں علما کا سماجی کردار، دعوت کے آداب، سماج کے زندہ مسائل اور اسلام، معاشرے کی اسلامی تشکیل، اسلامی کردار، سماجی اور بین المذاہب تعلقات جیسے موضوع شامل ہوں۔
اس کے ساتھ وہ مہارتیں (skills) سکھائی جائیں جو موثر ابلاغ کے لیے ضروری ہیں۔ اس باب میں رسالت مآبﷺ کا اسوہ کیا تھا، صحابہؓ کے معمولات کیسے تھے؟ بات کیسے کی جانی چاہے؟ مخاطب کی ذہنی صلاحیت کی کیا اہمیت ہے؟ جب لوگ دین سے دور ہورہے ہوں تو انہیں کیسے متوجہ کیا جائے؟ ایک خطیب اگر ان مہارتوں کا حامل نہیں تو وہ لوگوں کے لیے دین سے دوری کا باعث بن سکتا۔
اسی طرح یہ سکھانا بھی بہت ضروری ہے کہ مسجد میں صرف ایک مسلک کے لوگ نہیں آتے۔ اس لیے مسلکی نقطہ ہائے نظر کے بیان کے لیے مسجد کا منبر مناسب نہیں۔ ان تمام امور کی تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ خطبا کے لیے الگ نصاب اور نظامِ تربیت ہو۔ تدریس کا موجودہ نظام اس ضرورت کو پورا نہیں کرتا۔ اس کے لیے حدیث جبریل کو راہنما بنانا چاہیے۔ اسی طرح مولانا روم کی بعض حکایات بہت اہم ہیں جنہیں نصاب کا حصہ ہونا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے ایک الگ ڈگری پروگرام ہونا چاہیے اور اس کے حامل ہی خطیب اور امام بنیں۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے اسی کمی کو پورا کرنے کی ایک کوشش کی ہے۔ اس کی نوعیت ترغیب اور دعوت کی ہے۔ یہ کوئی جبر کا معاملہ نہیں کہ خطیب حضرات اس کے پابند بنائے جا رہے ہیں۔ اس لیے جتنی بات ہے، اس کو اتنا ہی بیان کیا جائے توکونسل کی یہ سفارش تحسین کی مستحق ہے۔ علما کو آگے بڑھ کر اس کیا خیرمقدم کرنا چاہیے۔ اگر اس تجویز پر عمل ہو سکے تو اس سے نہ صرف محراب و منبر سماجی اصلاح میں ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں بلکہ مسجد اور معاشرے کے مابین دوری بھی ختم ہو سکتی ہے۔
میں نے اس بحث سے دانستہ صرفِ نظر کیا ہے کہ جمعہ کا فورم اصلاً ریاست کے لیے ہے۔ میں نے سماجی تعامل کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کونسل کی سفارش کا جائزہ لیا ہے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ اس پر خوش ہونے کے بجائے، علما اتنے ناراض ہوئے کہ کونسل کے خاتمے ہی کا مطالبہ کرڈالا۔

یہ بھی پڑھیں: -   ثمرات آنا شروع ہوگئے
Khursheed Nadeem
خورشید ندیم

تکبیر مسلسل

کالم نگار کے مزید کالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں